
تصویر بشکریہ اے آئی
نئی دہلی میں مالیاتی نظام کو درپیش ممکنہ خطرات کے پیش نظر حکومت نے ایک اہم اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد کیا، جس میں بینکوں اور مرکزی بینک کے اعلیٰ عہدیداران نے شرکت کی۔ اس اجلاس کی صدارت وزیر خزانہ نرملا سیتارمن نے کی، جبکہ الیکٹرانکس اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے وزیر اشونی ویشنو بھی شریک رہے۔ اجلاس میں انتھروپک کمپنی کے تیار کردہ جدید مصنوعی ذہانت کے ماڈل ’مائتھوس‘ سے پیدا ہونے والے سکیورٹی خدشات پر تفصیلی غور کیا گیا۔
Published: undefined
اجلاس کے دوران اس بات پر خاص توجہ دی گئی کہ مائتھوس اپنی غیر معمولی صلاحیتوں کے باعث روایتی سائبر سکیورٹی نظام کے لیے چیلنج بن سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ ماڈل کمپیوٹر سسٹمز، ویب براؤزرز اور دیگر ڈیجیٹل پلیٹ فارمز میں موجود ایسی خامیوں کی نشاندہی کر سکتا ہے، جو طویل عرصے سے پوشیدہ رہی ہیں۔ یہی صلاحیت اسے نہ صرف مفید بلکہ ممکنہ طور پر خطرناک بھی بناتی ہے، خاص طور پر اگر اس کا غلط استعمال کیا جائے۔
وزیر خزانہ نرملا سیتارمن نے اجلاس میں کہا کہ مائتھوس جیسے جدید اے آئی ماڈلز کے اثرات غیر معمولی نوعیت کے ہو سکتے ہیں، اس لیے مالیاتی اداروں کو اپنی سکیورٹی حکمت عملیوں کو فوری طور پر مضبوط بنانا ہوگا۔ انہوں نے زور دیا کہ صارفین کے ڈیٹا کا تحفظ اولین ترجیح ہونی چاہیے اور کسی بھی ممکنہ سائبر حملے سے نمٹنے کے لیے پیشگی تیاری ضروری ہے۔
Published: undefined
اجلاس میں اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا کہ مختلف اداروں کے درمیان معلومات کے تبادلے کا ایک مربوط اور مؤثر نظام قائم کیا جائے، تاکہ کسی بھی خطرے کی بروقت شناخت ممکن ہو سکے۔ اس حوالے سے تجویز دی گئی کہ بینکوں، متعلقہ سکیورٹی اداروں اور دیگر ایجنسیوں کے درمیان حقیقی وقت میں معلومات شیئر کرنے کا مضبوط ڈھانچہ تیار کیا جائے، جو پورے مالیاتی نظام کو محفوظ بنانے میں مدد دے گا۔
ذرائع کے مطابق حکومت ایک جدید تکنیکی انفراسٹرکچر کی تیاری پر بھی غور کر رہی ہے، جو کسی بھی مشکوک سرگرمی کی فوری نشاندہی کر سکے اور اس کے خلاف بروقت کارروائی کو یقینی بنائے۔ اس کے ساتھ ساتھ بینکوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ سائبر سکیورٹی ماہرین کے ساتھ مل کر اپنے نظام کو مزید محفوظ بنائیں اور نئی ٹیکنالوجی کے مطابق اپنی صلاحیتوں کو اپ ڈیٹ کریں۔
Published: undefined
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب دنیا بھر میں مائتھوس اے آئی ماڈل کو لے کر تشویش میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ مختلف ممالک کی حکومتیں اور مالیاتی ادارے اس کے ممکنہ اثرات کا جائزہ لے رہے ہیں اور اپنی سکیورٹی حکمت عملیوں کو ازسر نو ترتیب دے رہے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق اس ماڈل تک رسائی محدود رکھی گئی ہے، تاہم غیر مجاز استعمال کے خدشات بھی سامنے آئے ہیں، جس نے عالمی سطح پر سکیورٹی خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ مائتھوس جیسی ٹیکنالوجی مستقبل میں سائبر سکیورٹی کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے، لیکن اس کے غلط استعمال کے امکانات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ حکومت کی جانب سے کیے گئے حالیہ اقدامات کو احتیاطی اور ضروری قدم قرار دیا جا رہا ہے، تاکہ مالیاتی نظام کو کسی بھی ممکنہ خطرے سے محفوظ رکھا جا سکے۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined