سماج

ہمارے بچے کہاں جائیں؟

ہم شاید وہ لوگ ہیں جو اپنے ہی سر پے ہتھوڑا مار کے سامنے والے سے پوچھتے ہیں کہ یہ کس کمینے نے مارا۔ وسعت اللہ خان کی تحریر۔

ہمارے بچے کہاں جائیں؟
ہمارے بچے کہاں جائیں؟ 

مثالیں تو خیر بے شمار ہیں۔ فی الحال میں بچوں تک محدود رہوں گا کہ جن کی تعلیم و تربیت اور عمر کے حساب سے بدلتی ضروریات کی دیکھ ریکھ ہر ماں باپ کا لازمی فرض ہے۔ مگر اب یہ فرض کم و بیش 'آؤٹ سورس‘ کر دیا گیا ہے۔ غریب طبقات کے طفلانِ محروم کا تو خیر یہاں ذکر ہی کیا، ان کو تو بچپن ہی میں تلاشِ رزق کا اژدھا نگل لیتا ہے۔

Published: undefined

لہذا موجودہ سماجی و انتظامی ڈھانچے میں ان محروم بچوں کے لیے بھر پیٹ غذا، تعلیم، علاج معالجہ، مناسب رہائش اور کھیل کود کی بنیادی ضرورتوں کا مطالبہ الفاظ اور ذہنی توانائی ضائع کرنے جیسا ہے۔

Published: undefined

میں طبقِہ امرا کے بچوں کی بھی بات نہیں کروں گا، کیونکہ ان کی الف لیلائی دنیا اکثریت کے شب و روز سے بالکل الگ ہے۔

Published: undefined

میں تو نیم متوسط اور متوسط گھرانوں کے ان بچوں کا تذکرہ کر رہا ہوں جنہیں چھوٹا موٹا اردو یا انگلش میڈیم ذریعِہ تعلیم مہیا ہے، صحت کی سہولتوں تک بھی کسی حد تک رسائی ہے۔ وہ محلے کی دوکان سے چپس کا پیکٹ یا آئس کریم خریدنے کے بھی قابل ہوتے ہیں۔ اسکول جاتے ہوئے بیس پچاس روپے جیب خرچ بھی میسر ہے۔

Published: undefined

مگر والدین کا یہ رونا کبھی ختم نہیں ہوتا کہ اتنا کچھ کرنے کے باوجود بچے خود سر و خود غرض ہوتے جا رہے ہیں۔ دیگر بچوں کی دیکھا دیکھی میرے بچے کی حرص ہی ختم نہیں ہوتی۔ جو دیا اس کی خوشی کم اور جو نہیں دیا اس کا دکھ کہیں زیادہ۔ پڑھائی میں اس کا جی نہیں لگتا۔ وڈیو گیمز اور انٹرنیٹ ہی اس کے اماں ابا ہیں۔ اتنی فیس بھرنے کے باوجود نمبر کم آتے ہیں۔ ٹیوشن رکھوانے سے بھی بس انیس بیس کا ہی فرق پڑا ہے۔ کریں تو کیا کریں وغیرہ وغیرہ۔

Published: undefined

جب بھی والدین سے پوچھا جائے کہ کیا آپ اپنے بچوں کو اتنا وقت اور توجہ دیتے ہیں جتنی کہ ان کو اس عمر میں درکار ہے؟ یا آپ کے گھر کا ماحول ایسا ہے کہ بچے آپ کو اپنا دوست تصور کرتے ہوئے نہ صرف اسکول کی ہر بات آپ سے بانٹیں بلکہ آپ ان کے ننھے سے دماغ میں کلبلاتے نئے نئے سواالت کے تشفی بخش جوابات دینے کے بھی اہل ہوں؟

Published: undefined

اس حجت کے جواب میں اکثر والدین کی کم و بیش یکساں لگی بندھی دلیلیں ہوتی ہیں۔ دیکھیے نا، ہم دونوں ملازمت کرتے ہیں یا ایک ملازمت کرتا ہے تو دوسرا گھر سنبھالتا ہے۔ اوپر کے کام کے لیے ماسی یا ملازم بھی رکھا ہوا ہے۔ کھلونے بھی لے کر دیتے ہیں۔ اسکول بھی اچھا ہے۔ ان کے ہم جماعتوں کو بھی تہواروں یا سالگرہ وغیرہ پر گھر میں مدعو کیا جاتا ہے۔ پھر بھی ان کا نہ پڑھائی میں جی لگتا ہے نہ ہی ان کی اردو درست ہے۔ بڑے چھوٹے کی تمیز اور ادب آداب کو تو خیر جانے ہی دیجیے۔ سمجھ میں نہیں آتا کہ ایسا کیا کریں کہ ہمارے بچوں کی تعلیم و تربیت ایسی ہو کہ جب وہ اپنے پاؤں پر کھڑے ہوں تو زندگی میں تھوڑا بہت آگے بڑھ سکیں۔ ورنہ یہ ایک سفاک گال کاٹ مقابلے والی دنیا میں کیسے جی پائیں گے؟ وغیرہ وغیرہ۔

Published: undefined

بات یہ ہے کہ بچے کو والدین کا لمس، قربت اور ذہن سازی کے لیے اعتماد بخش نفسیاتی اوزار درکار ہوتے ہیں۔ ہم ان کے لیے اپنی حیثیت سے بڑھ کے مالی قربانی تو دینے کے لیے تیار ہیں مگر وقت اور جذبات کی قربانی نہ دینے کی ہمارے پاس بیسیوں تاویلیں ہیں۔

Published: undefined

یہ تاویلیں کتنی ہی معقول ہوں مگر ان سے بچے کی جذباتی و احساساتی کمی یا ضرورت کا مداوا نہیں ہو سکتا۔ اسکول میں وہ زیادہ سے زیادہ چھ گھنٹے گزارتے ہیں۔ باقی اٹھارہ گھنٹے کیا اتنے ہی معیاری ہوتے ہیں؟

Published: undefined

ان کا ہوم ورک کون دیکھتا ہے؟ آپ یا ٹیوشن پڑھانے والا؟ ان کے کپڑوں اور کھانے پینے کا خیال کون رکھتا ہے؟ آپ یا آیا؟ وہ اسکول سے گھر آنے کے بعد زیادہ وقت کہاں گزارتے ہیں، آپ کے ساتھ، اپنے کمرے میں یا پھر محلے میں ہم عمر یا بڑے بچوں کے ساتھ؟

Published: undefined

انہیں اپنے خاندانی بزرگوں اور روایات کے بارے میں کون بتاتا ہے؟ آپ یا محلے کے فارغ بوڑھے؟ آپ کے بچے کو بنیادی تہذیبی ادب آداب کون سکھاتا ہے؟ آپ یا آس پاس کے دوکان دار اور خوانچہ فروش یا بغل والے ریستوران کا عملہ؟ اور گالیاں یا بدزبانی وہ کہاں سے سیکھتے ہیں؟ گھر سے یا باہر سے؟

Published: undefined

پھر بھی آپ کے دماغ میں لال بتی کتنی بار جلتی بجھتی ہے؟ اور صرف والدین ہی کیا، آج کا پورا سماج ان بچوں کو کیا دیتا ہے؟ سبق آموز دلچسپ کہانیوں سے بھرے دیدہ زیب باتصویر بچوں کے رسالے آج کتنی تعداد میں چھپتے ہیں اور کتنے والدین انہیں خریدتے ہیں۔ ابھی پچھلی نسل تک اخبار میں بچوں کا ہفتہ وار صفحہ شائع ہوتا تھا جس میں ان کی اپنی لکھی ہوئی منتخب کہانیاں اور نظمیں شائع ہوتی تھیں اور یہ اخباری صفحات مستقبل کے ادیبوں کی نرسری کا کام کرتے تھے۔

Published: undefined

جب صرف ایک ہی سرکاری چینل ہوا کرتا تھا تو روزانہ بچوں کے لیے کم ازکم ایک گھنٹے کا خصوصی پروگرام نشر ہوتا تھا۔ کبھی کارٹون، کبھی ڈرامہ تو کبھی ننھے موسیقاروں کی محفل۔ گویا ہر عمر کے بچے کے لیے کچھ نہ کچھ میسر تھا۔ آج جب کہ نجی میڈیا کا ایک سونامی ہے، مجھے ایک چینل ایسا بتا دیجیے جہاں بچوں کے لیے روزانہ درکنار کوئی ہفتہ وار پروگرام ہی نشر ہوتا ہو۔

Published: undefined

جب صرف سرکاری ریڈیو تھا تو ہر اتوار کی صبح بچوں کے لیے دو گھنٹے کی نشریات ہوتی تھیں۔ ہر رات کوئی آنٹی ریڈیو پر چھوٹے بچوں کو کہانی سنایا کرتی تھیں۔ آج بیسیوں ایف ایم چینلز ہیں۔ کوئی ایک چینل بتا دیجے جہاں بچوں کے لیے ایک گھنٹے کی بھی نشریات ہوتی ہوں۔

Published: undefined

مشترکہ خاندانی نظام ٹوٹنے کے سبب وہ نانیاں دادیاں بھی محض اپنی آخری عمر کاٹ رہی ہیں جن کے اردگرد جمع ہو کر رات کو سونے سے پہلے بچے عجیب و غریب کہانیاں سنتے تھے اور پھر انہیں اپنے تخیل میں فلماتے تھے۔

Published: undefined

بچوں کے کھیل کود کے لیے محلوں میں کھلی جگہیں اور گراؤنڈ ہوتے تھے، کیونکہ ابھی قبضہ مافیا نے ان کھلی جگہوں کو نگلنا شروع نہیں کیا تھا۔ آج کے بچے کو کرکٹ یا کچھ بھی کھیلنے کے لیے صرف گلی یا آتی جاتی ٹریفک کے خطرے سے پر سڑک ہی میسر ہے۔ یعنی ضروری سہولتیں وقت اور آبادی کے ساتھ بڑھنے کے بجائے اور گھٹتی چلی گئیں۔

Published: undefined

بتائیے اس ماحول میں بچے کیا کریں اور وہ سب کہاں سے سیکھیں جو ان کے بڑوں نے ان سے چھین لیا۔ تو پھر خود غرض بھلا کون ہوا؟

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined