اسرائیلی حملوں میں ایران کے وزیر دفاع سمیت کئی سینئر افسران کی ہلاکت کا دعویٰ، میڈیا سے مخاطب ہوں گے خامنہ ای

وہائٹ ہاؤس نے ان خبروں کو غلط بتایا ہے، جن میں کہا جا رہا تھا کہ امریکی صدر ٹرمپ ہفتہ کی صبح ملک کو پھر سے خطاب کریں گے۔

<div class="paragraphs"><p>ایران کے رہبر اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای / آئی اے این ایس</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

اسرائیل اور امریکہ کے ذریعہ ایران پر کیے گئے حملوں کے خونریز نتائج سامنے آنے شروع ہو گئے ہیں۔ ایک طرف میناب میں گرلس اسکول کی درجنوں طالبات ہلاک ہو چکی ہیں، اور تہران کے ایک اسکول میں بھی کچھ طلبا کی موت کی خبریں سامنے آئی ہیں، دوسری طرف ایران کے کئی سینئر افسران کی ہلاکت کا دعویٰ بھی کیا جا رہا ہے۔ خبر رساں ایجنسی ’رائٹرس‘ کے ذریعہ دی گئی جانکاری کے مطابق اسرائیل نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کے حالیہ حملوں میں ایران کے وزیر دفاع امیر ناصرزادہ کی موت ہو گئی ہے۔ ریولوشنری گارڈس کے کمانڈر محمد پاکپور کی ہلاکت سے متعلق خبریں تو پہلے سے ہی آ رہی تھیں، وزیر دفاع کی موت ایران کے لیے شدید جھٹکا ہے۔

میڈیا رپورٹس میں ایران کے کچھ دیگر افسران کی موت کی خبریں بھی سامنے آئی ہیں، لیکن مصدقہ طور پر کچھ بھی نہیں کہا جا رہا ہے۔ ایران کی طرف سے بھی وزیر دفاع کی موت کے بارے میں کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے۔ ایران کے سپریم لیڈر کچھ دیر میں میڈیا سے مخاطب ضرور ہونے والے ہیں اور امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ وہ کچھ اہم جانکاریاں دے سکتے ہیں۔ ایسی بھی امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ خامنہ ای آئندہ کے منصوبوں کے بارے میں میڈیا اور عوام کو مطلع کر سکتے ہیں۔


ایسی بھی خبریں سامنے آ رہی تھیں کہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ ایک بار پھر عوام سے خطاب کرنے والے ہیں۔ حالانکہ وہائٹ ہاؤس نے اس خبر کی تردید کر دی ہے۔ وہائٹ ہاؤس نے ان خبروں کو غلط بتایا ہے، جن میں کہا جا رہا تھا کہ امریکی صدر ٹرمپ ہفتہ کی صبح ملک کو پھر سے خطاب کریں گے۔ یہ خبر بھی سامنے آ رہی ہے کہ بحرین میں امریکی سفارت خانہ نے اعلان کیا ہے کہ ایران کی طرف سے مناما کو نشانہ بنا کر میزائل حملے کیے گئے ہیں۔ اس کو پیش نظر رکھتے ہوئے سفارتخانہ اتوار کے روز بند رہے گا۔