سیاسی

سادھوی پَرگیہ پر اتنی مہربانیاں کیوں؟... سہیل انجم

مودی اور شاہ کسی کے خلاف تادیبی کارروائی کریں تو اسے اعزاز کے لائق سمجھا جاتا ہے جیسے پارلیمانی امور کی وزارت نے سادھوی کو دفاعی کمیٹی کا رکن نامزد کرکے مودی اور شاہ کی خواہشوں کا احترام کیا ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا 

جب پارلیمانی انتخابات کے دوران بھوپال سے بی جے پی کی امیدوار سادھوی پرگیہ سنگھ ٹھاکر نے شہید ہیمنت کرکرے کی شان میں گستاخی کی تھی اور کہا تھا کہ ان کے ’شراپ‘ کی وجہ سے ان کی موت ہوئی اور پھر انھوں نے گاندھی جی کے قاتل ناتھورام گوڈسے کو دیش بھکت قرار دیا تھا تو اپنی ایک انتخابی تقریر میں وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا تھا کہ وہ دل سے پرگیہ ٹھاکر کو معاف نہیں کر پائیں گے۔ ان کے علاوہ بی جے پی صدر امت شاہ نے بھی سادھوی کے بیان کی مخالفت کی تھی اور کہا تھا کہ ان کے خلاف پارٹی تادیبی کارروائی کرے گی۔

Published: 24 Nov 2019, 8:11 PM IST

اب جا کر معلوم ہوا کہ وزیر اعظم کے نزدیک دل سے معاف نہ کرنے اور امت شاہ کے نزدیک تادیبی کارروائی کرنے کا کیا مطلب ہوتا ہے۔ وزیر اعظم اگر کسی کو دل سے معاف نہ کر سکیں اور امت شاہ کسی کے خلاف تادیبی کارروائی کریں تو اسے کسی اعزاز کے لائق سمجھا جاتا ہے۔ پارلیمانی امور کی وزارت نے سادھوی کو پارلیمنٹ کی دفاعی کمیٹی کا رکن نامزد کرکے مودی اور شاہ کی خواہشوں کا احترام کیا ہے۔

Published: 24 Nov 2019, 8:11 PM IST

سادھوی کے بارے میں کچھ زیادہ بتانے کی ضرورت نہیں ہے۔ 2008 میں مالیگاؤں میں ایک بم دھماکہ ہوا تھا جس میں 6 افراد ہلاک اور بڑی تعداد میں لوگ زخمی ہوئے تھے۔ دھماکہ میں ایک موٹر سائیکل استعمال کی گئی تھی۔ بعد میں جب فورنسک لیبوریٹریز نے اس کی جانچ کی تو پتہ چلا کہ وہ سادھوی پرگیہ سنگھ ٹھاکر کی تھی۔ ان کا یہ بیان بھی کئی اخباروں میں شائع ہوا تھا کہ وہ اتنے کم لوگوں کے ہلاک ہونے سے دکھی ہیں۔ انھیں گرفتار کیا گیا اور جیل میں ڈال دیا گیا تھا۔ تقریباً دس سال جیل میں گزارنے کے بعد انھیں ضمانت پر رہا کیا گیا۔

Published: 24 Nov 2019, 8:11 PM IST

جب سادھوی نے دیکھا کہ ان کی رہائی کے امکانات معدوم ہوتے چلے جا رہے ہیں تو انھوں نے ایک چال چلی اور عدالت میں یہ بیان دیا کہ وہ بیمار ہیں، ان کو کینسر ہوا ہے۔ لہٰذا صحت کی بنیاد پر انھیں ضمانت دی جائے تاکہ وہ اپنا علاج کرا سکیں۔ عدالت نے انھیں ضمانت دے دی۔ بعد میں معلوم ہوا کہ انھیں کینسر نہیں تھا۔ انھوں نے دروغ گوئی سے کام لیا۔

Published: 24 Nov 2019, 8:11 PM IST

لیکن انھوں نے اپنی دروغ بیانی کو اس دعوے کے ساتھ صدق بیانی میں بدلنے کی کوشش کی کہ انھوں نے گائے کے گوبر اور پیشاب سے اپنے کینسر کا علاج کر لیا ہے۔ ان کے اس دعوے پر دنیا بھر کے ڈاکٹرو ں نے حیرت ظاہر کی تھی اور کہا تھا ایسا ناممکن ہے۔ حیرت اس بات پر بھی ہے کہ ان کے علاوہ کسی اور نے اپنا کینسر گائے کے پیشاب اور گوبر سے ٹھیک نہیں کیا۔ حالانکہ اس کے بعد تو لائن لگ جانی چاہیے تھی اور ہر گائے کو ’’کینسر روگ اپچار جانور‘‘ کا درجہ مل جانا چاہیے تھا۔

Published: 24 Nov 2019, 8:11 PM IST

بہر حال وہ رہا ہوئیں اور بی جے پی نے اپنے ہندوتو ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے لیے انھیں بھوپال سے کانگریس کے سینئر لیڈر دگ وجے سنگھ کے مقابلے میں اپنا امیدوار بنا لیا۔ اس پر زبردست ہنگامہ ہوا لیکن بی جے پی اپنے فیصلے پر قائم رہی اور سادھوی ہندوتو وادی لہر پر سوار ہو کر پارلیمنٹ میں پہنچ گئیں۔ پھر تو ان کے متنازعہ بیانات کا ایک لامتناہی سلسلہ شروع ہو گیا۔

Published: 24 Nov 2019, 8:11 PM IST

لیکن حیرت ہے کہ ایک جھوٹ کے سہارے ضمانت حاصل کرنے والی دہشت گردی کی ایک ملزمہ سے عدالت یہ نہیں پوچھ رہی ہے کہ تم تو اب ٹھیک ہو گئی ہو تمھاری ضمانت کیوں نہ کالعدم کر دی جائے۔ عدالت یہ بھی پوچھ سکتی ہے کہ تم نے ایک جھوٹ بولا تھا ضمانت حاصل کرنے کے لیے۔ لہٰذا تمھاری ضمانت کیوں نہ خارج کر دی جائے۔ لیکن عدالت کیوں پوچھے گی۔ وہ تو اب پارلیمنٹ کی معزز رکن بن گئی ہیں۔

Published: 24 Nov 2019, 8:11 PM IST

صرف پارلیمنٹ ہی کی معزز رکن نہیں بنی ہیں بلکہ اب تو وہ پارلیمنٹ کی دفاعی کمیٹی کی بھی رکن بن گئی ہیں۔ یہ دفاعی کمیٹی وزارت دفاع سے متعلق ہے۔ ’’کیا حکومت نے دہشت گردی کی ایک ملزمہ کو دفاعی کمیٹی کا رکن بنا کر ہماری مسلح افواج کی شان میں گستاخی نہیں کی ہے‘‘۔ اس نوعیت کے کئی سوالات منظر عام پر آچکے ہیں۔ حکومت کے اس فیصلے پر متواتر سوال اٹھایا جا رہا ہے۔

Published: 24 Nov 2019, 8:11 PM IST

حالانکہ ممبران پارلیمنٹ کا کسی کمیٹی میں شامل ہونا ایک عام بات ہے۔ منتخب ممبران کو کسی نہ کسی کمیٹی میں شامل کیا جاتا ہے۔ لیکن یہ تو دیکھنا چاہیے تھا کہ سادھوی پرگیہ پر سے دہشت گردی کا کیس ختم نہیں ہوا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ وہ ضمانت پر باہر ہیں لیکن عدالت چاہے تو انھیں پھر سے جیل میں ڈال سکتی ہے۔ چلیے انھیں کسی کمیٹی میں شامل ہی کرنا تھا تو کسی اور کمیٹی میں شامل کر دیتے۔ کیا ضروری تھا کہ وزارت دفاع سے متعلق کمیٹی میں شامل کیا جائے۔

Published: 24 Nov 2019, 8:11 PM IST

پھر حکومت اس سے کیا پیغام دینا چاہتی ہے۔ کیا وہ یہ بتانا چاہتی ہے کہ سادھوی کو غلط پھنسایا گیا تھا جیسا کہ ان کا دعویٰ ہے۔ کیا اس قدم سے عدالتی کارروائی کو متاثر کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ کیا اس کا مذکورہ فیصلے پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ متعدد سوالات ہیں مگر کسی بھی سوال کا کوئی جواب کہیں سے نہیں مل رہا ہے۔

Published: 24 Nov 2019, 8:11 PM IST

در اصل یہ قدم بھی اسی حکمت عملی کا حصہ ہے جس کے تحت انھیں پہلے امیدوار بنایا گیا اور پھر کامیاب کروایا گیا۔ اس کا مقصد ہندوتو وادی سیاست کو فروغ دینا ہے۔ اس کے ساتھ ہی یہ بھی بتانا ہے کہ آر ایس ایس اور بی جے پی اور بجرنگ دل اور ان جیسی سنگھ پریوار سے وابستہ تنظیمیں بہت پاک صاف ہیں۔ ان سے کوئی غلط کام کبھی ہو ہی نہیں سکتا۔ یہ تو سابقہ کانگریسی حکومت تھی جس نے ان کے لوگوں کو پھنسایا۔ خواہ وہ سوامی اسیمانند ہوں یا سادھوی پرگیہ۔

Published: 24 Nov 2019, 8:11 PM IST

اس قدم کے تحت حکومت اپنی ہندتووادی سیاست کو اور مستحکم کرنا چاہتی ہے۔ اس کی بنیاد پر عوام کو مذہبی اور فرقہ وارانہ خطوط پر مزید تقسیم کرنا چاہتی ہے۔ اس کا ایک مقصد یہ بھی ہو سکتا ہے کہ جس طرح سوامی اسیمانند کو رہا کرایا گیا سادھوی کو بھی رہا کرایا جائے۔ ممکن ہے کہ اب آگے چل کر کرنل پروہت اور دوسرے مقدمات میں ملوث دوسرے لوگوں کو بھی رہا کرانے کی اسی قسم کی کوئی کوشش کی جائے۔ کیونکہ بی جے پی جس قسم کی سیاست کر رہی ہے اس میں اس کی بہت گنجائش ہے۔

Published: 24 Nov 2019, 8:11 PM IST

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: 24 Nov 2019, 8:11 PM IST