ٹی ایم سی کو بچانے کے لیے ممتا بنرجی نے کی تنظیمی ’سرجیکل اسٹرائیک‘، بھتیجے ابھیشیک کے قریبی لیڈران کو دیا دھچکا
بغاوت کو ختم کرنے اور باغی گروپ سے بات چیت کا راستہ کھولنے کے لئے ممتا بنرجی نے سینئر لیڈر سوگت رائے اور راجیہ سبھا ایم پی سکھیندو شیکھر رائے کو ’ہائی پاورڈ پالیسی ڈسیزن کمیٹی‘ میں شامل کیا ہے۔

مغربی بنگال اسمبلی انتخابات 2026 میں ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) کی شکست فاش کے بعد پارٹی میں شروع ہوئی بغاوت کے درمیان سابق وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے بڑا فیصلہ کیا ہے۔ لگاتار بڑھتے داخلی عدم اطمینان اور ممبران اسمبلی-ممبران پارلیمنٹ کو منانے کے لیے پارٹی سربراہ ممتا بنرجی نے تنظیمی ’سرجیکل اسٹرائیک‘ کی ہے۔ پارٹی میں ہوئی غیر معمولی تبدیلی میں ممتا بنرجی نے پہلی بار اپنے بھتیجے اور ڈائمنڈ ہاربر کے ایم پی ابھیشیک بنرجی کے قریبی لوگوں کو پوری طرح سے الگ کر دیا ہے۔ تنظیم کو ٹوٹنے سے بچانے کے لیے ممتا بنرجی نے ابھیشیک کے پورے کور گروپ کو پارٹی کے پالیسی ساز فیصلوں سے باہر کا راستہ دکھایا ہے۔
نئے تنظیمی ڈھانچے میں پارٹی کے نمبر 2 مانے جانے والے ابھیشیک بنرجی کے قومی جنرل سکریٹری عہدے کے اختیارات کو عملی طور پر محدود کردیا گیا ہے۔ اب پارٹی کی کمان پوری طرح سے پرانے اور تجربہ کار لیڈروں کی کور کمیٹی کو سونپ دی گئی ہے۔ تنظیمی پھیر بدل کی فہرست میں ابھیشیک بنرجی کے قومی جنرل سکریٹری عہدے کے بارے میں کوئی وضاحت نہیں کی گئی ہے۔ اس سے سیاسی حلقوں میں بحث تیز ہوگئی ہے کہ ممتا بنرجی نے تنظیمی فیصلوں پر ان کی اجارہ داری مکمل طور پر ختم کردی ہے۔ ترنمول کانگریس کی قومی مجلس عاملہ میں ممتا نے راجیہ سبھا ایم پی ڈیریک اوبرائن کو پارٹی کے چیف قومی ترجمان اور دہلی میں چیف حکمت عملی ساز کے طور پر بحال کیا ہے جو براہ راست طور پر ممتا بنرجی کو رپورٹ کریں گے۔
سوشل میڈیا سے لے کر انتخابی انتظامات تک ابھیشیک بنرجی کی جس نوجوان ٹیم کا قبضہ تھا، اسے ہٹا دیا گیا ہے۔ شمالی 24 پرگنہ، ندیا اور مالدہ جیسے بڑے اضلاع کے ضلع صدور کو بھی ہٹا دیا گیا ہے۔ انہیں ابھیشیک کا بہت قریبی مانا جاتا تھا۔ ان اضلاع میں 2026 کے اسمبلی انتخابات میں پارٹی کی کارکردگی سب سے زیادہ خراب رہی۔ کولکاتہ نگر نگم کے سابق میئر فرہاد حکیم کے استعفی کے بعد کولکاتہ اور جنوبی 24 پرگنہ کے تنظیمی اضلاع کی کمان واپس سبرت بخشی اور اروپ بسواس جیسے پرانے وفاداروں کو سونپ دی گئی ہے۔
سبرت بنرجی کی قیادت میں 58 سے زیادہ ممبران اسمبلی اور کئی اراکین پارلیمنٹ کی جانب سے ترنمول کانگریس کو دی گئی کھلی وارننگ کے بعد ممتا بنرجی نے اپنے پرانے ساتھیوں کی پناہ لی ہے۔ بغاوت کو ختم کرنے اور باغی گروپ سے بات چیت کا راستہ کھولنے کے لئے ممتا بنرجی نے سینئر لیڈر سوگت رائے اور راجیہ سبھا ایم پی سکھیندو شیکھر رائے کو’ہائی پاورڈ پالیسی ڈسیزن کمیٹی‘ میں شامل کیا ہے۔
دہلی سے لے کر کولکاتہ تک مچے سیاسی خلفشار کو دبانے کے لئے کلیان بنرجی کو چیف وہپ کی ذمہ داری دے کر ممبران پارلیمنٹ پر سخت شکنجہ کسنے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ اس کے علاوہ مہوا موئترا کو قومی سطح پر پارٹی کا کھویا ہوا اثر و رسوخ واپس لانے کے لئے صف اول میں کھڑا کیا گیا ہے۔ سیاسی ماہرین کے مطابق یہ تنظیمی سرجری صرف ایک عام تبدیلی نہیں ہے، پارٹی کے اندر ممتا بنرجی کی فوج کو بچائے رکھنے کی آخری کوشش ہے۔ ایک طرف فرہاد حکیم جیسے قدآور لیڈروں نے کولکاتہ کے میئر عہدے سے یہ کہہ کر استعفیٰ دے دیا کہ وہ ’بغیر فوج کے کمانڈر‘ نہیں رہنا چاہتے، تو دوسری طرف کالی گھاٹ اجلاس کے دستاویزات میں جعلی دستخط کے الزامات کی جانچ سی آئی ڈی کر رہی ہے۔
