سماج

تارکین وطن سے متعلق نیا اطالوی قانون: مواقع اب کتنے محدود؟

اٹلی کی پارلیمان نے حال ہی میں غیر قانونی ترک وطن کے خلاف کریک ڈاؤن سے متعلق نئے متنازعہ قانون کی منظوری دے دی۔تارکین وطن کو خصوصی تحفظ تو دیا جائے گا مگر ساتھ ہی ترک وطن کے قوانین سخت کر دیے گئے ہیں۔

تارکین وطن سے متعلق نیا اطالوی قانون: مواقع اب کتنے محدود؟
تارکین وطن سے متعلق نیا اطالوی قانون: مواقع اب کتنے محدود؟ 

اٹلی کی پارلیمان نے حال ہی میں غیر قانونی ترک وطن کے خلاف کریک ڈاؤن سے متعلق نئے متنازعہ قانون کی منظوری دے دی۔ یوں تارکین وطن کو خصوصی تحفظ تو دیا جائے گا مگر ساتھ ہی ترک وطن کے قوانین محدود اور سخت بھی کر دیے گئے ہیں۔

Published: undefined

اٹلی کی پارلیمان نے حال ہی میں غیر قانونی ترک وطن کے خلاف کریک ڈاؤن کے لیے ایک نئے لیکن متنازعہ ضابطے کو قانونی شکل دیتے ہوئے اسے منظور کر لیا۔ اس قانون کو دراصل گزشتہ فروری میں ملک کے ایک جنوبی شہر کے قریب رونما ہونے والے اس سمندری واقعے کے پس منظر میں منظور کیا گیا، جس میں 90 سے زیادہ افراد ایک بحری جہاز کے حادثے میں ہلاک ہوئے تھے۔ اس قانون کے تحت اطالوی حکام کی طرف سے ان تارکین وطن کو تحفظ دیے جانے نے کے مواقع بہت محدود کر دیے گئے ہیں، جو پناہ حاصل کرنے کے اہل نہیں ہوتے مگر انسانوں کی اسمگلنگ کرنے والے گروہ انہیں پناہ کے حصول کی امید دلا کر بحیرہ روم کے راستے اطالوی ساحلی علاقوں تک پہنچانے کی کوششیں کر تے ہیں۔

Published: undefined

اعداد و شمار

اٹلی میں 2023 ء کے آغاز سے اب تک 42 ہزار سے زائد غیر قانونی تارکین وطن کی آمد ریکارڈ کی جا چکی ہے، جو پچھلے سال کی اسی مدت کے مقابلے میں چار گنا زیادہ ہے۔ روم حکومت کا دعویٰ ہے کہ اٹلی میں 'خصوصی تحفظ‘ دیے جانے کے لیے پناہ دینے کا عمل تارکین وطن کو اس ملک تک کا خطرناک سفر شروع کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔

Published: undefined

ملکی وزیر زراعت فرانچیسکو لولوبریجیڈا، جو خاتون وزیر اعظم جارجیا میلونی کی انتہائی دائیں بازو کی جماعت 'برادرز آف اٹلی پارٹی‘ سے تعلق رکھتے ہیں، کے ایک بیان نے حال ہی میں ایک تنازعے کو جنم دے دیا تھا۔ انہوں نے اپنے اس بیان میں اٹلی کی 'نسلی تبدیلی‘ کے خلاف خبردار کرتے ہوئے کہا تھا کہ تارکین وطن 'اٹلی کے مقامی باشندوں کی نسلی تبدیلی کا سبب‘ بن سکتے ہیں۔ اس اطالوی وزیر کے اس بیان کو وسیع پیمانے پر نسل پرستانہ سمجھا جا رہا ہے۔

Published: undefined

ترک وطن سے متعلق قوانین میں نئی تبدیلیاں

اٹلی میں ترک وطن کے قوانین میں اب بہت کچھ تبدیل ہو گیا ہے۔ ایک طرف پناہ کے متلاشی ایسے غیر ملکیوں یا مہاجرین کو، جنہیں ان کے آبائی ممالک میں تشدد، غیر انسانی سلوک یا انسانی حقوق کی منظم خلاف ورزیوں کے خطرات لاحق ہوتے ہیں، خصوصی تحفظ دینے کی بات کی گئی ہے۔ دوسری طرف نیا قانون معاشی انضمام کے خاندانی روابط پر مبنی معیار کو ختم کر کے ایسے تارکین وطن کے لیے اٹلی تک رسائی کو محدود کر دیتا ہے، جنہیں ان کے آبائی ممالک میں جان کے کوئی خطرات لاحق نہیں ہوتے۔

Published: undefined

پاؤلو ڈی اسٹیفانی پاڈووا یونیورسٹی میں بین الاقوامی قانون کے پروفیسر ہیں۔ وہ کہتے ہیں، ''اگر کوئی شخص اپنے آبائی ملک میں خوفناک خطرے یا خطرات سے دوچار نہیں، لیکن اس دوران وہ اٹلی میں اپنے خاندان کی بنیاد رکھ چکا ہے اور اس کے بچے بھی ہیں، تو قانونی رہائشی حیثیت کا جائزہ لینے والا کمیشن اس بات کو خاطر میں نہیں لائے گا۔‘‘

Published: undefined

نئے قانون کے تحت قدرتی آفات سے فرار ہو کر آنے والوں یا شدید طبی حالات میں علاج کی غرض سے اٹلی آنے والے افراد کے لیے خصوصی تحفظ تک رسائی بھی محدود کر دی گئی ہے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ ایسے غیر ملکیوں کے لیے اٹلی آ کر اپنے ویزے کو ورک پرمٹ میں تبدیل کروانا ممکن نہیں ہو گا۔

Published: undefined

نابالغوں اور جبری شادی کے متاثرین کے لیے قانون

تارکین وطن کے استقبالیہ مراکز میں اطالوی زبان کے کورسز اور قانونی مشورے کی سہولیات بھی ختم ہو جائیں گی۔ بغیر کسی سرپرست کے نابالغوں کے لیے بھی قوانین بدل جائیں گے۔ وہ 18 سال کی عمر کو پہنچنے تک خصوصی تحفظ کے حقدار ہوں گے۔ اس مدت میں وہ مزید ایک سال کا اضافہ کروانے کے بھی اہل ہوں گے لیکن وہ اپنی اس قانونی حیثیت کو کسی ورک پرمٹ میں تبدیل نہیں کروا سکیں گے۔

Published: undefined

پروفیسر پاؤلو ڈی اسٹیفانی نے مزید کہا، ''اس کا مطلب بہت چھوٹی عمر میں اٹلی پہنچنے والے تارکین وطن کے لیے سماجی انضمام کے امکانات کو ختم کر دینا ہوگا۔ ایسے بچوں کے لیے بہتر مستقبل اور حصول تعلیم کے کون سے امکانات باقی رہ جائیں گے؟‘‘ نئے قانون میں پابندیوں کے برعکس جبری شادی کے متاثرین کے لیے خصوصی تحفظ کے قانون کے تحت درخواست دینے کے نئے امکانات موجود ہیں۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined