ایشین گیمز ٹرائلز: وینیش پھوگاٹ کے داخلے پر تنازعہ، دہلی ہائی کورٹ کے حکم کے خلاف سپریم کورٹ پہنچا ڈبلیو ایف آئی

دہلی ہائی کورٹ کی ڈویزن بینچ نے اپنے حکم میں کہا تھا کہ 30 اور 31 مئی 2026 کو ہونے والے انتخابی ٹرائل میں وینیش پھوگاٹ کو حصہ لینے کی اجازت دی جائے۔

<div class="paragraphs"><p>ونیش پھوگاٹ / آئی اے این ایس</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

google_preferred_badge

وینیش پھوگاٹ کو ایشین گیمز 2026 کے انتخابی ٹرائلز میں حصہ لینے کی اجازت دینے والے دہلی ہائی کورٹ کے حکم کے خلاف ریسلنگ فیڈریشن آف انڈیا (ڈبلیو ایف آئی) نے سپریم کورٹ کا رخ کیا ہے۔ معاملے کی سماعت جمعہ کو سپریم کورٹ کی بنچ  کرے گی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق جسٹس پی ایس نرسمہا اور آلوک ارادھے کی بنچ ڈبلیو ایف آئی کی درخواست پر سماعت کرے گی۔ فیڈریشن نے دہلی ہائی کورٹ کے اس فیصلے کو چیلنج کیا ہے جس میں خاتون ریسلر وینیش پھوگاٹ کو آئندہ سلیکشن ٹرائلز میں حصہ لینے کی اجازت دی گئی تھی۔

دہلی ہائی کورٹ کی ڈویژن بنچ نے22  مئی کو اپنے حکم میں کہا کہ ڈبلیو ایف آئی کی سلیکشن پالیسی ایکسکلوزنری یعنی جانبدار معلوم ہوتی ہے، کیونکہ اس میں وینیش پھوگاٹ جیسی نامور کھلاڑی کے لیے کوئی خاص صوابدید فراہم نہیں کیا گیا ہے۔ عدالت نے یہ بھی تسلیم کیا کہ وینیش پھوگاٹ زچگی کی چھٹی کے بعد واپس آرہی ہیں اور انہیں موقع دیا جانا چاہئے۔


چیف جسٹس ڈی کے اپادھیائے اور جسٹس تیجس کاریا کی ڈویژن بنچ نے اپنے حکم میں کہا کہ 30 اور 31 مئی 2026 کو ہونے والے انتخابی ٹرائل میں وینیش پھوگاٹ کو حصہ لینے کی اجازت دی جائے۔ عدالت نے یہ بھی ہدایت دی کہ ٹرائلز کی ویڈیو ریکارڈنگ کی جائے اور اسپورٹس اتھارٹی آف انڈیا (ایس اے آئی) اور انڈین اولمپک ایسوسی ایشن (اے او اے) کے آزاد مبصرین موجود رہیں۔

ہندوستان کی ریسلنگ فیڈریشن نے حال ہی میں وینیش پھوگاٹ کو 26 جون 2026 تک ڈومیسٹک ٹورنامنٹس میں شرکت سے نااہل قرار دے دیا تھا۔ فیڈریشن نے دلیل دی تھی کہ یونائیٹڈ ورلڈ ریسلنگ (یو ڈبلیو ڈبلیو) کے اینٹی ڈوپنگ قوانین کے تحت ریٹائرمنٹ سے واپس آنے والے کسی بھی کھلاڑی کو کم از کم 6 ماہ کا نوٹس دینا ضروری ہوتا ہے۔ ڈبلیو ایف آئی کے مطابق وینیش نے نوٹس کی یہ لازمی مدت پوری نہیں کی، جس کی وجہ سے وہ گھریلو مقابلوں میں حصہ لینے کی اہل نہیں ہیں۔


واضح ہوکہ ڈبلیو ایف آئی نے وینیش پھوگاٹ کو وجہ بتاؤ نوٹس جاری کیا۔ ان پر ڈسپلن اور اینٹی ڈوپنگ قوانین کی خلاف ورزی کا الزام لگایا گیا تھا۔ فیڈریشن نے دعویٰ کیا تھا کہ انہیں ریٹائرمنٹ کے بعد واپسی کے لیے مطلوبہ 6 ماہ کا نوٹس نہیں دیا گیا۔ اس بنیاد پر انہیں جون 2026 تک گھریلو مقابلوں سے روک دیا گیا۔ وینیش نے اس فیصلے کو دہلی ہائی کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔ ہائی کورٹ نے اب انہیں ایشین گیمز کے سلیکشن ٹرائلز میں حصہ لینے کی اجازت دے دی ہے۔

Follow us: WhatsAppFacebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔