غزہ: شدید سردی اورعمارتوں کے گرنے سے 4 بچوں سمیت 17 فلسطینی جاں بحق
موسم کی خراب صورت حال کے آغاز کے بعد سے غزہ کی پٹی میں 17 عمارتیں مکمل طور پر منہدم ہو چکی ہیں وہاں کے مکین سیلابی صورتحال سے پریشان ہیں۔

حالیہ موسمی کم دباؤ نے بارشوں اور سیلابی صورت حال کے باعث غزہ کی پٹی کے رہائشیوں اور بے گھر ہونے والے افراد کے مصائب میں کئی گنا اضافہ کر دیا ہے، جس سے ان کے خیمے ڈوب گئے اور مکانات بھی ڈھیر ہو گئے۔ غزہ کی پٹی میں شہری دفاع کے ترجمان محمود بصل نے اعلان کیا ہے کہ شدید سردی اور عمارتوں کے گرنے کے نتیجے میں اب تک 17 شہری جاں بحق ہو چکے ہیں، جن میں چار بچے بھی شامل ہیں جو شدید سردی کی تاب نہ لا سکے۔
ترجمان نے تصدیق کی کہ موسمی خرابی کے آغاز سے اب تک 17 سے زائد رہائشی عمارتیں مکمل طور پر زمین بوس ہو چکی ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ 90 سے زائد رہائشی عمارتوں کو جزوی طور پر شدید نقصان پہنچا ہے اور وہ کسی بھی وقت گر سکتی ہیں، جس سے ہزاروں شہریوں کی زندگیوں کو براہِ راست خطرہ لاحق ہے۔
ترجمان نے اس افسوس ناک صورتحال کی جانب اشارہ کیا کہ غزہ کی پٹی میں تقریباً 90 فی صد پناہ گاہیں سیلابی ریلوں اور بارش کے پانی کی وجہ سے مکمل طور پر ڈوب چکی ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ مختلف علاقوں میں شہریوں کے تمام خیمے متاثر ہوئے اور پانی میں غرق ہو گئے، جس کے نتیجے میں ہزاروں خاندان اپنی عارضی پناہ گاہوں سے بھی محروم ہو گئے۔ اس صورتحال میں لوگوں کے کپڑے، بستر اور کمبل بھی ضائع ہو گئے ہیں، جس نے انسانی المیے کی شدت کو بڑھا دیا ہے۔
محمود بصل کے مطابق موسمی خرابی کے آغاز سے اب تک شہری دفاع کی ٹیموں کو شہریوں کی جانب سے مدد کے لیے 5000 سے زائد کالیں اور اپیلیں موصول ہو چکی ہیں۔ترجمان نے عالمی برادری سے ایک بار پھر فوری مطالبہ کیا ہے کہ شہریوں کی امداد اور ہنگامی انسانی ضروریات کی فراہمی کے لیے فی الفور حرکت میں آئیں، ساتھ ہی اس بات پر زور دیا کہ خیمے غزہ کی پٹی میں (سردی اور بارش سے بچاؤ کے لیے) مکمل طور پر ناکام ثابت ہوئے ہیں۔
انہوں نے متعلقہ اداروں اور بین الاقوامی تنظیموں سے مطالبہ کیا ہے کہ اب قطعی طور پر خیمے نہ بھیجے جائیں، بلکہ فوری طور پر تعمیرِ نو کا عمل شروع کیا جائے اور ایسے محفوظ مکانات فراہم کیے جائیں جو انسانی وقار اور زندگی کے تحفظ کی ضمانت دے سکیں۔ (بشکریہ نیوز پورٹل ’العربیہ ڈاٹ نیٹ، اردو‘)
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔