
آسٹریلیا کی لوکاپا ڈائمنڈ کمپنی نے بدھ 27 جولائی کو اپنی ویب سائٹ پر اعلان کیا کہ اس گلابی ہیرے کا نام ''لولو روز‘‘ رکھا گیا ہے کیوں کہ لولو ڈائمنڈ کان سے ملا ہے۔ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ گزشتہ تین صدیوں میں ملنے والا یہ اب تک کا سب سے بڑا گلابی ہیرا ہے۔
Published: undefined
توقع کی جا رہی ہے کہ عالمی منڈی میں آتے ہی یہ ہیرا انتہائی زیادہ رقم میں فروخت ہو گا کیوں کہ پہلے بھی اس سے مشابہت رکھنے والے گلابی ہیرے ریکارڈ قیمت میں فروخت ہو چکے ہیں۔ سن 2017ء میں 59.6 قیراط کا پنک اسٹار نامی ہیرا 71.2 ملین ڈالر میں نیلام ہوا تھا۔ یہ اب تک کا فروخت ہونے والا مہنگا ترین ہیرا ہے۔
Published: undefined
تاہم لولو روز کی اصل قیمت کا اندازہ اسی وقت ہو گا، جب اسے تراشا اور پالش کیا جائے گا۔ اس عمل کے دوران ہیروں کا وزن نصف تک کم ہو جاتا ہے۔ گلابی ہیروں کی قمیت کا انحصار ان کے رنگ، شفافیت، تراشنے کے انداز اور وزن پر ہوتا ہے۔
Published: undefined
لوکاپا ڈائمنڈ کمپنی نے اسے ایک ''تاریخی دریافت‘‘ قرار دیا ہے۔ انگولا کی حکومت، جو اس کان میں شراکت دار ہے، نے بھی اس دریافت کا گرمجوشی سے خیرمقدم کیا ہے۔ انگولا کے معدنی وسائل کے وزیر ڈیامانٹینو آزیویڈو کا کہنا تھا، ''لولو سے برآمد ہونے والا یہ ریکارڈ ساز اور شاندار گلابی ہیرا انگولا کو عالمی سطح پر ایک اہم کھلاڑی کے طور پر ظاہر کرتا ہے۔‘‘
Published: undefined
زیادہ تر رنگین قیمتی پتھروں میں ایسے کیمیائی عناصر ہوتے ہیں، جو ان کی شفافیت کو کم اور روشنی کو جذب کرتے ہیں لیکن قدرتی گلابی ہیروں میں ایسا کوئی مواد نہیں پایا جاتا۔ محققین کے مطابق گلابی ہیروں کا رنگ ''پلاسٹک ڈیفارمیشن‘‘ کی وجہ سے ہوتا ہے اور یہ رنگ اس وقت تشکیل پاتا ہے، جب ہیرا بن رہا ہوتا ہے۔
Published: undefined
عام طور پر گلابی ہیروں کا تعلق شمال مغربی آسٹریلیا میں آرگیل کان سے جوڑا جاتا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق دنیا کے قدرتی گلابی ہیروں کا 90 فیصد اسی کان سے ملے ہیں۔ تاہم گلابی ہیرے برازیل، بھارت اور تنزانیہ کے ساتھ ساتھ انگولا میں بھی ملے ہیں۔
Published: undefined
سب سے بڑے اور مشہور گلابی ہیرے کا نام دریائے نور ہے۔ یہ ہندوستان میں کان کنی کے دوران دریافت ہوا تھا اور ایرانی مرکزی بینک کے 'کراؤن جیولز کلیکشن‘ کا حصہ ہے۔ اس کا وزن 182 قیراط ہے اور دنیا کے تمام بڑے تراشیدہ ہیروں میں سے ایک ہے۔ اس کے علاوہ پنک پینتھر نامی ہیرے کا شمار بھی دنیا کے مشہور ہیروں میں ہوتا ہے۔
Published: undefined
ہیرے دولت اور خوبصورتی کے ساتھ ساتھ لافانیت اور طاقت کی علامت سمجھے جاتے ہیں۔ صدیوں سے مسحور کن اور چمکتے ہوئے یہ ہیرے حقیقت میں کوئلے اور بلیک کاربن (گریفائٹ) کا مجموعہ ہیں، جو زمین کے اندرونی حصے میں بنتے ہیں۔ ہیرے لاکھوں سال پہلے زمین کے بیرونی خول سے سینکڑوں کلومیٹر نیچے اندرونی پرتوں تلے دب جانے والے کاربن سے بنتے ہیں۔
Published: undefined
سخت زمینی دباؤ اور انتہائی درجہ حرارت کاربن کے ایٹموں کو ٹھوس کرسٹل کی شکل فراہم کرتے ہیں اور اس طرح خام ہیرے تیار ہوتے ہیں۔ جب زلزلے آتے ہیں یا آتش فشاں پھٹتے ہیں تو یہ خام ہیرے زمین کی بالائی سطح تک پہنچ جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہیروں کو آتش فشاں چٹانوں میں تلاش کیا جاتا ہے۔
Published: undefined
ہیرے دیگر جواہرات کی طرح ہی ہیں لیکن یہ ایسی نایاب معدنیات ہے، جس کا رنگ، خالص پن، شفافیت اور مضبوطی اسے دوسروں سے ممتاز بناتی ہے۔ ہر قسم کا قیمتی ہیرا ایک خاص کیمیائی ساخت پر مبنی ہوتا ہے۔ ہیرے کے رنگ کے ساتھ ساتھ اسے تراشنے کا عمل اسے مزید منفرد بنا دیتا ہے۔ ہیرا جتنا نایاب ہو گا، اس کی قیمت اتنی ہی زیادہ ہو گی۔
Published: undefined
ایک ہیرے کے وزن کی پیمائش قیراط میں کی جاتی ہے۔ قدیم زمانے میں ایک قیراط خروب نامی درخت کی خشک پھلیوں کے ایک بیج کا وزن تھا۔ بحیرہ روم کے اس سدا بہار درخت کے بیجوں کو صراف وزن کی اکائی کے طور پر استعمال کیا جاتا تھا۔ اس درخت کے بیچوں کی ساخت تقریباﹰ ایک جیسی ہی ہوتی ہے اور ایک کا وزن تقریبا ﹰدو سو ملی گرام ہوتا ہے۔ یعنی ایک قیراط 0,2 گرام کے برابر ہے۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined