
سارتھک اور سدھانت کے ساتھ راہل گاندھی
نئی دہلی: لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف اور کانگریس کے سینئر رہنما راہل گاندھی نے سی بی ایس ای کے آن لائن مارکنگ نظام (او ایس ایم) سے متعلق بے ضابطگیوں کو اجاگر کرنے والے طالب علم سارتھک سدھانت اور ان کے ساتھی نیسرگ ادھیکاری کی کھل کر تعریف کی ہے۔ انہوں نے دونوں نوجوانوں سے ملاقات کی ویڈیو جاری کرتے ہوئے مودی حکومت کو نشانہ بنایا اور کہا کہ ملک کے نوجوان صرف سوشل میڈیا ویڈیوز بنانے یا معمولی روزگار تک محدود نہیں ہیں بلکہ وہ سوال اٹھانے اور سچائی تلاش کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
راہل گاندھی نے اپنی پوسٹ میں کہا کہ 18 سالہ سارتھک نے وہ کام کر دکھایا جو بڑے میڈیا ادارے اور تفتیشی صحافی بھی نہیں کر سکے۔ ان کے مطابق سارتھک اور نیسرگ نے سی بی ایس ای کے آن اسکرین مارکنگ نظام سے متعلق کئی سوالات اٹھائے اور ان کے جوابات تلاش کرنے کی کوشش کی۔
Published: undefined
ملاقات کے دوران سارتھک نے بتایا کہ انہیں اس معاملے میں دلچسپی اس وقت پیدا ہوئی جب نیسرگ ادھیکاری، جو خود کو ایتھیکل ہیکر بتاتے ہیں، نے سی بی ایس ای کے آن لائن نظام میں موجود کمزوریوں کے بارے میں معلومات فراہم کیں۔ بعد میں انہوں نے مختلف دستاویزات اور ٹینڈر کی تفصیلات کا مطالعہ کیا اور یہ جاننے کی کوشش کی کہ لاکھوں طلبہ کے مستقبل سے جڑا نظام اتنا غیر محفوظ کیوں ہے۔
سارتھک نے دعویٰ کیا کہ متعلقہ کمپنی کے انتخاب سے پہلے ٹینڈر کی شرائط کئی مرتبہ تبدیل کی گئیں اور بعض قواعد کو دوبارہ لکھا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ایک 18 سالہ طالب علم نظام میں خامیاں تلاش کر سکتا ہے تو متعلقہ اداروں کو پہلے ہی ان مسائل کی نشاندہی کر لینی چاہیے تھی۔ انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ حفاظتی جانچ مناسب انداز میں نہیں کی گئی جس کے باعث طلبہ کے ڈیٹا اور جوابی کاپیوں کے تحفظ پر سوالات پیدا ہوئے۔
Published: undefined
ویڈیو میں راہل گاندھی نے ہندوستانی تعلیمی نظام پر بھی تنقید کی اور کہا کہ یہ نظام اکثر بچوں کی تجسس پسندی کو دبانے کی کوشش کرتا ہے، جبکہ سوال پوچھنا اور حقائق جاننے کی خواہش جمہوری معاشرے کے لیے ضروری ہے۔ سارتھک نے اس پر جواب دیتے ہوئے کہا کہ ان کے والدین نے انہیں منطقی انداز میں سوچنے اور ہر معاملے کی تہہ تک جانے کی تربیت دی، جس کی وجہ سے ان میں تجسس برقرار رہا۔
راہل گاندھی نے کہا کہ سارتھک اور نیسرگ کی کوشش نوجوان نسل کی بیداری اور شعور کی علامت ہے۔ ان کے مطابق ملک کا مستقبل ایسے نوجوانوں کے ہاتھ میں ہے جو سوال پوچھنے سے نہیں گھبراتے اور نظام کو زیادہ شفاف بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔
Published: undefined
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined