سماج

بھارت میں آوارہ کتوں کے مسئلے پر عدالت کا غیر معمولی فیصلہ

پنجاب و ہریانہ ہائی کورٹ نے کہا ہے کہ آوارہ جانوروں کے حملوں کے متاثرین کو معاوضہ ادا کرنا ''بنیادی طورپر ریاست کی ذمہ داری" ہو گی۔ کتوں کے حملے میں صنعتکار پراگ ڈیسائی کی ہلاکت سے ملک میں بحث شروع ۔

بھارت میں آوارہ کتوں کے مسئلے پر عدالت کا غیر معمولی فیصلہ
بھارت میں آوارہ کتوں کے مسئلے پر عدالت کا غیر معمولی فیصلہ 

پنجاب اور ہریانہ ہائی کورٹ کے فیصلے سے ایک اہم نظیر قائم ہوجانے اور بھارت میں ایک بڑی بحث شروع ہوجانے کا امکان ہے۔ ہائی کورٹ نے ریاست پنجاب، ہریانہ اور مرکز کے زیرانتظام علاقے چنڈی گڑھ کو حکم دیا ہے کہ وہ ایک کمیٹی قائم کریں جو آوارہ جانوروں بشمول کتوں کی وجہ سے ہونے والے حادثات یا ان کے حملوں سے متاثرہ افراد کو معاوضہ ادا کرنے کا فیصلہ کرے۔

Published: undefined

عدالت نے کیا کہا؟

پنجاب وہریانہ ہائی کورٹ نے عدالت نے آوارہ جانوروں کے حملوں کے متعلق 193 عرضیوں کی سماعت کرتے ہوئے یہ فیصلہ سنایا۔ عدالت نے کہا کہ آوارہ جانوروں مثلاً کتوں اور مویشیوں کے حملوں کے معاملات میں معاوضہ ادا کرنے کے لیے بنیادی طورپر ریاست ذمہ داری ہو گی۔

Published: undefined

عدالت نے اپنے حکم میں کہا کہ کتے کے کاٹنے کے معاملے میں ہر ایک دانت کے نشان کے بدلے میں کم از کم دس ہزار روپے اور فی 0.2سینٹی میٹرکے زخم یا گوشت باہر آجانے پر کم از کم بیس ہزار روپے کے حساب سے معاوضہ ادا کیا جائے۔ عدالت نے کہا، "ریاست بنیادی طورپر معاوضہ ادا کرنے کی ذمہ دار ہوگی۔ ریاست کویہ رقم قصوروار ایجنسیوں، ریاستی اداروں یا نجی شخص (اگر کوئی ہے) سے وصول کرنے کا حق ہو گا۔"

Published: undefined

عدالت نے کتوں کے علاوہ گائے، بیل، گدھے، نیل گائے، بھینس جیسے جانور اور جنگلی اور پالتوکے علاوہ آوارہ جانوروں کو بھی اس فہرست میں شامل کیا۔ عدالت نے معاوضے کا تعین کرنے کے لیے ضلعی ڈپٹی کمشنر کی صدارت میں ایک کمیٹی تشکیل دینے کا حکم دیا جس میں پولیس سپرنٹنڈنٹ، متعلقہ علاقے کا ایس ڈی ایم، ڈسٹرکٹ ٹرانسپورٹ افسر اور چیف میڈیکل افسر شامل ہوں گے۔

Published: undefined

دور رس اہمیت کا حامل فیصلہ

یہ فیصلہ بھارت میں آوارہ کتوں کی لعنت پر جاری زبردست بحث کے درمیان آیا ہے۔ معروف صنعت کار اور واگھ بکری گروپ کے ڈائریکٹر 49 سالہ پراگ ڈیسائی کی موت نے بحث کا ایک نیا دور شروع کردیا تھا۔ ڈیسائی کی موت مبینہ طورپر آوارہ کتوں کا پیچھا کرنے کے بعد گرجانے سے برین ہیمرج کی وجہ سے ہوئی تھی۔

Published: undefined

اس واقعے کے فوراً بعد آوارہ کتوں کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے فوری اقدامات کا مطالبہ تیز ہوگیا۔ صارفین نے سوشل میڈیا پر ایسے متعدد ویڈیو ز پوسٹ کیں جن میں جانوروں بالخصوص کتوں کے حملوں میں بچوں سمیت دیگر افراد کی ہلاکت اور زخمی ہونے کے واقعات دکھائے گئے تھے۔ ایسے واقعات پر بڑھتی ہوئی عوامی ناراضگی کی وجہ سے جانوروں پر ظلم کے واقعات بھی رونما ہوئے ہیں۔

Published: undefined

یہ فیصلہ اس لحاظ سے بھی اہمیت کا حامل ہے کہ جانوروں کی بہبود کی تنظیمیں آوارہ کتوں کے متعلق مقامی انتظامیہ کی کارروائیوں کی مخالفت کرتی رہی ہیں۔ آوارہ کتوں کی بڑھتی ہوئی تعداد پر قابو پانے کے لیے انتظامیہ ان کی نس بندی اور ویکسینیشن جیسے کئی اقدامات کرتی ہے۔ جی ٹوئنٹی سربراہی اجلاس کے دوران دہلی میں ہزاروں آوارہ کتوں کوزبردستی پکڑ کر بند کردیا گیا تھا،جس پر بعض حلقوں نے کافی ناراضگی ظاہر کی تھی۔

Published: undefined

ریبیز ایک بڑا مسئلہ

جانوروں کے کاٹنے کے واقعات دنیا بھر میں صحت عامہ کا ایک اہم مسئلہ ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے اندازے کے مطابق ریبیز سے سالانہ 55000 افراد ہلاک ہوجاتے ہیں ان میں 36 فیصد اموات بھارت میں ہوتی ہیں۔ بھارتی پارلیمان میں پیش کی گئی ایک رپورٹ کے مطابق ملک میں سن 2019 سے 2022 کے درمیان آوارہ کتوں کے کاٹنے کے تقریباً 16ملین یعنی روزانہ اوسطاً دس ہزار کیسز درج کیے گئے۔ تاہم اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ بتائی جاتی ہے۔

Published: undefined

سن 2022 میں بھارت میں کتوں کے کاٹنے سے 307 افراد ہلاک ہوئے، سب سے زیادہ 48 کیسز دہلی میں درج کیے گئے۔ ماہرین اور سماجی کارکن آوارہ کتوں حتیٰ کہ بعض اوقات میں پالتوں کتوں کے کاٹنے اوربچوں کو مارنے کے بڑھتے ہوئے واقعات سے حیران ہیں۔

Published: undefined

انڈین میڈیکل ایسوسی ایشن کی مرکزی ورکنگ کمیٹی کے رکن ڈاکٹر شرد گپتا کا کہنا تھا کہ بھارت میں جانوروں بشمول کتوں کے کاٹنے اور ریبیز کے کیسز کی وجہ سے ہونے والی تمام اموات کو محفوظ اور کارآمد ریبیز ویکسین سے روکا جاسکتا ہے لیکن بعض وجوہات اور اسباب کی بنا پر یہ کوششیں اب تک ناکام رہی ہیں۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined