
Getty Images
نئی دہلی: ہندوستان کے ممتاز سائنس دانوں کے گروپ سائنٹسٹس فار جینیٹک ڈائیورسٹی (ایس جی ڈی) نے مرکزی وزیر زراعت شیوراج سنگھ چوہان کو خط لکھ کر خبردار کیا ہے کہ بیجوں اور پودوں کے جینیاتی مواد سے متعلق ایک بین الاقوامی معاہدے کے تحت جو نئی تجویز پیش کی گئی ہے، وہ ہندوستان سمیت ترقی پذیر ممالک کے مفاد میں نہیں ہے اور اسے پوری طرح مسترد کر دینا چاہیے۔
Published: undefined
اس معاہدے کے تحت دنیا بھر کے ملک آپس میں بیجوں اور ان کے جینیاتی مواد کا تبادلہ کرتے ہیں۔ سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ اب جو نئی تجویز لائی گئی ہے، اسے ’کمپرومائز‘ یعنی سمجھوتہ کہا جا رہا ہے مگر حقیقت میں یہ سمجھوتہ صرف ترقی یافتہ ملکوں اور بڑی زرعی کمپنیوں کو فائدہ پہنچاتا ہے۔ اس تجویز میں ترقی پذیر ممالک کی وہ باتیں شامل ہی نہیں کی گئیں جو وہ کئی سال سے کر رہے ہی، مثلاً بیجوں کے استعمال کے بدلے لازمی مالی فائدہ یا ادائیگی۔
سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ ترقی یافتہ ممالک پہلے ہی برسوں سے ایشیا، افریقہ اور لاطینی امریکہ کے ملکوں کے بیج استعمال کر رہے ہیں لیکن ان بیجوں کے اصل مالک کسانوں کو مناسب فائدہ نہیں ملتا۔ ایسے میں اب بیجوں کے عالمی ذخیرے میں مزید فصلیں شامل کرنے کی تجویز سامنے آئی ہے، جس سے جنوبی دنیا کے جینیاتی وسائل مزید بڑی کارپوریشنوں کے ہاتھ میں پہنچ سکتے ہیں، جبکہ بدلے میں کچھ بھی یقینی نہیں۔
Published: undefined
مکتوب میں یہ بھی کہا گیا کہ اس تجویز کے اہم حصے یعنی بیجوں کے استعمال پر لازمی ادائیگی کا نظام، اس کی شرح اور اس کا طریقہ، سب کچھ اگلی میٹنگ تک ٹال دیا گیا ہے۔ سائنس دانوں کے مطابق یہ جان بوجھ کر کیا گیا ہے تاکہ موجودہ غیر منصفانہ نظام برقرار رہے، جس میں بڑی کمپنیاں آسانی سے جینیاتی مواد لے لیتی ہیں لیکن معاوضہ نہیں دیتیں۔
ایک اور بڑا مسئلہ جس پر سائنس دانوں نے توجہ دلائی وہ جدید دور کا ’ڈیجیٹل جینیاتی مواد‘ ہے۔ آج کمپنیاں بیج حاصل کیے بغیر صرف ڈیٹا کی بنیاد پر نئی اقسام تیار کر لیتی ہیں۔ سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ اس بڑے مسئلے کو بھی ٹال کر ایک عارضی کمیٹی کے سپرد کر دیا گیا ہے، جس سے ڈر ہے کہ فیصلے پھر طاقتور ملکوں کے حق میں ہوں گے۔
Published: undefined
مکتوب میں سائنس دانوں نے جی بی 11 اجلاس میں ہندوستانی وفد کی خاموشی پر بھی ناراضی ظاہر کی اور کہا کہ یہ بے عملی کسانوں کے حقوق پر سمجھوتے کے مترادف ہے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس تجویز کو مکمل طور پر رد کرے اور اگلی عالمی میٹنگ میں ہندوستان کے کسانوں اور جینیاتی ورثے کے تحفظ کے لیے مضبوط اور واضح موقف اپنائے۔
خط پر دستخط کرنے والوں میں ملک کے معروف ماہرین ڈاکٹر سمن سہائے، ڈاکٹر سرتھ بابو بالجے پلی، ڈاکٹر دنیش ابرول اور ڈاکٹر سوما مارلا شامل ہیں۔ یہ چاروں ماہرین مل کر ایس جی ڈی پلیٹ فارم چلاتے ہیں، جو جینیاتی وسائل، بیجوں کے حقوق اور عالمی زرعی پالیسیوں پر تحقیق کرتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ہندوستان دنیا کے جینیاتی اعتبار سے سب سے متنوع ممالک میں شامل ہے، اس لیے کسی بھی تبدیلی کا سب سے زیادہ اثر ہمارے کسانوں پر پڑتا ہے۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined