مشرق وسطیٰ میں امن کی امیدوں کو بڑا جھٹکا!

ایران کی شرائط میں جنگی نقصانات کا معاوضہ، آبنائے ہرمز میں اس کی خودمختاری کو تسلیم کرنا، امریکی بحری ناکہ بندی کا خاتمہ اور اقتصادی پابندیوں کا خاتمہ شامل تھا۔

<div class="paragraphs"><p>فائل تصویر آئی اے این ایس</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

google_preferred_badge

مغربی ایشیا میں امن کی امیدوں کو اس وقت بڑا دھچکا لگا جب امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایران کی نئی امن تجویز کو مسترد کر دیا۔ اس کے بعد پیر کے روز عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں زبردست اضافہ دیکھا گیا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ گزشتہ 10 ہفتوں سے جاری تنازعہ مزید لمبے عرصے تک چل سکتا ہے۔

درحقیقت، واشنگٹن کی طرف سے مذاکرات کی پیشکش موصول ہونے کے بعد، تہران نے اتوار کو جنگ کے خاتمے کے لیے کچھ شرائط کے ساتھ اپنا منصوبہ پیش کیا۔ اس میں لبنان کا مسئلہ بھی شامل ہے جہاں اسرائیل ایران کی حمایت یافتہ تنظیم حزب اللہ پر حملے جاری رکھے ہوئے ہے۔


ایران کی شرائط میں جنگی نقصانات کا معاوضہ، آبنائے ہرمز میں اس کی خودمختاری کو تسلیم کرنا، امریکی بحری ناکہ بندی کا خاتمہ، اقتصادی پابندیوں کا خاتمہ اور ایرانی تیل کی برآمدات پر سے پابندی کا خاتمہ شامل تھا۔ تاہم، تہران کی تجویز کے چند گھنٹے بعد، ٹرمپ نے اسے "مکمل طور پر ناقابل قبول" قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا۔ انہوں نے وضاحت کیے بغیر سوشل میڈیا پر کہا کہ انہوں نے اس تجویز کو قبول نہیں کیا۔

اس پیش رفت سے علاقائی بحران مزید گہرا ہو سکتا ہے۔ امریکہ نے جوہری پروگرام جیسے مسائل پر مذاکرات سے پہلے ہی جنگ کے خاتمے کا مطالبہ کیا تھا جبکہ ایران کا موقف ہے کہ اس کے مطالبات بشمول ناکہ بندی اٹھانے اور منجمد اثاثوں کی واپسی مکمل طور پر جائز ہے۔


اس کشیدگی کے درمیان تیل کی منڈی میں ہلچل بڑھ گئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق پیر کو تیل کی قیمتوں میں تقریباً 4 ڈالر کا اضافہ ہوا۔ یہ بات قابل غور ہے کہ دنیا کی تیل کی سپلائی کا تقریباً پانچواں حصہ آبنائے ہرمز سے گزرتا ہے اور اس کی ناکہ بندی سے عالمی معیشت کو شدید خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔ امن مذاکرات کی ناکامی اور مسلسل ناکہ بندی نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ پوری دنیا کے لیے ایک بڑا اقتصادی اور تزویراتی بحران پیدا کر رہی ہے۔