سری لنکائی بحریہ نے 9 ہندوستانی ماہی گیروں کو کیا گرفتار
ماہی گیروں پر الزام ہے کہ انہوں نے مبینہ طور پر انٹرنیشنل میری ٹائم باؤنڈری لائن (آئی ایم بی ایل) کو پار کیا اور سری لنکا کی سمندری حدود میں غیر قانونی طور پر مچھلیاں پکڑ رہے تھے۔

سری لنکائی نیوی نے 9 ہندوستانی ماہی گیروں کو گرفتار کر لیا ہے اور ان کی مچھلی پکڑنے والے ٹرالر کو بھی ضبط کر لیا ہے۔ ماہی گیروں پر الزام ہے کہ انہوں نے مبینہ طور پر انٹرنیشنل میری ٹائم باؤنڈری لائن (آئی ایم بی ایل) کو پار کیا اور سری لنکا کی سمندری حدود میں غیر قانونی طور پر مچھلیاں پکڑ رہے تھے۔ اس کارروائی سے دونوں پڑوسی ممالک کے درمیان مچھلی پکڑنے کے حقوق سے متعلق طویل عرصے سے جاری تنازعہ میں ایک اور واقعہ شامل ہو گیا ہے۔
سری لنکائی بحریہ کے مطابق یہ گرفتاریاں ایک بحری نگرانی اور کارروائی کے دوران عمل میں آئیں، جب بحریہ کے اہلکاروں نے سری لنکائی حدود میں ہندوستانی ماہی گیروں کی کشتیوں کے ایک بڑے گروپ کا پتا لگایا۔ رپورٹس کے مطابق ماہی گیروں کو تلائی منار کے شمال میں، جزیرہ نما ملک کی حدود میں بغیر اجازت داخل ہونے پر پکڑا گیا ہے۔
بحریہ نے کہا کہ 50 سے زائد ہندوستانی مچھلی پکڑنے والے ٹرالرز مبینہ طور پر ایرانتیوو کے جنوب میں سری لنکائی حدود میں داخل ہو گئے تھے اور جب آپریشن شروع ہوا تو وہ مچھلیاں پکڑنے کے کام میں مصروف تھے۔ اس دوران ایک ٹرالر کو روکا گیا اور اس میں سوار 9 ماہی گیروں کو حراست میں لے لیا گیا۔ ضبط کیے گئے جہاز کو بھی افسران نے اپنے قبضے میں لے لیا۔ گرفتار کیے گئے ماہی گیروں اور ضبط شدہ ٹرالر کو بعد میں سری لنکا کی ماہی گیری سے متعلق قوانین کے تحت مزید قانونی کارروائی کے لیے منار میں محکمہ ماہی پروری کے انسپکٹر کے حوالے کر دیا گیا۔
افسران نے ماہی گیروں کی شناخت ظاہر نہیں کی ہے۔ یہ نئی گرفتاریاں ماہی گیروں کے معاملے پر برقرار مسلسل تناؤ کے درمیان ہوئی ہیں۔ ہندوستان اور سری لنکا کے تعلقات میں ماہی گیروں کا مسئلہ ہمیشہ سےنہایت حساس اور باعث تشویش رہا ہے۔ تمل ناڈو کے ماہی گیروں نے بار بار ’پاک اسٹریٹ‘ میں مچھلی پکڑنے کے روایتی مقامات تک رسائی کا مطالبہ کیا ہے، جبکہ سری لنکا نے اپنے بحری علاقے میں غیر قانونی ماہی گیری کے خلاف سخت کارروائی جاری رکھی ہے۔
سری لنکا کے افسران نے حالیہ برسوں میں سمندری حدود پار کر کے مچھلیاں پکڑنے، خاص طور پر میکنائزڈ باٹم ٹرالرز کے استعمال پر روک لگانے کے لیے بحری گشت تیز کر دی ہے، جس کے بارے میں کولمبو کا کہنا ہے کہ اس سے بحری وسائل اور سمندری تہہ کو شدید نقصان پہنچتا ہے۔ حالانکہ ہندوستانی ماہی گیروں کا کہنا ہے کہ مچھلیوں کی تعداد میں کمی اور سمندری سرحد قریب ہونے کی وجہ سے اکثر لوگ نادانستہ طور پر سرحد پار کر جاتے ہیں۔
سری لنکائی بحریہ کی جانب سے جاری کردہ سرکاری اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ رواں سال 15 اپریل تک، سری لنکائی حدود میں مبینہ طور پر غیر قانونی شکار کے الزام میں 128 ہندوستانی ماہی گیروں کو گرفتار کیا گیا تھا اور 18 ہندوستانی ٹرالرز ضبط کیے گئے تھے۔ ’پاک اسٹریٹ‘ سری لنکا کے شمالی ساحل کو تمل ناڈو سے الگ کرتا ہے۔ یہ اس خطے کے سب سے زیادہ مچھلیوں والے علاقوں میں سے ایک ہے۔ پانی کا یہ تنگ راستہ طویل عرصے سے تنازعہ کی وجہ رہا ہے اور دونوں ممالک کے ماہی گیروں کو اکثر سمندری سرحد پار کرنے کے الزام میں حراست میں لیا جاتا ہے۔ نئی دہلی اور کولمبو کے درمیان وقتاً فوقتاً ہونے والی سفارتی بات چیت کے ذریعے اس مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کی گئی ہے، لیکن گرفتاریاں اور کشتیاں ضبط کرنے کے واقعات معمول کے مطابق ہوتے رہتے ہیں۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
