’القصار‘ سعودی عرب کا 9 ہزار سال پرانا گاؤں 

اس تاریخی یادگار گاؤں کے مکان گارے، پتھروں اور کھجور کے تنوں سے بنائے گئے ہیں اور ان کے کھنڈرات اور باقیات آج بھی موجود ہیں۔

تصویر العربیہ ڈاٹ نیٹ
تصویر العربیہ ڈاٹ نیٹ

قومی آوازبیورو

سعودی عرب کے جنوب میں جزیرہ فرسان کے وسط میں ایک ایسا گاؤں بھی آباد ہے جو آج سے ہزاروں سال پہلے سے موجود ہے۔ پانی کے چشموں کھجوروں کے نخلستان کے درمیان واقع اس گاؤں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ 9 ہزار سال پرانا ہے۔ اس تاریخی یادگار گاؤں کے مکان گارے، پتھروں اور کھجور کے تنوں سے بنائے گئے ہیں اور ان کے کھنڈرات اور باقیات آج بھی موجود ہیں۔

‘القصار’ ہیریٹیج ویلج ایک تاریخی اور سیاحتی مقام ہے۔ یہ جازان سے 40 کلومیٹر دور بحیرہ احمر کے جنوب مشرقی کنارے پر واقع ہے۔

یہ گاؤں جزیرہ فرسان میں کھجور کا سب سے بڑا نخلستان ہے اور کھجور کے درختوں سے گھرا ہوا ہے۔ اس میں موجود عمارتیں قومی تاریخی ورثے کا حصہ اور سیاحوں کی توجہ کا خاص مرکز ہیں۔ سعودی عرب کی جنرل اتھارٹی برائے سیاحت اور قومی ورثہ نے ثقافتی ورثہ کے تحفظ اور سیاحت کو فروغ دینے کے منصوبوں کے ایک حصے کے طور پر اس گاؤں کو محفوظ بنانے کی ہرممکن کوشش کی  ہے۔

مملکت کے آثار قدیمہ، عجائبات کے محقق اور سعودی ایسوسی ایشن آف ٹور گائیڈز کے ایک رکن طراد العنزی نے ’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘ سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ "مؤرخین کے مطابق یہ گاؤں رومن عہد کا ہے۔ اس میں نوشتہ جات اور نقاشی بھی شامل ہیں، جب کہ 400 پرانے مکانات آج بھی موجود ہیں۔ یہ بستی حمیری دور سے ہی کھجوروں اور پانی کے چشموں کی وجہ سے مشہور ہے۔

انہوں نے مزید کہا القصار گاؤں میں سیاحوں کی سہولت کے لیے ریستوران اور لوک کیفے ، فرسانی ورثے کا ایک میوزیم اور سمندری دستکاری کی نمائش ، نیز روایتی فرسانی مصنوعات کی کئی دکانیں بھی وہاں موجود ہیں جہاں سیاحت کے لیے آنے والے اپنی پسند کی یادگاری مصنوعات خرید کرتے ہیں۔

(بشکریہ العربیہ ڈاٹ نیٹ)

Published: 15 Sep 2019, 12:10 PM