40 برس سے روایتی ملبوسات سِینے والی سعودی خاتون

ام حمد کا کہنا ہے کہ روایتی ملبوسات بہتوں کے لیے کشش کا باعث ہوتے ہیں کیونکہ روایتی لباس اپنے رنگوں، تنوع اور ہاتھوں سے کی گئی کڑھائی کے ساتھ دیدہ زیب نظر آتے ہیں

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

سعودی خاتون اُمّ حمد الطلحی 40 برس قبل جب اپنی والدہ کو روایتی ملبوسات سیتے ہوئے دیکھا کرتیں تو اُس وقت ان کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ ایک روز وہ خود دست کاری کے اس فن میں مہارت حاصل کر کے اسے ذریعہِ معاش بنا لیں گی۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے ام حمد نے بتایا کہ "وہ بچپن سے ہی روایتی ملبوسات تیار کرنے کا بے پناہ شغف رکھتی تھیں۔ میں نے 40 برس قبل اپنی والدہ سے اس پیشے کا فن سیکھنا شروع کیا۔ میں نے اس میں مہارت حاصل کی اور برس ہا برس کی محنت کے بعد یہ میرا یہ شوق پیشے میں تبدیل ہو گیا۔ میں علاقائی ثقافت کا مظہر بننے والے ملبوسات اور برقعوں کی تیاری کے علاوہ تقریبات اور شادیوں میں پہنے جانے والے کپڑے بھی تیار کرتی ہوں"۔

ام حمد کے مطابق وہ اپنے تیار کردہ ملبوسات میں سونے اور چاندی کے رنگوں کے دھاگوں کے علاوہ رنگین سوتی دھاگوں، سیسے اور ڈھلائی کا استعمال کرتی ہیں۔ ام حمد نے بتایا کہ وہ روایتی ملبوسات کے حوالے سے قدیم انداز پر اکتفا نہیں کرتیں بلکہ انہوں نے اس میدان میں جدید ڈیزائن بھی متعارف کرائے ہیں۔

ام حمد کا کہنا ہے کہ "مارکیٹ میں مختلف انداز اور برانڈز کے جدید ملبوسات بھرپور طریقے سے موجود ہیں، تاہم روایتی ملبوسات بہت سوں کے لیے کشش کا باعث ہوتے ہیں۔ روایتی ملبوسات اپنے رنگوں، تنوع اور ہاتھوں سے کی گئی کڑھائی کے ساتھ دیدہ زیب نظر آتے ہیں۔ خواتین کے عوامی ملبوسات میں سرخ اور سیاہ رنگ کو بنیادی اہمیت حاصل ہے"۔

بشکریہ العربیہ ڈاٹ نیٹ