سائنس

نامور ماہرِ ماحولیات مادھو گاڈگل کا انتقال، مغربی گھاٹ کے تحفظ کی جدوجہد کا ایک باب ختم

نامور ماہرِ ماحولیات مادھو گاڈگل 82 برس کی عمر میں پونے میں انتقال کر گئے۔ مغربی گھاٹ کے تحفظ پر ان کی تحقیق عالمی سطح پر تسلیم شدہ تھی اور اقوام متحدہ نے 2024 میں انہیں بڑا اعزاز دیا تھا

<div class="paragraphs"><p>ماہر ماحولیات مادھو گاڈگل / سوشل میڈیا</p></div>

ماہر ماحولیات مادھو گاڈگل / سوشل میڈیا

 

نامور ماہرِ ماحولیات اور ماحولیاتی علوم کے ممتاز عالم مادھو گاڈگل بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب پونے میں واقع اپنی رہائش گاہ پر مختصر علالت کے بعد انتقال کر گئے۔ ان کے صاحبزادے سدھارتھ گاڈگل نے جمعرات، 8 جنوری 2026 کو میڈیا سے گفتگو میں ان کے انتقال کی تصدیق کی۔ وہ 82 برس کے تھے۔ ان کی آخری رسومات آج جمعرات کی شام 4 بجے پونے کے بیکونٹھ شمشان گھاٹ میں ادا کی جائیں گی۔

Published: undefined

مادھو گاڈگل کو خاص طور پر مغربی گھاٹ کی ماحولیاتی اہمیت پر کی گئی اپنی غیر معمولی تحقیق اور بے باک سفارشات کی وجہ سے عالمی سطح پر شناخت حاصل تھی۔ مغربی گھاٹ دنیا کے اہم حیاتیاتی تنوع کے مراکز میں شمار ہوتا ہے اور اس کے تحفظ کے لیے گاڈگل کی خدمات کو سنگِ میل کی حیثیت حاصل ہے۔ سنہ 2024 میں اقوام متحدہ نے انہیں ’چیمپئنز آف دی ارتھ‘ ایوارڈ سے نوازا تھا، جو ماحولیات کے شعبے میں اقوام متحدہ کا سب سے بڑا اعزاز مانا جاتا ہے۔

Published: undefined

مادھو گاڈگل رپورٹ میں انہوں نے مغربی گھاٹ کے حساس علاقوں کو مختلف زمروں میں تقسیم کرتے ہوئے سخت حفاظتی اقدامات کی سفارش کی تھی۔ رپورٹ میں واضح طور پر کہا گیا تھا کہ انتہائی حساس علاقوں میں نئی سڑکوں اور عمارتوں کی تعمیر کی اجازت نہ دی جائے، کھڑی ڈھلوانوں پر کسی بھی قسم کی ترقیاتی سرگرمی روکی جائے اور پتھر کی کان کنی پر مکمل پابندی عائد کی جائے۔ ان سفارشات کا مقصد قدرتی توازن کو برقرار رکھنا اور مستقبل میں ماحولیاتی تباہیوں کو روکنا تھا۔

Published: undefined

گزشتہ برس دی ہندو کو دیے گئے ایک تفصیلی انٹرویو میں مادھو گاڈگل نے مغربی گھاٹ میں بڑھتی ہوئی قدرتی آفات پر گہری تشویش ظاہر کی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ آفات ایک ایسے ترقیاتی ماڈل کا نتیجہ ہیں جو مقامی آبادی پر زبردستی مسلط کیا گیا۔ انہوں نے نشاندہی کی تھی کہ کان کنی اور آلودگی پھیلانے والی صنعتیں مقامی برادریوں کی رضامندی کے بغیر قائم کی گئیں، جبکہ تحفظِ ماحول کے اقدامات بھی بالا دستی پر مبنی اور عوام دشمن انداز میں نافذ کیے گئے۔

ماحولیاتی انصاف کے مضبوط حامی مادھو گاڈگل کا ماننا تھا کہ موسمیاتی تبدیلی سے پیدا ہونے والی آفات کا سب سے زیادہ بوجھ غریب طبقے کو اٹھانا پڑے گا۔ ان کی علمی وراثت، تحقیق اور انتباہات آنے والی نسلوں کے لیے رہنما کی حیثیت رکھتے رہیں گے۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined