سماج

امریکی فوج میں خواتین کے جنسی استحصال میں ریکارڈ اضافہ

رپورٹ کے مطابق سن 2021 میں امریکی فوج میں جنسی استحصال کے کیسز میں اب تک کا ریکارڈ 13 فیصد اضافہ ہوا۔ گزشتہ برس جنسی حملوں کے کم از کم 8866 کیسز درج کیے گئے، تاہم حقیقی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے۔

امریکی فوج میں خواتین کے جنسی استحصال میں ریکارڈ اضافہ
امریکی فوج میں خواتین کے جنسی استحصال میں ریکارڈ اضافہ 

امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون میں جنسی استحصال کی روک تھام سے متعلق ادارے (ایس اے پی آر) کی طرف سے جمعرات کو جاری کردہ سالانہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 30 ستمبر 2021 تک جنسی حملوں کے 8866 کیسز درج کیے گئے جب کہ اس سے پچھلے سال یہ تعداد 7813 تھی۔ ان جنسی حملوں میں یا تو فوج میں کام کرنے والے افراد یا اپنے ماتحتوں کو نشانہ بنایا گیا۔

Published: undefined

تاہم متاثرین کی اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے۔ 'رپورٹ آن سیکسوئل اسالٹ ان ملٹری' کے عنوان سے جاری اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جنسی حملوں کے کچھ واقعات ہی اعلیٰ حکام کے علم میں لائے گئے۔ فوج کی جانب سے کرائے گئے سروے میں تقریباً 36000 اہلکاروں نے کہا کہ ان کی مرضی کے بغیر ان کے ساتھ جنسی تعلق قائم کرنے کی کوشش کی گئی۔

Published: undefined

پینٹاگون کے مطابق بغیرمرضی کے جنسی روابط قائم کرنا یا ریپ یا زور زبردستی کے ذریعہ جنسی استحصال کرنا جنسی حملے میں شامل ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جنسی حملوں کی تعداد میں اضافہ "مجموعی طور پر غیر صحت مند فوجی ماحول" کی جانب اشارہ کرتے ہیں۔

Published: undefined

پریشان کن صورت حال

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ امریکی فوج میں جنسی استحصال کے حوالے سے اعداد و شمار اکٹھا کرنے کے عمل کی 16 سالہ تاریخ میں متاثرہ خواتین کی تعداد اب تک سب سے زیادہ ہے۔

Published: undefined

امریکی فوج میں جنسی استحصال کے واقعات کی روک تھام کے لیے جنسی حملوں اور ایسے واقعات پر کارروائی کے لیے سال 2005 میں خصوصی شعبہ قائم کیا گیا تھا اور اگلے ہی سال ایسے واقعات کے اعداد و شمار اکھٹا کرنا شروع کر دیا گیا تھا۔

Published: undefined

پنٹاگون کی ایک اعلیٰ افسر الزبتھ فوسٹر کا کہنا تھا کہ فوج میں جنسی حملوں کے واقعات کا ریکارڈ رکھنے سلسلہ سن 2006 میں شروع ہونے کے بعد سے "یہ تعداد خواتین کے خلاف جنسی حملوں کی سب سے بڑی تعداد ہے۔"

Published: undefined

رپورٹ کے مطابق مردوں کے ساتھ جبری طور پر جنسی روابط قائم کرنے کی کوششوں کے سال 2006 میں سب سے زیادہ واقعات پیش آئے تھے۔ اور گزشتہ سال مردوں کے ساتھ پیش آنے والے ایسے واقعات دوسری بڑی تعداد میں سامنے آئے۔

Published: undefined

سب سے زیادہ جنسی استحصال آرمی میں

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سال ِ2021 میں امریکی فوج میں سب سے زیادہ 26 فیصد جنسی استحصال کے واقعات آرمی میں درج کیے گئے۔ اس کے بعد نیوی میں 19 فیصد جبکہ ایئر فورس اور میرینز میں دو فیصد ایسے واقعات پیش آئے۔

Published: undefined

اس رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ امریکی فوج میں حاضر ڈیوٹی خواتین اہلکاروں میں سے، جنہوں نے اس سروے میں حصہ لیا، 8.4 فیصد نے جبکہ 1.5 فیصد مرد اہلکاروں نے اپنے ساتھ ہونے والے جنسی استحصال کا انکشا ف کیا۔ امریکی صدر جو بائیڈن نے جنوری میں ایک حکم نامہ جاری کرکے جنسی ہراسانی کو فوجی قانون کے تحت جرم قرار دیا تھا۔ اس حکم نامے کا مطلب یہ ہے کہ جنسی استحصال، گھریلو تشدد اور نابالغ افراد پر حملوں کے کیسز فوجی عدالت میں چلائے جائیں گے اور مقدمات کو عدالت میں لے جانے کا فیصلہ خصوصی فوجی افسران کے بجائے خصوصی وکلاء کریں گے۔

Published: undefined

ماضی میں سینیئر افسران پر جنسی استحصال کے واقعات پر پردہ ڈالنے اور ان کی سنگینی کو کم کرنے کی کوشش کرنے کے الزامات عائد ہوتے رہے ہیں۔ فوج نے ان تبدیلیوں کی مخالفت کی تھی۔ اس کا کہنا تھا کہ فوج میں ڈسپلن کو برقرار رکھنے کے لیے سابقہ نظام زیادہ بہتر تھا۔ لیکن چونکہ سابقہ نظام مسئلے پر قابو پانے میں ناکام ثابت ہوا تھا اس لیے وزیر دفاع لائیڈ آسٹن نے اپنا عہدہ سنبھالنے کے فوراً بعد ایک آزاد کمیشن قائم کیا تھا۔ انہوں نے کمیشن کو ایک ایسی رپورٹ تیار کرنے کے لیے کہا تھا جس میں فوج کے اندر رونما ہونے والے جنسی حملوں کی روک تھام کے نظام کو بہتربنایا جاسکے تاکہ افواج کے اندر انصاف کے نظام پر فوجی اہلکاروں کے اعتماد کو بحال کیا جا سکے۔

Published: undefined

کمیشن نے اپنی رپورٹ میں کہا تھا کہ جنسی استحصال کے کیسز میں سزا دینے یا نہ دینے کا فیصلہ افسران سے واپس لے لینا ہی اس مسئلے کا واحد حل ہے۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined