سائنس اینڈ ٹیکنالوجی

آرٹیمس-3 مشن کی تیاریوں میں تیزی، ناسا خلابازوں کو کل دنیا کے سامنے کرے گا پیش

ناسا 9 جون کو انسٹاگرام لائیو پروگرام میں آرٹیمس-3 مشن کے خلابازوں کو دنیا کے سامنے پیش کرے گا۔ پروگرام میں چاند تک انسانوں کو دوبارہ پہنچانے کے منصوبے اور مشن کی تیاریوں پر گفتگو ہوگی

<div class="paragraphs"><p>آرٹیمس 3</p></div>

آرٹیمس 3

 

چاند پر دوبارہ انسانی قدم رکھنے کے اپنے تاریخی منصوبے کو آگے بڑھاتے ہوئے امریکی خلائی ادارہ ناسا آرٹیمس-3 مشن کی تیاریوں میں تیزی لا رہا ہے۔ اسی سلسلے میں ناسا 9 جون کو ایک خصوصی انسٹاگرام لائیو پروگرام منعقد کرے گا، جس میں آرٹیمس-3 مشن کے لیے منتخب خلاباز دنیا بھر کے ناظرین سے براہ راست گفتگو کریں گے۔ اس پروگرام میں مشن کی پیش رفت، مستقبل کی منصوبہ بندی اور چاند پر انسانی واپسی کے اہداف پر روشنی ڈالی جائے گی۔

Published: undefined

ناسا نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری اطلاع میں بتایا ہے کہ یہ لائیو پروگرام امریکی وقت کے مطابق صبح 11 بجے اور عالمی معیاری وقت کے مطابق سہ پہر 3 بجے شروع ہوگا۔ اس دوران آرٹیمس-3 مشن سے وابستہ خلاباز اپنے تجربات، تربیت اور مشن کی تیاریوں کے بارے میں معلومات فراہم کریں گے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ اس موقع پر مشن سے متعلق چند اہم تفصیلات بھی سامنے آسکتی ہیں۔

Published: undefined

ناسا کے مطابق آرٹیمس-3 مشن انسانوں کو دوبارہ چاند کی سطح تک پہنچانے کی وسیع تر حکمت عملی کا ایک اہم مرحلہ ہے۔ اس منصوبے کے تحت خلابازوں کو اسپیس لانچ سسٹم راکٹ کے ذریعے اورائن خلائی جہاز میں سوار کر کے زمین کے نچلے مدار میں بھیجا جائے گا۔ وہاں اورائن خلائی جہاز اور نجی کمپنیوں کے تیار کردہ تجارتی لینڈرز کے درمیان رابطے، قریب آنے اور ڈاکنگ کی صلاحیتوں کا عملی مظاہرہ کیا جائے گا۔

Published: undefined

خلائی ادارے کا کہنا ہے کہ یہ آزمائش مستقبل کے قمری مشنوں کے لیے نہایت اہم ہے، کیونکہ آئندہ خلابازوں کو چاند کی سطح تک پہنچانے کے لیے تجارتی لینڈرز کا استعمال کیا جائے گا۔ کامیاب ڈاکنگ اور رابطے کی یہ ٹیکنالوجی نہ صرف مشنوں کو زیادہ محفوظ بنائے گی بلکہ چاند تک رسائی کے عمل کو بھی زیادہ مؤثر اور قابل اعتماد بنانے میں مدد دے گی۔

Published: undefined

آرٹیمس-3 کے نمائشی مشن میں نجی خلائی کمپنیوں اسپیس ایکس اور بلو اوریجن کے تیار کردہ لینڈرز میں سے ایک یا دونوں کا استعمال کیا جا سکتا ہے۔ ناسا کے مطابق بنیادی مقصد یہ ثابت کرنا ہے کہ اورائن خلائی جہاز اور تجارتی لینڈرز کے درمیان کامیاب رابطہ اور ڈاکنگ ممکن ہے۔ یہی صلاحیت مستقبل میں خلابازوں کو چاند کی سطح تک لے جانے میں کلیدی کردار ادا کرے گی۔

Published: undefined

Follow us: WhatsAppFacebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined