دہلی کانگریس صدر دیویندر یادو کی قیادت میں بی جے پی ہیڈکواٹر کا گھیراؤ

مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ وزیر اعظم جنتر منتر پر پرامن احتجاج کرنے والے طلبہ کے خلاف پولیس کے وحشیانہ لاٹھی چارج اور آنسو گیس کے گولے چھوڑے جانے پر معافی مانگیں

<div class="paragraphs"><p>تصویر دہلی کانگریس</p></div>
i

نئی دہلی: دہلی پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر دیویندر کی قیادت میں کانگریس کے سیکڑوں کارکنان بدھ کے روز ریاستی کانگریس کے دفتر راجیو بھون میں جمع ہوئے اور انہوں نے پیپر لیک کے ذمہ دار و مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کا مطالبہ کرتے ہوئے بی جے پی ہیڈکوارٹر کا گھیراؤ کیا ۔ دیویندر یادو کے ساتھ کارکنان کا گروپ آہستہ آہستہ آگے بڑھا، لیکن پولیس نے انہیں بیچ میں ہی روک دیا اور حراست میں لے لیا گیا۔ تمام زیر حراست رہنماؤں کو آئی پی اسٹیٹ پولیس اسٹیشن لے جایا گیا اور بعد میں رہا کر دیا گیا۔

اس موقع پر دہلی کانگریس کے لیڈران و کارکنان ’پیپر چور گدی چھوڑ‘، ’نریندر مودی ہائے ہائے‘ اور ’مودی جب جب ڈرتا ہے پولیس کو آگے کرتا ہے‘ جیسے فلک شگاف نعرے لگا رہے تھے۔ مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ وزیر اعظم 20 جولائی کو جنتر منتر پر پرامن احتجاج کرنے والے طلبہ کے خلاف پولیس کے وحشیانہ لاٹھی چارج اور آنسو گیس کے گولے چھوڑے جانے پر معافی مانگیں۔

مظاہرہ سے خطاب کرتے ہوئے دیویندر یادو نے کہا کہ پولیس نے سیکڑوں طلباء پر وحشیانہ حملہ کیا اور انہیں شدید زخمی کیا جو پیپر لیک بدعنوانی میں ملوث افراد کی جوابدہی کے لئے احتجاج کر رہے تھے۔ پیپر لیک نے ملک کے لاکھوں طلباء کے مستقبل کو تباہ کر دیا ہے اسی لئے طلبا پُر امن طریقہ سے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کا استعفیٰ مطالبہ کر رہے تھے۔


انہوں نے مزید کہا کہ پولیس کی کارروائی اور حکومت کے خلاف آواز اٹھانے والے ہمارے لیڈر راہل گاندھی جب طلباء کو انصاف دلانے کے لیے وزیر اعظم کی رہائش گاہ پر احتجاج پر بیٹھے تو پولیس نے انہیں گھسیٹ کر حراست میں لے لیا۔ انہوں نے کہا کہ راہل گاندھی کے متحرک ہونے اور پارلیمنٹ سے لے کر سڑکوں تک اپوزیشن کی پوری آواز سے مودی حکومت گھبرا گئی ہے۔ چنانچہ حکومت کے کہنے پر پولیس سڑکوں پر طلبا کے لیے لڑنے والوں پر سخت مظالم ڈھا رہی ہے۔

دہلی کانگریس صدر نے کہا کہ گزشتہ 10 سالوں میں 152 پیپروں کے لیک ہونے سے 7.5 کروڑ طلباء متاثر ہوئے ہیں، اور یہ کہ ہڑتال پر بیٹھے ہزاروں طلباء کے مستقبل کو بچانے کے لئے کانگریس کا ہر کارکن پارلیمنٹ سے لے کر سڑکوں تک راہل گاندھی کے ساتھ ان کی لڑائی میں کھڑا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ دھرمیندر پردھان فوری طور پر استعفیٰ دیں اور طلباء پر حملہ کرنے اور ان کی توہین کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ وزیر اعظم نریندر مودی طلباء کے ساتھ بدسلوکی اور مارپیٹ کے لیے معافی مانگیں۔

دیویندر یادو نے کہا کہ ہندوستان میں تعلیمی نظام اس وقت غریب اور متوسط طبقے کی پہنچ سے باہر ہے، جب کہ طلباء اور ان کے اہل خانہ نیٹ امتحان کے لیے حکومت کو ادائیگی کرتے ہیں، جو حکومت تعلیمی بجٹ میں مختص کی گئی رقم کے برابر ہے۔ یہ ملک کے ہر طالب علم اور خاندان کی توہین ہے۔ گزشتہ 10 سالوں میں مودی حکومت نے تعلیمی نظام کو تباہ کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں ملک بھر میں لاکھوں طلباء احتجاج اور مظاہرے کر رہے ہیں۔

مظاہرین میں ریاستی صدر دیویندر یادو، آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے دہلی انچارج قاضی نظام الدین، دہلی حکومت کے سابق وزراء ڈاکٹر نریندر ناتھ اور پروفیسر کرن والیا، سابق رکن اسمبلی سریندر کمار، بھیشم شرما، اور عبدالرحمان، کارپوریشن میں اپوزیشن کے سابق لیڈر جتیندر کمار کوچر، ریاستی انچارج جتن شرما، جگجیون شرما، تصویر سولنکی، لکشمن راوت، عبدالحنان، مدیت اگروال، جنرل سکریٹری ڈاکٹر پی کے مشرا، جئے پرکاش رانا، دھرمپال چندیلا، ہرنام سنگھ، اشوک بسویا، میر سنگھ، ونیت یادو، بال کشن بالی، پرمود جینت، ستیندر شرما، حاجی ظریف، شانتی سوروپ، جے پرکاش، مہندرا بھاکرکے علاوہ کثیر تعداد میں کانگریس کارکنان موجود تھے۔

دہلی کانگریس صدر دیویندر یادو کی قیادت میں بی جے پی ہیڈکواٹر کا گھیراؤ