سعودی عرب کے شمال میں واقع ایک حویلی تہذیب رفتہ کی یادگار

سعودی عرب کی شمالی گورنری 'القریات' واقع ایک پرانی عمارت سیاحوں کی توجہ کا آج بھی مرکز ہے۔ حویلی نما یہ عمارت چونے کے سفید پتھروں سے تعمیر کی گئی ایک پرانی یادگار ہے

بشکریہ العربیہ ڈاٹ نیٹ
بشکریہ العربیہ ڈاٹ نیٹ
user

قومی آوازبیورو

ریاض: سعودی عرب کی شمالی گورنری'القریات' واقع ایک پرانی عمارت سیاحوں کی توجہ کا آج بھی مرکز ہے۔ حویلی نما یہ عمارت چونے کے سفید پتھروں سے تعمیر کی گئی ایک پرانی یادگار ہے۔ یہ عمارت درمیانے درجے کا ایک جنگی قلعہ بھی ہے۔ سعودی عرب کی وزارت ثقافت کی طرف سے 'ٹویٹر' پر اس کی شاندار تصویر شائع کی گئی۔

سعودی عرب میں ٹورم گائیڈ آرگنائزیشن کے رکن طراد العنزی نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ قلعہ نما اس حویلی کا نام'کاف' ہے جو 2700 مربع میٹر پر تعمیر کی گئی ہے۔ یہ عمارت تقریبا ایک سو سال قبل 1338ھ میں تعمیر کی گئی۔ اس کی تعمیر میں چونے پتھروں کا استعمال کیا گیا۔ عمارت کے اطراف میں چار ٹاور ہیں جو اس کی بیرونی دیواروں‌ میں تعمیر کیے گئے ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں‌ طراد العنزی نے بتایا کہ'کاف' محل میں کئی کمرے اور ہال ہیں۔ اس کی تعمیر فن تعمیر کا ایک نمونہ ہے۔ اس کا مرکزی داخلی دروازہ بھی ایک یادگار ہے جس پر 23 رجب 1338ھ کی تاریخ درج ہے۔ اس کے علاوہ ایک پتھر کی سلیپ پر اس عمارت کا ڈیزائن بھی دیکھا جا سکتا ہے۔

حجاز میں آل سعود کی حکومت کے قیام کے بعد یہ محل 1344ھ کو مملکت کے بانی شاہ عبدالعزیز آل سعود کے حوالے کردیا گیا۔ شروع میں اسے مقامی حکومت کے ہیڈ کواٹر کے طورپر استعمال کیا گیا۔ یہاں کئی اہم اورسرکردہ شخصیات اپنے سرکاری فرائض انجام دے چکی ہیں۔

بشکریہ العربیہ ڈاٹ نیٹ


next