سماج

جرمن جیلیں ٹرانس جینڈر قیدیوں کا کیا کرتی ہیں؟

ماحولیاتی کارکن پینے لوپے فرانک جیل کا سامنا کر سکتی ہیں، تاہم انہیں مردوں کی جیل میں رکھے جانے کے خلاف ایک لڑائی لڑنا پڑ رہی ہے۔

جرمن جیلیں ٹرانس جینڈر قیدیوں کا کیا کرتی ہیں؟
جرمن جیلیں ٹرانس جینڈر قیدیوں کا کیا کرتی ہیں؟ 

جرمنی میں فرانک کا معاملہ جیل خانوں میں ٹرانس جینڈرز کو درپیش وسیع تر مسائل کا ایک اظہاریہ بھی ہے۔ پینے لوپے فرانک کا تعلق لاسٹ جنریشن گروپ سے ہے۔ انہوں نے سن 2022 میں بطور احتجاج برلن کے ہوائی اڈے کے ایک رن وے پر لیٹ کر فضائی ٹریفک کے لیے رخنہ پیدا کر دیا تھا۔

Published: undefined

اسی سلسلے میں اب وہ مقدمے کا سامنا کر رہی ہیں اور اگر ان پر جرم ثابت ہو جاتا ہے، تو انہیں قید کی سزا ہو سکتی ہے۔ وہ خود کو خاتون قرار دیتی ہیں تاہم کاغذوں میں ان کی جنس مرد تحریر ہے، اسی لیے جرم ثابت ہونے کی صورت میں انہیں مردوں کی جیل میں بھیجا جا سکتا تھا۔

Published: undefined

تاہم جرمن جیلوں کے عملے کی یونین کی چیئرپرسن رینے میولر کے مطابق،''مردوں کی جیلیں ایسا ادارہ ہیں، جو ٹرانس افراد کے حوالے سے تیار نہیں ہیں۔ آپ کو ان کی حفاظت کے لیے ان پر نظر رکھنا پڑتی ہے۔ ہمارے پاس اسٹاف کی کمی ہے اور ایسے میں ہم ہر وقت یہ تحفظ ممکن نہیں بنا سکتے۔ ہم اصل میں جرمن وزارت برائے انصاف کی جانب سے تنہا چھوڑ دیے جانے کے احساس کا سامنا کر رہے ہیں۔‘‘ پینے لوپے فرانک ایسے میں ڈونیشنز جمع کر رہی ہیں تاکہ وہ جرمانہ ادا کر دیں اور جیل سے بچ جائیں۔

Published: undefined

میولر کے مطابق جرمن قیدخانوں میں اس وقت ساٹھ ہزار افراد قید ہیں، جن میں باقاعدہ قیدی، حفاظتی تحویل اور مقدمے سے قبل زیرحراست افراد شامل ہیں۔ جرمنی میں قریب دو سو حراستی مقامات ہیں اور تمام جیلوں میں عملے کی کمی کا مسئلہ ہے۔ میولر کے مطابق اس وقت قریب دو ہزار اہلکاروں کی قلت ہے۔

Published: undefined

جرمنی میں قیدخانے صوبوں کی نگرانی میں آتے ہیں۔ کچھ مقامات پر ٹرانس افراد کے حوالے سے خصوصی ضوابط متعارف کروا کر ان کے لیے علیحدہ حصے مختص کیے جا چکے ہیں یا جہاں تربیت یافتہ عملہ تعینات ہے۔ یہ ایک بہت بڑا چیلینج ہے کیوں کہ مردوں اور خواتیں کو جیلوں میں علیحدہ رکھنے کے اصول کے تحت ٹرانس جینڈر سے متعلق ضوابط طے کرنا آسان نہیں۔

Published: undefined

جرمنی میں چالیس برس قبل کا ٹرانس جینڈر قانون جنسی شناخت کی تبدیلی کے لیے کسی شخص کو طبی معائنے سے گزرنے کا کہتا تھا، تاہم یہ قانون غیرآئینی قرار دیا جا چکا ہے۔ جرمنی کی وفاقی حکومت جلد ہی شہریوں کو اپنی شناخت کے تعین کا حق دینے سے متعلق ایک قانون کی منظوری دینے والی ہے۔ رینے میولر کے مطابقٹرانس جینڈرز کو جیلوں میں درپیش ایسے صنفی مسائل کا بہترین حل ان کے لیے علیحدہ حراستی مقامات کا قیام ہے۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined