ایئر انڈیا فلائٹ ٹربولنس معاملہ: تمام 13 مسافروں کو اسپتال سے چھٹی، عملے کے 4 اراکین اب بھی زیرِ علاج
ایئر انڈیا نے بدھ کی شام جاری کردہ اپڈیٹ میں کہا کہ اس کی ٹیمیں اسپتالوں میں موجود ہیں اور متاثرہ مسافروں اور عملے کو ہر ممکن مدد فراہم کر رہی ہیں۔

پھوکیت سے دہلی آ رہی ایئر انڈیا کی پرواز اے آئی2379 میں اچانک آئے شدید ٹربولنس (تیز ہوا کے جھٹکے) کے بعد زخمی ہونے والے تمام 13 مسافروں کو اسپتال سے چھٹی دے دی گئی ہے۔ حالانکہ زخمی ہونے والے عملے کے 4 اراکین اب بھی زیرِ علاج ہیں۔ ایئر انڈیا نے بدھ کی شام جاری کردہ اپڈیٹ میں کہا کہ اس کی ٹیمیں اسپتالوں میں موجود ہیں اور متاثرہ مسافروں اور عملے کو ہر ممکن مدد فراہم کر رہی ہیں۔
ایئر انڈیا کے مطابق ایئربس طیارے میں 137 مسافر اور عملے کے 8 اراکین سوار تھے۔ 4 اگست کو پرواز کے دوران پیش آنے والے واقعے میں 13 مسافر اور عملے کے 4 اراکین زخمی ہو گئے تھے، جنہیں علاج کے لیے اسپتال میں داخل کرایا گیا تھا۔ اب تمام 13 مسافروں کو چھٹی مل چکی ہے، جبکہ عملے کے چاروں اراکین کا علاج جاری ہے۔
مرکزی وزیر برائے شہری ہوا بازی رام موہن نائیڈو نے بتایا کہ پرواز کے دوران تقریباً 4 سے 5 منٹ تک اچانک شدید ٹربولنس (تیز ہوا کا جھٹکا) آیا تھا، جس سے کئی مسافر اور عملے کے اراکین زخمی ہو گئے۔ انہوں نے کہا کہ طیارہ کے دہلی پہنچتے ہی ایئرپورٹ اسٹاف نے فوری طور پر امدادی کارروائی شروع کی اور ضرورت مند مسافروں کو بغیر کسی تاخیر کے طبی امداد فراہم کی گئی۔
مرکزی وزیر نے مزید بتایا کہ 7 مسافروں کو میدانتا اسپتال میں داخل کرایا گیا تھا، جنہیں اب چھٹی دے دی گئی ہے۔ 2 معمولی طور پر زخمی ہونے والے مسافروں کا فورٹس اسپتال میں علاج کیا گیا اور انہیں بھی ڈسچارج کر دیا گیا ہے۔ عملے کے چاروں زخمی اراکین کا علاج فورٹس اسپتال میں جاری ہے۔ رام موہن نائیڈو نے عملے کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے خود زخمی ہونے کے باوجود مسافروں کی ہر ممکن مدد کی۔ انہوں نے خصوصی طور پر عملے کی خاتون اراکین کے حوصلے اور لگن کی تعریف کی۔
مرکزی وزیر رام موہن نائیڈو نے بتایا کہ کچھ زخمیوں کو ریڑھ کی ہڈی، ٹیل بون (ریڑھ کے نچلے حصے) اور گردن میں چوٹیں آئی ہیں۔ واقعے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے ڈائریکٹوریٹ جنرل آف سول ایوی ایشن (ڈی جی سی اے) نے تحقیقات شروع کر دی ہے۔ متعلقہ طیارے کو ایک علیحدہ ہینگر میں رکھا گیا ہے اور اس کے ڈیٹا ریکارڈر اور کاک پٹ وائس ریکارڈر (سی وی آر) کی جانچ کی جا رہی ہے۔
مرکزی وزیر نے یہ بھی کہا کہ تحقیقات کے ذریعے یہ پتہ لگانے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ پرواز کے دوران یہ واقعہ کن حالات میں پیش آیا۔ انہوں نے یقین دلایا کہ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد تمام حقائق کو پبلک کیا جائے گا۔ ایئر انڈیا نے بھی اس بات کا اعادہ کیا کہ مسافروں اور عملے کی حفاظت اس کی اولین ترجیح ہے اور تحقیقات مکمل ہونے تک وہ متعلقہ افسران کے ساتھ مکمل تعاون کرتی رہے گی۔ ساتھ ہی متاثرہ مسافروں اور ان کے خاندانوں کو ہر ممکن مدد فراہم کی جائے گی۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
