
پاکستانی جھنڈا، تصویر آئی اے این ایس
پاکستان کی قومی ہاکی ٹیم کے حالیہ آسٹریلیا دورہ نے ایک بار پھر ملک کے کھیل ایڈمنسٹریشن کی قلعی کھول دی ہے۔ ’ایف آئی ایچ پرو لیگ‘ کے دوسرے مرحلہ کے لیے گئی ٹیم کو نہ صرف میچوں میں شکست کا سامنا کرنا پڑا، بلکہ فیلڈ کے باہر بھی ہتک آمیز اور ناروا سلوک برداشت کرنا پڑا۔ پاکستانی ہاکی ٹیم کے کپتان شکیل عماد بٹ نے لاہور ایئرپورٹ پر لوٹتے ہی میڈیا سے بات چیت میں کئی انکشافات کیے اور پاکستان ہاکی فیڈریشن کی سخت تنقید کی۔
Published: undefined
پاکستانی ٹیم کے کپتان شکیل عماد بٹ نے انکشاف کیا کہ آسٹریلیا میں ان کی ٹیم کو نہ صرف ہوٹل میں بکنگ نہیں ہونے کے سبب سڑکوں پر بھٹکنا پڑا بلکہ میچ کھیلنے کے لیے جانے سے پہلے برتن بھی دھونے پڑے۔ عماد نے کہا کہ ’’اب پانی سر کے اوپر سے باہر چلا گیا ہے۔ ہم فیڈریشن کے موجودہ مینجمنٹ کے رہتے ہوئے کھیلنا جاری نہیں رکھ سکتے۔ جب کھلاڑیوں کو میچ کھیلنے جانے سے پہلے رسوئی صاف کرنی پڑتی ہے اور برتن دھونے پڑتے ہیں تو آپ ہم سے کس طرح اچھے نتائج کی امید کر سکتے ہیں۔‘‘
Published: undefined
اس دورہ کے دوران پاکستانی ٹیم کو کئی پریشانیاں برداشت کرنی پڑیں۔ سڈنی ایئرپورٹ پر کینبرا جانے والی پرواز سے پہلے 14-13 گھنٹے انتظار کرنا پڑا۔ ہوٹل پہنچنے پر پتہ چلا کہ بکنگ ہی نہیں ہوئی، کیونکہ پاکستان ہاکی فیڈریشن نے ایڈوانس پیمنٹ نہیں کیا تھا۔ کھلاڑی اور اسٹاف گھنٹوں سڑکوں پر بھٹکتے رہے۔ بعد میں مقامی پاکستانی لوگوں کی مدد سے ہوٹل کا انتظام ہوا۔ کپتان نے یہ بھی انکشاف کیا کہ ایئر بی این بی کے ذریعہ صرف 10 دنوں کی بکنگ ہوئی تھی، لیکن ٹیم کو 13 دن قیام کرنا تھا۔ 10 دن بعد انھیں سستے اور کم سہولت والے ہوٹل میں منتقل ہونا پڑا۔
Published: undefined
دوسری طرف پاکستان اسپورٹس بورڈ نے تصدیق کی کہ انھوں نے ہوٹل انتظام کے لیے پی ایچ ایف کو ایک کروڑ سے زیادہ پاکستانی روپے دیے تھے، لیکن فیڈریشن نے اس کا درست استعمال نہیں کیا۔ اس دورے میں پاکستان نے آسٹریلیا اور جرمنی کے خلاف میچ کھیلے، لیکن دونوں میں ہی شکست ہاتھ لگی۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined