سماج

مقبوضہ فلسطینی علاقے میں تیار کردہ اسرائیلی شراب، متحدہ عرب امارات میں ہوگی فروخت

مقبوضہ فلسطینی علاقے میں تیار کردہ اسرائیلی شراب متحدہ عرب امارات میں فروخت کی جائے گی۔ یورپی یونین کے برعکس یو اے ای نے ایسی کوئی شرط نہیں رکھی کہ ایسی اسرائیلی مصنوعات پر خصوصی لیبل چسپاں کیے جائیں۔

مقبوضہ فلسطینی علاقے میں تیار کردہ اسرائیلی شراب متحدہ عرب امارات میں
مقبوضہ فلسطینی علاقے میں تیار کردہ اسرائیلی شراب متحدہ عرب امارات میں 

فلسطین کے مقبوضہ علاقوں میں تیار کردہ اسرائیلی شراب جلد ہی متحدہ عرب امارات میں دستیاب ہو گی اور اس شراب پر صرف یہ لیبل چسپاں ہو گا: 'اسرائیل میں تیار کردہ‘۔ فلسطینیوں نے اس معاہدے کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ مقبوضہ علاقوں میں تیار کردہ اشیاء کی تجارت بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔ کئی دیگر ممالک بھی اس حوالے سے یہی نظریہ رکھتے ہیں تاہم اسرائیل اسے متنازعہ قرار دیتا ہے۔

Published: 18 Jan 2021, 6:52 AM IST

اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کے مابین سفارتی تعلقات قائم ہونے کے بعد تجارتی معاہدے بھی کیے گئے تھے۔ ایک عرب کمپنی نے شراب اور زیتون کا تیل درآمد کرنے کے لیے اسرائیل کی کمپنی 'تورا وائنری‘ کے ساتھ معاہدہ کیا تھا اور یہ کمپنی مقبوضہ مغربی کنارے کے ريحاليم نامی علاقے میں واقع ہے۔

Published: 18 Jan 2021, 6:52 AM IST

اس کمپنی کے مالک ویریڈ بن سادون کا نیوز ایجنسی روئٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ برآمدات سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسرائیل اور یو اے ای کے مابین معاہدہ یہودی آبادکاری والے علاقوں تک پھیلا ہوا ہے، یعنی مغربی کنارے تک، جسے اسرائیل نے 1967ء میں اپنے قبضے میں لے لیا تھا۔

Published: 18 Jan 2021, 6:52 AM IST

چوالیس سالہ سادون کا کہنا تھا، ''یہ متحدہ عرب امارات کے لوگوں کے لیے خوشی کی بات ہو گی، امن عمل کو محسوس کرنا، اس کا حصہ بننا۔ اگر آپ ابوظہبی کے ایک ہوٹل میں بیٹھے ہوں اور تورا (وائن) کا ایک گلاس پئیں تو یہ تاریخ کا حصہ بننے کے مترادف ہے۔‘‘

Published: 18 Jan 2021, 6:52 AM IST

یہ اسرائیلی کمپنی زیتون کا تیل بھی متحدہ عرب امارات کو برآمد کر چکی ہے اور ان بوتلوں پر بھی صرف یہی لکھا ہوا تھا: ''فرام دا لینڈ آف اسرائیل۔‘‘

Published: 18 Jan 2021, 6:52 AM IST

متحدہ عرب امارات کے حکام سے جب مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں تیار کردہ مصنوعات کی درآمد کے حوالے سے پوچھا گیا، تو انہوں نے کوئی بھی تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔ تاہم یہ ضرور کہا گیا کہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات سے علاقے میں امن پھیلے گا۔

Published: 18 Jan 2021, 6:52 AM IST

متحدہ عرب امارات نے ایسی کوئی شرط بھی نہیں رکھی کہ مقبوضہ علاقوں میں تیار کردہ اشیاء پر یہ لیبل لگایا جائے کہ وہ یہودی آبادکاری والے علاقوں میں تیار کی گئی ہیں۔

Published: 18 Jan 2021, 6:52 AM IST

یورپی یونین میں ایسے لیبل لگانا ضروری ہیں تاکہ عوام کو آگاہ کیا جا سکے کہ وہ کس علاقے کی چیز خرید رہے ہیں۔

Published: 18 Jan 2021, 6:52 AM IST

گزشتہ برس امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی ایک حکم نامہ جاری کرتے ہوئے کہا تھا کہ اسرائیل سے درآمد کی جانے والی مصنوعات پر صرف 'میڈ ان اسرائیل یا پراڈکٹس آف اسرائیل‘ لکھا جانا کافی ہے۔

Published: 18 Jan 2021, 6:52 AM IST

نو منتخب امریکی صدر جو بائیڈن اسرائیل کی یہودی آبادکاری کی پالیسی کے ناقد ہیں لیکن یہ واضح نہیں کہ وہ ٹرمپ انتظامیہ کی لیبلنگ گائیڈ لائنز کو تبدیل کریں گے یا نہیں۔

Published: 18 Jan 2021, 6:52 AM IST

فلسطینیوں کا احتجاج

Published: 18 Jan 2021, 6:52 AM IST

ريحاليم سے تقریباﹰ دو کلومیٹر دور یوسف نامی گاؤں واقع ہے۔ وہاں زیتون اور شہد کا کاروبار کرنے والے ستاون سالہ فلسطینی کسان نظام عبدالرزاق کا کہنا تھا، ''یہ دیکھ کر دل ٹوٹ جاتا ہے کہ ہمارے مسلمان بھائی( متحدہ عرب امارات میں) اپنی رقم لگا کر ہمارے دشمن کی حمایت کر رہے ہیں۔‘‘

Published: 18 Jan 2021, 6:52 AM IST

تورا کمپنی کے فیس بک پیج پر اس تقریب کی تصاویر بھی پوسٹ کی گئی ہیں، جو دسمبر میں معاہدے کے وقت ابوظہبی میں منعقد کی گئی تھی۔ اس تقریب میں بھی ایک میز پر تورا وائن کی بوتل دیکھی جا سکتی ہے۔ تورا کمپنی متحدہ عرب امارات کو شہد بھی برآمد کرے گی۔

Published: 18 Jan 2021, 6:52 AM IST

فلسطینی اتھارٹی کی وزارت اقتصادیات نے مقبوضہ علاقوں میں تیار کردہ مصنوعات کی خریداری کو ''بین الاقوامی قوانین کی صریحاﹰ خلاف ورزی‘‘ قرار دیا ہے۔ اتھارٹی کے جاری کردہ ایک بیان کے مطابق ایسا کرنا مقبوضہ علاقوں میں یہودی آبادکاری کو جائز تسلیم کرنے کے مترادف ہے۔

Published: 18 Jan 2021, 6:52 AM IST

اسرائیل کے مطابق مقبوضہ علاقوں میں یہودی بستیوں کی تعمیر غیرقانونی نہیں ہے کیوں کہ یہودیوں کے اس زمین کے ساتھ بائبل میں تذکرے کی حد تک بھی تاریخی اور سیاسی روابط ہیں۔ اسرائیل مغربی کنارے کے علاقے میں اب تک تقریباﹰ چار لاکھ چالیس ہزار یہودیوں کو آباد کر چکا ہے جبکہ وہاں فلسطینیوں کی آبادی تقریباﹰ تیس لاکھ بنتی ہے۔

Published: 18 Jan 2021, 6:52 AM IST

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: 18 Jan 2021, 6:52 AM IST