کھیل

’ہندوستان کو 2047 تک ایشیائی فٹبال میں ٹاپ چار پر لے جانے کا ہدف ہے‘

اے آئی ایف ایف کے جنرل سکریٹری شاجی پربھاکرن نے ہفتہ کو 'وژن 2047' کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ وہ اگلے 25 سالوں میں ہندوستان کو ایشیائی فٹ بال میں ٹاپ چار ممالک میں لے جانا چاہتے ہیں

<div class="paragraphs"><p>اے آئی ایف ایف کا لوگو</p></div>

اے آئی ایف ایف کا لوگو

 

نئی دہلی: آل انڈیا فٹ بال فیڈریشن (اے آئی ایف ایف) کے جنرل سکریٹری شاجی پربھاکرن نے ہفتہ کو 'وژن 2047' کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ وہ اگلے 25 سالوں میں ہندوستان کو ایشیائی فٹ بال میں ٹاپ چار ممالک میں لے جانا چاہتے ہیں۔ واضح رہے کہ فیفا رینکنگ میں ہندوستان اس وقت 106 ویں نمبر پر ہے۔

Published: undefined

'وژن 2047' میں قومی ٹیم، فٹ بال انتظامیہ، انفراسٹرکچر، خواتین کے فٹ بال اور نچلی سطح پر فٹ بال کے منصوبے پیش کیے گئے، جو کہ ہندوستانی فٹ بال کا چہرہ بدلنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا روڈ میپ ہے۔

یہاں نامہ نگاروں سے خطاب کرتے ہوئے پربھاکرن نے کہا کہ ہندوستانی ٹیم کو فیفا رینکنگ میں ٹاپ فور میں لے جانے کے علاوہ فیڈریشن نے ہندوستانی لیگ کو 2047 تک ایشیا کی ٹاپ تھری لیگوں میں سے ایک بنانے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ اس کے علاوہ وہ ہندوستان میں فٹ بال کے لیے ایک متحرک ماحول بنانا چاہتے ہیں۔

Published: undefined

پربھاکرن نے کہا کہ اس سمت میں کام کرتے ہوئے اے آئی ایف ایف اپنے تنظیمی ڈھانچے میں تجارت اور کامرس کے محکمے کو شامل کرنے جا رہا ہے۔ فیڈریشن کی تاریخ میں پہلی بار شروع کیے جانے والے اس شعبہ کا مقصد اے آئی ایف ایف کی آمدنی میں اضافہ اور اسے مالی طور پر مضبوط کرنا ہوگا۔ 2026 تک محکمہ تجارت کا مقصد اے آئی ایف ایف کی آمدنی میں 500 فیصد اضافہ کرنا اور تین 'فلیگ شپ ٹیلی ویژن مواد' شروع کرنا ہے۔

Published: undefined

بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانے کی سمت کام کرتے ہوئے اے آئی ایف ایف نے 2026 تک ایک اسمارٹ اسٹیڈیم اور دو فیفا معیاری اسٹیڈیم بنانے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ اس کے علاوہ وہ 2047 تک 30 اسٹیڈیم اور 12 اسمارٹ اسٹیڈیم بنانا چاہتا ہے جو فیفا کے معیار پر پورا اترتے ہوں۔

بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں پر روشنی ڈالتے ہوئے پربھاکرن نے کہا کہ فیڈریشن اگلے 25 سالوں میں ہر ضلع میں کم از کم 50 فٹ بال پچ اور 50 پیشہ ور فٹ بال کلبوں کے اپنے تربیتی میدان رکھنے کا ارادہ رکھتی ہے۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined