معروف فٹبالر لیونل میسی کے والد کا طویل علالت کے بعد انتقال، 68 سال کی عمر میں لی آخری سانس

رواں سال جون ماہ میں جارج میسی کی طبیعت کو لے کر مختلف طرح کی خبریں سامنے آنے کے بعد میسی فیملی کو عوامی طور پر بیان جاری کرنا پڑا تھا۔

<div class="paragraphs"><p>والد جارج میسی کے ساتھ لیونل میسی، تصویر سوشل میڈیا</p></div>
i

ارجنٹائنا کے معروف فٹبالر لیونل میسی کے والد جارج میسی کا 68 سال کی عمر میں انتقال ہو گیا۔ جارج میسی نے ارجنٹائنا کے روزاریو میں طویل علالت کے بعد آخری سانس لی۔ خبر رساں ایجنسی ’رائٹرز‘ سمیت ارجنٹائنا کے کئی میڈیا اداروں نے ہفتہ (8 اگست) کو ان کے انتقال کی تصدیق کی۔ میسی کے کیریئر کو تشکیل دینے میں جارج میسی کا انتہائی اہم کردار رہا ہے۔

قابل ذکر ہے کہ رواں سال جون ماہ میں جارج میسی کی طبیعت کو لے کر مختلف طرح کی خبریں سامنے آنے کے بعد میسی فیملی کو عوامی طور پر بیان جاری کرنا پڑا تھا۔ خاندان نے اس وقت تصدیق کی تھی کہ جارج صحت سے متعلق مسائل سے دوچار ہیں اور ڈاکٹروں کی نگرانی میں ہیں۔ ساتھ ہی بتایا گیا تھا کہ ان کی حالت میں بہتری آ رہی ہے۔ میسی فیملی نے جارج میسی کی صحت کو لے کر چل رہی افواہوں اور قیاس آرائیوں پر ناراضگی بھی ظاہر کی تھی۔ بیان میں کہا گیا تھا کہ یہ مکمل طور پر ذاتی خاندانی معاملہ ہے اور جس طرح کچھ لوگوں نے اس معاملے میں حساسیت، احترام اور رازداری کا خیال نہیں رکھا، اس سے خاندان بہت فکرمند ہے۔


یہ بیان اس وقت آیا تھا جب عالمی کپ میں الجزائر کے خلاف گول کرنے کے بعد لیونل میسی جذباتی ہو گئے تھے۔ میچ کے بعد لیونل میسی نے کہا تھا کہ ان کے آنسوؤں کا فٹبال سے کوئی تعلق نہیں ہے اور گزشتہ کچھ دن ان کے لیے مشکل رہے ہیں۔ اس کے بعد ان کے والد کی صحت کو لے کر بات چیت تیز ہو گئی تھی۔

جارج میسی کی طبیعت کو لے کر تشویش جولائی کے آخر میں ایک بار پھر بڑھ گئی۔ لیونل میسی نے ایم ایل ایس آل اسٹار گیم میں حصہ نہیں لیا تھا۔ ان کے اس فیصلے کو والد کی صحت سے جوڑ کر دیکھا گیا اور خیال کیا گیا کہ وہ ان سے ملنے گئے تھے۔ تاہم اس کی آفیشیل وجہ واضح نہیں کی گئی تھی۔ کچھ دنوں بعد میسی میدان پر واپس آ گئے اور ایم ایل ایس مقابلے میں کھیلے۔ اس کے باوجود ان کے والد کی صحت کے بارے میں خاندان کی جانب سے زیادہ معلومات عوام کے سامنے نہیں لائی گئیں اور معاملے کو پرائیویٹ ہی رکھا گیا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔