
علامتی فائل تصویر آئی اے این ایس
امریکی فوجی حکام نے بدھ کے روز اعلان کیا کہ اس تجزیے کے بعد کہ فیصل آباد سے گرفتار شدہ القاعدہ کے مشتبہ کارکن اور سعودی انجینئر غسّان الشربی اب امریکی قومی سلامتی کے لیے کوئی خطرہ نہیں رہے، انہیں خلیج گوانتانامو کے حراستی کیمپ سے رہا کر کے سعودی عرب بھیج دیا گیا ہے۔
Published: undefined
ان پر 11ستمبر 2001 کے روز نیو یارک میں ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے جڑواں میناروں پر القاعدہ کے حملوں میں اس نیٹ ورک کا ساتھ دینے کا شبہ تھا لیکن ان پر کبھی کوئی الزام عائد نہیں کیا گیا تھا۔
Published: undefined
امریکی حکام کے مطابق خلیج گوانتانامو میں کیوبا کے جزیرے پر واقع بدنام زمانہ حراستی کیمپ سے غسّان الشربی کو اس لیے رہا کر دیا گیا کیونکہ اب سمجھا یہ جاتا ہے کہ وہ امریکہ کی قومی سلامتی کے لیے کوئی خطرہ نہیں رہے، لہٰذا انہیں مزید حراست میں رکھنا ضروری نہیں ہے۔
Published: undefined
امریکی محکمہ دفاع نے ایک بیان میں کہا کہ الشربی کی وطن واپسی ''جامع حفاظتی اقدامات سے مشروط ہے، جن میں نگرانی، سفری پابندیاں اور معلومات کا مسلسل تبادلہ شامل بھی ہیں۔‘‘
Published: undefined
الشربی کا نائن الیون کے حملوں سے تعلق ایریزونا یونیورسٹی میں ایروناٹیکل انجینئرنگ کی تعلیم اور نائن الیون حملوں کی سازش میں ملوث القاعدہ کے دو ہائی جیکروں کے ساتھ فلائٹ اسکول میں ان کی شرکت سے بتایا گیا تھا۔ نائن الیون حملوں کے بعد الشربی بم بنانے کی تربیت حاصل کرنے کے لیے فرار ہو کر پاکستان چلے گئے تھے اور ان پر القاعدہ کے لیے بم بنانے کا شبہ ظاہر کیا گیا تھا۔
Published: undefined
الشربی کو سن 2002میں پاکستان سے گرفتار کیا گیا تھا اور وہاں دوران حراست انہیں مبینہ طور پر تشدد کا نشانہ بھی بنایا گیا تھا، جس کے بعد بالآخر انہیں گوانتانامو کیمپ بھیج دیا گیا تھا۔ حالانکہ امریکی فوج نے ان پر کئی دیگر الزامات عائد کرنے پر غور کیا لیکن بالآخر سن 2008میں ان پر کوئی فرد جرم عائد نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔
Published: undefined
کوئی الزام عائد نہ ہونے کے باوجود الشربی کو خلیج گوانتانامو کے امریکی بحری اڈے میں واقع جیل میں 'دشمن جنگجو‘ کے طور پر نظر بند رکھا گیا تھا۔
Published: undefined
خلیج گوانتانامو کی فوجی جیل سے الشربی کی رہائی ان قیدیوں کی رہائی کے لیے جاری کوششوں کا حصہ ہے، جنہیں اب کسی مقدمے کا سامنا نہیں ہے یا جو اپنی سزائیں پوری کر چکے ہیں۔ امریکی فوجی جائزہ بورڈ نے سخت حفاظتی اقدامات پر عمل درآمد کے لیے الشربی کو سعودی عرب کی تحویل میں دینے کی سفارش کی تھی۔
Published: undefined
نائن الیون حملوں کے ہائی جیکروں میں سے بیشتر کا تعلق سعودی عرب سے تھا۔ سعودی عرب شدت پسندوں کو حراست میں لینے اور ان کی آبادکاری کے لیے ایک عرصے سے کام کر رہا ہے۔ غسّان الشربی کی رہائی کے ساتھ ہی گوانتانامو جیل میں باقی ماندہ قیدیوں کی تعداد اب 31 رہ گئی ہے، جو ماضی میں کبھی 800 کے قریب بنتی تھی۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined