مانسون کے 26 اپریل تک کیرالہ پہنچنے کا امکان، جنوب میں سیلاب کا خطرہ، شمالی اور وسطی ہندوستان میں شدید خشک سالی کا اندیشہ

ہندوستان کے لیے ال نینو ہمیشہ سے ہی خراب رہا ہے۔ اس بار مضبوط ال نینو تیار ہو رہا ہے، جس کے تباہ کن نتائج ہو سکتے ہیں۔ مضبوط ال نینو کے سبب بارش کم ہوتی ہے اور خشک سالی جیسی صورتحال پیدا ہوجاتی ہے۔

<div class="paragraphs"><p>فائل فوٹو</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

google_preferred_badge

آئندہ مانسون کے موسم میں شمالی اور وسطی ہندوستان سمیت ملک کے تقریباً نصف حصے میں شدید خشک سالی کا اندیشہ ہے۔ جون سے ستمبر کے درمیان مانسون کی بارش کے بھی معمول سے کم رہنے کا امکان ہے۔ اس کی بنیادی وجہ بحر الکاہل میں بن رہا طاقتور ال نینو ہے۔ اس وجہ سے جنوبی ہندوستان کے ساحلی علاقوں میں شدید سیلاب کا بھی خطرہ ہے۔ زراعت پسند ہندوستان کے لیے مانسون کی یہ صورت حال بہت خوفناک ہے، جس کا بہت زیادہ انحصار مانسون کی بارش پر ہے۔

ہندوستان کے محکمہ موسمیات (آئی ایم ڈی) کے مطابق ال نینو تیزی سے اپنا دائرہ بڑھا رپا ہے۔ ہندوستان کے لیے ال نینو ہمیشہ سے ہی خراب رہا ہے۔ اس بار مضبوط ال نینو تیار ہو رہا ہے، جس کے تباہ کن نتائج ہو سکتے ہیں۔ مضبوط ال نینو جنوب مغربی مانسون کی ہواؤں کو کمزور کر دیتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ملک کے بیشتر حصوں میں بارش کم ہوتی ہے اور خشک سالی جیسی صورتحال پیدا ہوجاتی ہے۔ اس بار شمال اور وسطی ہندوستان میں کچھ ایسی ہی صورتحال پیدا ہوسکتی ہے۔


دوسری طرف تمل ناڈو اور آندھرا پردیش جیسی ساحلی ریاستوں کو تباہ کن سیلاب آسکتا ہے۔ آئی ایم ڈی کے مطابق جنوب مغربی مانسون اس بار معمول کی تاریخ سے پہلے یعنی 26 مئی کے آس پاس کیرالہ کے ساحل پردستک دے سکتا ہے۔ ہفتے کے روز یہ جنوبی خلیج بنگال، بحیرہ انڈمان اور جزائر انڈمان۔نکوبار کے کچھ حصوں میں مزید آگے بڑھ رہا ہے۔ اس کے آگے بڑھنے لیے حالات سازگار ہیں۔

طاقتور ال نینو کا شمالی اور وسطی ہندوستان پر سب سے زیادہ اثر پڑنے کا اندیشہ ہے۔ مغربی ہندوستان کے کچھ حصے بھی متاثر ہوسکتے ہیں، خاص طور پر زراعت ریاستیں جیسے پنجاب، ہریانہ، مغربی اتر پردیش اور راجستھان۔ دہلی-این سی آر کو گرمی اور خشک سالی کے دوہرے بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ مانسون کی کم بارشیں بڑی فصلوں کو نقصان پہنچا سکتی ہیں۔ اس سے خوراک کی قیمتوں، بجلی کی فراہمی اور دیہی آمدنی پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔ ہندوستان کی سالانہ بارش کا تقریباً 70 فیصد مانسون سے آتا ہے اور تقریباً نصف آبادی کا انحصار زراعت پر ہے، اس لیے کم بارش والا سال بھی وسیع معاشی اثر ڈال سکتا ہے۔


اس خوفناک امکان کے درمیان امید کی کرن انڈین آپریشن ڈپول (آئی او ڈی)  کی شکل میں نظر آرہی ہے۔ موسمیاتی ماڈل کے مطابق مانسون سیزن کے آخری مہینوں میں آئی او ڈی مثبت ہو سکتا ہے۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو یہ ال نینو کے منفی اثرات کو کسی حد تک کم کر سکتا ہے۔ مانسون کی ہوائیں کچھ زور پکڑ سکتی ہیں، جو ممکنہ طور پر کچھ علاقوں میں بارش کی واپسی کا باعث بن سکتی ہیں۔

آئی ایم ڈی کی پیشن گوئی کے مطابق اس سال مانسون کی بارش طویل مدتی اوسط (ایل پی اے) کے صرف 92 فیصد ہونے کا امکان ہے۔ ایل پی اے کی یہ سطح معمول سے کم بارش کے زمرے میں آتی ہے۔ 1971  سے 2020 تک کے اعداد و شمار کی بنیاد پر ہندوستان میں اوسط بارش 870 ملی میٹر ہونی چاہیے لیکن اس بار اس سے کم بارش ہونے کا امکان ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق اس سال خشک سالی کے حالات پیدا ہونے کا اندیشہ 35 فیصد ہے جو عام سالوں کے امکان سے دوگنا سے بھی زیادہ ہے۔

Follow us: WhatsAppFacebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔