سعودی عرب کی 19 سالہ طالبہ کا کارنامہ، اسلحہ اور منشیات کا پتہ چلانے والا آلہ تیار کیا

سعودی عرب میں ایک 19 سالہ لڑکی نے ایسا آلہ تیار کیا ہے جس کے ذریعے دُور سے ہی ہتھیاروں اور منشیات کا پتہ چلایا جا سکتا ہے۔ اس ایجاد کے ملکیتی حقوق کا سرکاری طور پر اندراج ہو گیا ہے

علامتی تصویر
علامتی تصویر
user

قومی آوازبیورو

الریاض: سعودی عرب میں ایک 19 سالہ لڑکی نے ایسا آلہ تیار کیا ہے جس کے ذریعے دُور سے ہی ہتھیاروں اور منشیات کا پتہ چلایا جا سکتا ہے۔ اس ایجاد کے ملکیتی حقوق کا سرکاری طور پر اندراج ہو گیا ہے۔

عسیر میں واقع شاہ خالد یونیورسٹی کی 19 سالہ طالبہ نورہ الحدری نے ایک مقامی روزنامے کو بتایا کہ اس کا تیار کردہ آلہ ارڈینو میگا کنٹرولر سے لیس ہے۔ یہ جدید ترین اور درست ترین طریقے سے اسمگلنگ کو کنٹرول کرتا ہے۔ اس کے علاوہ اس ایجاد میں 4کے کیمرے بھی نصب ہیں۔ نورہ کے مطابق اس مفید آلے کو تیار کرنے میں اسے 4 برس کا عرصہ لگا۔


سعودی طالبہ نے مزید بتایا کہ اس ایجاد کا مقصد ممنوعہ اشیاء اور غیر قانونی اسلحے کا پتہ چلانے میں سیکورٹی اہل کاروں کی مدد کرنا ہے۔ یہ آلہ معاشرے میں امن و امان برقرار رکھنے اور جرائم پر روک لگانے میں مدد گار ثابت ہو گا۔ نورہ کے مطابق اس منصوبے کے دوران میں اسے اپنے گھر والوں اور معلمات کی جانب سے مکمل سپورٹ حاصل رہی۔

نورہ نے بتایا کہ اس کی کم عمری اس ایجاد کو منظور کرانے کی راہ میں رکاوٹ بن گئی۔ متعلقہ اداروں کی جانب سے کسی بھی ایجاد کو سرکاری طور پر منظور کرانے کے لیے کم از کم عمر 21 برس ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔