سماج

بھارت: تمام طلبہ کے لیے یکساں یونیفارم، صنفی مساوات کی طرف قدم

بھارتی ریاست کیرالا کے ایک اسکول نے تمام طلبہ اور طالبات کے لیے یکساں یونیفارم کوڈ نافذ کیا ہے۔ اسکول انتظامیہ کے مطابق یہ صنفی مساوات کی جانب ایک اور قدم ہے اور یوں صنفی غیر جانبداری کو فروغ ملے گا۔

بھارت: تمام طلبہ کے لیے یکساں یونیفارم، صنفی مساوات کی طرف قدم
بھارت: تمام طلبہ کے لیے یکساں یونیفارم، صنفی مساوات کی طرف قدم 

جنوبی بھارتی ریاست کیرالا کے ارناکولم ضلع میں واقع ولاین چیرانگرا گورنمنٹ اسکول نے تمام طلبہ و طالبات کے لیے یکساں یونیفارم کوڈ نافذ کیا ہے۔ اس کے تحت اسکول میں زیر تعلیم تمام لڑکے اور لڑکیاں اب تین چوتھائی لمبائی والی پینٹس (شارٹس)اور شرٹ پہن کر اسکول آتے ہیں۔

Published: undefined

اسکول انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے سماج کے سب سے اہم طبقے یعنی بچوں میں صنفی غیر جانبداری کے رویے کو فروغ دینے میں مدد ملے گی۔

Published: undefined

بھارت کے کسی بھی اسکول میں تمام طلبہ اور طالبات کے لیے یکساں یونیفارم کا یہ فیصلہ اپنی نوعیت کے لحاظ سے منفرد اور پہلا فیصلہ ہے۔ یہ اس لحاظ سے بھی اہم ہے کہ بھارت میں ایک طبقہ ہر چیز کو مذہب کی عینک سے دیکھتا ہے اور چھوٹی چھوٹی چیزوں پر اس کے 'مذہبی جذبا ت مجروح‘ ہو جاتے ہیں۔

Published: undefined

کیا الگ الگ اسکولو ں کی ضرورت ہے؟

کیرالا میں بایاں محاذ حکومت کے وزیر تعلیم وی سیوان کٹّی نے اسکول کے اس فیصلے کی تعریف کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اس طرح کی صنفی شمولیت کی سرگرمیوں کو فروغ دینے میں مدد کرے گی۔

Published: undefined

سیوان کٹّی نے ایک ٹویٹ میں کہا، ''نصابی کتابوں میں صنفی انصاف، مساوات اور بیداری کے آئیڈیاز پر تو زور دیا جاتا ہے لیکن ان چیزوں کو صرف نصابی کتابوں تک محدود نہیں رکھا جانا چاہیے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ اب طلبہ اور طالبات دونوں ایک ہی طرح کے یونیفارم یعنی شارٹ پینٹس اور شرٹس پہنیں گے۔

Published: undefined

ریاستی وزیر تعلیم کا کہنا تھا کہ سماج میں یہ بحث بھی شروع ہونا چاہیے کہ کیا اب بھی لڑکوں اور لڑکیوں کے لیے الگ الگ اسکولوں کی ضرورت برقرار ہے۔ انہوں نے کہا، ''ان کی حکومت تمام اسٹوڈنٹس کے لیے یونی سیکس یونیفارم کے آئیڈیا کی مکمل حمایت کرتی ہے کیونکہ یہ صنفی مساوات کو یقینی بنانے کی سمت میں ایک اہم قدم ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ اسکولوں کے نصاب میں صنفی مساوات اور انصاف کو شامل کرنے کے سلسلے میں خصوصی اقدامات کیے جائیں گے۔

Published: undefined

فیصلہ دو برس پہلے ہوا تھا

مذکورہ اسکول میں 754 طلبہ زیر تعلیم ہیں۔ نیا ڈریس کوڈ نافذ کرنے کا فیصلہ 2018ء میں کیا گیا تھا اور اسکول کے پرائمری سیکشن میں اسے نافذ بھی کر دیا گیا تھا۔ تاہم اب جب کورونا وائرس کی وبا کی وجہ سے لاک ڈاون کے بعد اسکول دوبارہ کھلا تو اسے تمام کلاسوں کے اسٹوڈنٹس کے لیے نافذ کر دیا گیا۔

Published: undefined

اسکول کی پرنسپل کے پی سوما کا کہنا تھا کہ طلبہ اس نئے یونیفارم میں کافی خوش ہیں اور لڑکیاں اس یونیفارم کو زیادہ آرام دہ محسوس کرتی ہیں اور زیادہ اعتماد کے ساتھ کھیل کود کی سرگرمیوں میں حصہ لے رہی ہیں۔

Published: undefined

انہوں نے کہا کہ 'پیرینٹس ٹیچر ایسوسی ایشن (پی ٹی اے)‘ میں اس بارے میں مشورہ ہوا اور نئے یونیفارم کے لیے ایک فیشن ڈیزائنر کی خدمات بھی حاصل کی گئیں۔ نیا یونیفارم تیار کرنے والی ڈیزائنر ودیا مکندن کا کہنا تھا کہ ابتدا میں طلبہ کے سرپرستوں کو تھوڑی جھجھک تھی، بالخصوص ان کا کہنا تھا کہ اس ڈریس میں لڑکیاں کس طرح ٹائلٹ استعمال کریں گی۔

Published: undefined

طالبات اور ان کے سرپرست بھی خوش

پی ٹی اے کے صدر وویک نے بتایا کہ وہ چاہتے تھے کہ تمام طلبہ ایک ہی طرح کے یونیفارم پہنیں تاکہ وہ آزادی سے کھیل کود سکیں۔ پرائمری کلاسوں میں جب اسے نافذ کیا گیا تو اس کے حوصلہ افزا نتائج سامنے آئے، جس کے بعد متفقہ طور پر اسے دیگر کلاسز کے لیے نافذ کرنے کی منظوری دے دی گئی۔

Published: undefined

اسکول کی ایک طالبہ کا کہنا تھا، ''ہمارے والدین ہمیں اسپورٹس اور ڈانس وغیرہ جیسی سرگرمیوں میں حصہ لیتے وقت زیادہ محتاط رہنے کا مشورہ دیتے تھے کیونکہ اسکرٹ ایسی سرگرمیوں کے لیے زیادہ مناسب نہیں ہے۔ میں اب بہت خوش ہوں اور اسپورٹس اور کسی بھی غیر نصابی سرگرمی میں آزادی سے حصہ لے سکتی ہوں۔‘‘

Published: undefined

کیرالا بھارت کی سب سے خواندہ ریاست ہے۔ سن 2011 کی مردم شمار ی کے مطابق جنوبی ریاست کیرالا میں خواندگی کی شرح 96.2 فیصد ہے جبکہ بھارت میں قومی خواندگی کی شرح 65.83 فیصد ہے۔

Published: undefined

کیرالا حکومت نے اس ماہ کے اوائل میں ایک اور اہم فیصلہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ اسکولوں میں خواتین ٹیچروں کے لیے ساڑھی پہن کر آنا ضروری نہیں۔ ریاستی حکومت کا کہنا تھا کہ لباس ہر فرد کا ذاتی معاملہ ہے اور ساڑھی پہننے پر اصرار کرنا کیرالا کے ترقی پسندانہ رویے سے مطابقت نہیں رکھتا۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined