
مولانا محمود مدنی / ویڈیو گریب
نئی دہلی: آسام کے وزیر اعلیٰ ہیمنت بسوا سرما کی جانب سے ’نفرت انگیزی اور شرانگیزی‘ کے معاملہ میں دائر عرضیوں پر سماعت کے دوران سپریم کورٹ کی طرف سے عرضی گزاروں کو متعلقہ ہائی کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت اور تبصرہ پر جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا محمود اسعد مدنی نے گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انھوں نے اسے انصاف پسند حلقوں کے لیے مایوس کن طرز عمل قرار دیا ہے۔
Published: undefined
مولانا مدنی نے کہا کہ دستور ہند کی دفعہ 32 کو ڈاکٹر بی آر امبیڈکر نے آئین کا ’دل اور روح‘ قرار دیا تھا، کیونکہ یہ شہریوں کو اپنے بنیادی حقوق کے تحفظ کے لیے براہ راست سپریم کورٹ سے رجوع کا حق دیتا ہے۔ ایسے معاملات، جن کا تعلق نفرت انگیزی، فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور کسی طبقے کے جینے کے حق سے ہو، ان میں عدالت عظمیٰ سے مضبوط اور واضح قدم اٹھانے بلکہ از خود نوٹس سے متعلق کارروائی کی توقع کی جاتی ہے۔
Published: undefined
مولانا مدنی نے کہا کہ جب ملک کے ایک وزیر اعلیٰ کے ذریعہ نفرت انگیزی کے معاملے میں براہ راست سپریم کورٹ سے رجوع کیا جائے اور جواباً اسے انتخابی سیاست سے جوڑ کر کمزور نوعیت کا معاملہ بتایا جائے، تو عوام کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہونا فطری ہے کہ کیا ہمارا عدالتی نظام حکومت کے سامنے گھٹنے تو نہیں ٹیک رہا، یا وزیر اعلی ٰکے مفاد کو انصاف پر ترجیح دی جا رہی ہے؟ اس قسم کا احساس نہ صرف مایوسی کو فروغ دیتا ہے بلکہ عدالت کے عوامی احترام اور اس کی ساکھ پر بھی اثر انداز ہوتا ہے۔
Published: undefined
مولانا مدنی نے مزید کہا کہ جمعیۃ علماء ہند عدلیہ کے ادارہ جاتی احترام پر یقین رکھتی ہے، لیکن ساتھ ہی یہ بھی سمجھتی ہے کہ نفرت انگیز تقاریر اور فرقہ وارانہ اشتعال انگیزی کے معاملات میں غیر معمولی سنجیدگی، غیر جانبداری اور تیز رفتار انصاف ناگزیر ہے۔ بالخصوص جب معاملہ کسی ریاست کے وزیر اعلیٰ سے متعلق ہو تو اسے براہ راست سپریم کورٹ میں سنا جانا چاہیے، تاکہ ملک کے وقار اور آئینی بالادستی کو چیلنج کرنے والوں کو واضح پیغام مل سکے۔
Published: undefined
مولانا مدنی نے اعلان کیا کہ جمعیۃ علماء ہند ہائی کورٹ سے بھی رجوع کرے گی تاکہ امن و انصاف پر یقین رکھنے والی اکثریت کو مایوسی نہ ہو اور ملک میں انصاف و مساوات کا نظام مضبوط اور مستحکم رہے۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined
تصویر: پریس ریلیز