امریکہ-ایران جنگ: خلیجی بحری راستوں پر جہازوں کے بیمہ پریمیم میں 1000 فیصد تک اضافہ
امریکہ-ایران کشیدگی کے باعث خلیجی بحری راستوں پر جہازوں کے جنگی خطرات کے بیمہ پریمیم میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے، جس سے ہندوستان کے خام تیل کی درآمدات اور عالمی شپنگ لاگت متاثر ہونے کا خدشہ ہے

مغربی ایشیا میں امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی اور جنگی خطرات کے باعث خلیجی بحری راستوں پر چلنے والے جہازوں کے بیمہ پریمیم میں غیر معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ ایک تازہ رپورٹ کے مطابق بعض انتہائی حساس بحری راستوں پر جنگی خطرات سے متعلق بیمہ (وار رسک انشورنس) کے پریمیم میں ایک ہزار فیصد تک اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس کے اثرات عالمی تیل تجارت کے ساتھ ساتھ ہندوستان کی خام تیل درآمدات پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔
انشورنس بروکنگ کمپنی ایکوی رس ریگنال انشورنس بروکنگ کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ چند ماہ کے دوران زیادہ خطرے والے بحری راستوں پر جنگی خطرات کے بیمہ پریمیم میں 200 سے 300 فیصد تک اضافہ ہوا ہے، جبکہ بعض معاملات میں یہ اضافہ ایک ہزار فیصد سے بھی زیادہ رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق پہلے جہاں انتہائی خطرناک سمندری راستوں پر جہازوں کے بیمہ کی لاگت جہاز کی مجموعی مالیت کے تقریباً 0.2 سے 0.5 فیصد کے درمیان تھی، وہ اب بڑھ کر 3 سے 5 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ اس اضافے کے نتیجے میں سمندری نقل و حمل کی مجموعی لاگت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر خطے میں جاری کشیدگی اور بحری راستوں میں رکاوٹ کا سلسلہ طویل عرصے تک برقرار رہتا ہے تو ہندوستان کے لیے خام تیل کی درآمد مزید مہنگی ہو سکتی ہے۔ اگرچہ بیمہ کی لاگت مجموعی لاجسٹک اخراجات کا صرف ایک حصہ ہوتی ہے، تاہم جنگی خطرات کے بیمہ میں مسلسل اضافے سے درآمد شدہ خام تیل کی حتمی قیمت میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے، خصوصاً ان کھیپوں کے لیے جو مغربی ایشیا سے آتی ہیں یا وہاں سے گزر کر ہندوستان پہنچتی ہیں۔
ایکوی رس ریگنال انشورنس بروکنگ کے ڈائریکٹر امت گوئل نے کہا کہ جنگی خطرات کے بیمہ پریمیم میں اضافے کے ساتھ جہازوں کے ڈھانچے، مشینری کے تحفظ اور دیگر سکیورٹی اخراجات بھی بڑھ رہے ہیں، جس کے باعث ہندوستان کے خام تیل کی درآمدات مزید مہنگی ہونے کا امکان ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگرچہ اہم بحری راستوں کو باضابطہ طور پر بند نہیں کیا گیا ہے، تاہم عالمی بیمہ اور ری انشورنس کمپنیاں موجودہ صورتحال کے پیش نظر خطرات کا ازسرِ نو جائزہ لے رہی ہیں۔ اس کے نتیجے میں نہ صرف بیمہ پریمیم میں اضافہ ہو رہا ہے بلکہ بیمہ فراہم کرنے کے ضوابط بھی مزید سخت ہو سکتے ہیں اور بعض صورتوں میں بیمہ کی دستیابی محدود ہونے کا خدشہ بھی موجود ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس کے اثرات صرف مغربی ایشیا سے آنے والے خام تیل تک محدود نہیں رہیں گے۔ اگر کشیدگی برقرار رہتی ہے تو عالمی سطح پر سمندری بیمہ کی صلاحیت پر دباؤ بڑھ سکتا ہے، جس سے ہندوستان آنے والے روسی خام تیل کی کھیپوں کے بیمہ اخراجات بھی بڑھ سکتے ہیں، خصوصاً اس صورت میں جب تیل بردار جہازوں کی دستیابی کم ہو جائے یا انہیں زیادہ خطرناک بحری راستوں سے گزرنا پڑے۔
امت گوئل کے مطابق ہندوستان کی سمندری بیمہ صنعت کا حجم تقریباً 5500 سے 5800 کروڑ روپے کے درمیان ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ قریبی مستقبل میں سمندری بیمہ کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار رہنے کا امکان ہے، تاہم اگر خطے میں کشیدگی میں مسلسل کمی آتی ہے تو وقت کے ساتھ بیمہ پریمیم پر پڑنے والا دباؤ بھی کم ہو سکتا ہے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
