سیاسی

کسے اٹھانی ہوگی ذمہ داری، اور کسے دینی ہوگی قربانی؟... ارون کمار

ہندوستانی معیشت کا مستقبل بہت کچھ اس بات پر منحصر ہے کہ ہم جنگ کے دھچکوں کا سامنا کس طرح کرتے ہیں۔

<div class="paragraphs"><p>علامتی تصویر، اے آئی</p></div>

علامتی تصویر، اے آئی

 

حال ہی میں ہیگ میں ہندوستانی تارکین وطن سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا کہ مغربی ایشیا کی جنگ گزشتہ ایک دہائی میں ہندوستانی معیشت کی حاصل کردہ کامیابیوں کو ضائع کر سکتی ہے۔ کووڈ-19، جنگوں اور عالمی توانائی بحران کے دھچکوں کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے خبردار کیا کہ بڑے پیمانے پر غربت دوبارہ لوٹ سکتی ہے۔

Published: undefined

وزیر اعظم نے کہا کہ ان چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے ہندوستان کو مضبوط سپلائی چین کی ضرورت ہے، اور توانائی کے تحفظ کو قومی فریضہ سمجھنا چاہیے۔ قارئین کو نومبر 2016 میں نوٹ بندی کے دوران کی ایسی اپیلیں یاد ہوں گی۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ نہ تو کووڈ ہندوستان کی وجہ سے آیا اور نہ ہی آبنائے ہرمز کی بندش سے پیدا ہونے والے سپلائی بحران میں ہندوستان کا کوئی ہاتھ ہے۔ لیکن ان دھچکوں سے پہلے بھی معیشت کی حالت بہت اچھی نہیں تھی۔

Published: undefined

2014 سے ہی غیر منظم شعبے کی قیمت پر منظم شعبے کو اہمیت دی جا رہی ہے۔ اس سے معیشت میں سرمایہ اور توانائی کی کثافت بڑھی اور بے روزگاری اور عدم مساوات میں بھی اضافہ ہوا۔ ہندوستانی معیشت کی صحت اب بڑی حد تک منظم شعبے پر منحصر ہے، جبکہ اس میں صرف 6 فیصد افرادی قوت کام کرتی ہے۔ خوش حال طبقے اور منظم شعبے کی پیدا کردہ ’کالی معیشت‘ اور بدانتظامی کی وجہ سے پالیسیاں ناکام ہوتی رہی ہیں۔ دوسری طرف سرمایہ کے بیرون ملک جانے سے ملک میں سرمایہ کی کمی ہو گئی اور زرمبادلہ کا نقصان ہوا، جس سے ’ادائیگیوں کا توازن‘ متاثر ہوا ہے۔ بدعنوان امیروں نے بیرون ملک اربوں کھربوں ڈالر جمع کر رکھے ہیں، جو قومی معیشت کے لیے دستیاب نہیں ہیں اور اسی وجہ سے وزیر اعظم کو زرمبادلہ بچانے کے لیے ’کفایت شعاری‘ کی اپیل کرنی پڑتی ہے۔

Published: undefined

اس کے علاوہ ہندوستان کے معاشی اعداد و شمار بھی مشکوک ہیں۔ اس کی ایک وجہ ’کالی معیشت‘ تو ہے ہی، لیکن کچھ وجوہ اس کی گنتی کے طریقوں سے بھی جڑی ہیں۔ قومی جی ڈی پی کو بڑھا چڑھا کر دکھایا جاتا ہے، جبکہ مہنگائی کو کم کر کے پیش کیا جاتا ہے۔ حکومت کی عادت ہے کہ وہ زمینی کمزوریوں کو نظر انداز کرکے ایک چمکدار تصویر پیش کرتی ہے۔ بحران کے وقت یہی کمزوریاں سامنے آ جاتی ہیں۔

Published: undefined

آبنائے ہرمز کی بندش سے پیدا ہونے والا سپلائی بحران معیشت کی کمزوری کو مزید بڑھا رہا ہے۔ غیر منظم شعبے کو پیداوار میں جبری کمی، گھٹتی آمدنی اور بڑھتی بے روزگاری کا سامنا ہے۔ ہر طرف کی مہنگائی نے قوت خرید کو شدید متاثر کیا ہے۔ 3.5 فیصد کی سرکاری افراط زر غریبوں کی اصل صورتحال نہیں دکھاتی، یہ بلیک مارکیٹ کو حساب میں شامل نہیں کرتی، جس سے مؤثر مہنگائی کی شرح 30 تا 40 فیصد بنتی ہے۔

Published: undefined

روپے کی قدر میں 75 دنوں کے دوران 5 فیصد اور سالانہ 24 فیصد کمی آئی ہے۔ اس کا اثر غریبوں پر زیادہ پڑتا ہے، کیونکہ کھاد جیسی درآمدی ضروری اشیا مہنگی ہو جاتی ہیں۔ روپے میں یہ تیز گراوٹ سرمایہ کے بیرونِ ملک جانے سے جڑی ہوئی ہے، اور اس کی وجہ ہندوستانی معیشت پر لوگوں کے اعتماد میں کمی ہے۔ مئی 2024 میں ڈالر کے مقابلے میں 83.28 روپے کی شرح مبادلہ اب 96 ہو چکی ہے اور گراوٹ کا سلسلہ جاری ہے۔ 2 برسوں میں روپے کی قدر میں 15.2 فیصد کمی آئی ہے۔ ڈالر کے حساب سے دیکھا جائے تو ہندوستان میں سرمایہ کاری پر منافع تیزی سے کم ہوا ہے۔ ایک طرف ٹیکنالوجی شیئرز کی بدولت امریکی شیئر بازار میں تیزی ہے، تو دوسری جانب ہندوستانی ٹیک کمپنیاں مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے آنے والی تبدیلیوں کے دباؤ کا سامنا کر رہی ہیں۔ اسی وجہ سے سرمایہ (بشمول این آر آئی) ملک سے باہر جا رہا ہے۔ چونکہ روپیہ مسلسل گرتا جا رہا ہے، اس لیے برآمد کنندگان کمائی وطن لانے میں تاخیر کر رہے ہیں، جبکہ درآمد کنندگان زیادہ سے زیادہ سامان منگوا رہے ہیں۔ ان وجوہ سے ہندوستان کا ڈالر ذخیرہ کم ہو رہا ہے۔ اس کے علاوہ مغربی ایشیا میں کام کرنے والوں کی ملازمتیں ختم ہونے اور ان کے ہندوستان واپس آنے سے ’ریمیٹنس‘ (بیرون ملک سے آنے والی رقوم) پر بھی منفی اثر پڑا ہے۔

Published: undefined

آزاد منڈی کے حامی ماہرین معاشیات کا استدلال ہے کہ روپے کی گراوٹ بازار سے متاثر ہے اور ریزرو بینک آف انڈیا کو روپے کا دفاع نہیں کرنا چاہیے۔ یہ دلیل غلط ہے۔ سٹے باز اس کا فائدہ اٹھاتے ہیں اور کرنسی کو مزید گرا کر پیسہ کماتے ہیں۔ اس کے علاوہ آزاد منڈیاں درحقیقت مکمل طور پر آزاد نہیں ہوتیں، ان پر بڑے کھلاڑیوں کا غلبہ ہوتا ہے۔ روپے میں تیز گراوٹ ایک سلسلہ وار ردِ عمل شروع کر سکتی ہے، جیسا کہ جنوب مشرقی ایشیا کے بحران کے دوران ہوا تھا، جس کے باعث 98-1997 میں تیزی سے ترقی کرتی تھائی معیشت منہدم ہو گئی تھی۔ ہندوستان کو بھی 1988 اور 1991 کے درمیان ایسی ہی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

Published: undefined

غیر ملکی سرمایہ کاری کی کہانی

2024 کے آخر سے ہی غیر ملکی سرمایہ کار ہندوستان چھوڑ کر جا رہے ہیں۔ یہ دلیل دی جاتی ہے کہ انہیں مزید مراعات دے کر راغب کیا جانا چاہیے۔ لیکن، جیسا کہ اوپر بتایا گیا ہے، وہ اس لیے جا رہے ہیں کیونکہ انہیں ہندوستان کے مقابلے میں امریکہ میں بہتر منافع نظر آ رہا ہے۔ لیکن یہ اتنی بڑی تشویش کیوں ہے؟ مجموعی طور پر دیکھا جائے تو یہ ہندوستان میں کل سرمایہ کاری کا 8 فیصد ہے، اور خالص طور پر ایک فیصد سے بھی کم۔ ساتھ ہی، اگر ہندوستان گھریلو سرمایہ کو بیرون ملک جانے سے روک پاتا، تو اسے زر مبادلہ کی کمی کا سامنا ہی نہ کرنا پڑتا۔

Published: undefined

کل سرمایہ کاری کا 99 فیصد اندرونی سرمایہ کاری ہے، اور اصل تشویش بھی اسی محاذ پر ہے۔ کم اندرونی سرمایہ کاری کا براہ راست تعلق پیداواری صلاحیت کے کم استعمال سے ہے۔ ایسا اس لیے ہوتا ہے کیونکہ بڑھتی ہوئی عدم مساوات طلب کو کم کر دیتی ہے۔ اس لیے سرمایہ کو مزید مراعات دینے کے بجائے، جیسا کہ کاروباری ماہرینِ معاشیات مشورہ دیتے ہیں، ٹیکس نظام اور روزگار پیدا کرنے کے ذریعے آمدنی کی ازسر نو تقسیم کر کے عدم مساوات کم کرنے کی ضرورت ہے۔ ان کے نزدیک اصلاحات کا مطلب کاروباروں کو مراعات دینا ہے، جبکہ اصل ضرورت غیر منظم شعبے میں زیادہ روزگار پیدا کرنے کی ہے۔ غیر ملکی سرمایہ صرف منظم شعبے میں آئے گا، اور اعلیٰ ٹیکنالوجی کے استعمال کو دیکھتے ہوئے، اس سے شاید ہی کوئی نیا روزگار پیدا ہوگا۔ اس سے غیر منظم شعبہ مزید حاشیے پر چلا جائے گا اور روزگار کے مواقع مزید کم ہوں گے۔ غیر منظم شعبہ جو اندرونی بازار پیدا کرتا ہے، وہ بیرونی بازاروں سے کہیں بڑا ہے۔ اس شعبے میں روزگار ملنے سے لوگوں کی آمدنی اور طلب دونوں بڑھیں گی۔ کپڑا، چمڑے کی مصنوعات، کھانے پینے کی اشیا جیسے برآمدی سامان ہندوستان میں بھی فروخت کیے جا سکتے ہیں، بشرطیکہ لوگوں کے پاس پیسہ ہو۔ اس لیے اس معاملے پر ازسرِ نو غور ہونا چاہیے۔

Published: undefined

ترقی یافتہ ممالک سپلائی چین کو مختصر کرنے اور روزگار بڑھانے کے لیے اپنے سرمایہ کو اپنے ہی ملک میں سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔ ٹرمپ کاروباروں کو امریکہ میں سرمایہ کاری کی ترغیب دے رہے ہیں اور اتحادی ممالک پر دباؤ ڈال رہے ہیں۔ تجارت سے ہندوستان کے مسائل حل نہیں ہوں گے، کیونکہ ہمارے پاس مقابلے کے لیے ضروری ٹیکنالوجی نہیں ہے۔ ہندوستان کو اپنے سرمائے کو ملک کے اندر ہی سرمایہ کاری میں لگانا چاہیے۔ امبانی امریکہ میں 300 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کیوں کر رہے ہیں، ہندوستان میں کیوں نہیں؟

Published: undefined

حکمت عملی میں تبدیلی ضروری

یہ معلوم نہیں کہ آبنائے ہرمز کب تک بند رہے گی۔ لیکن تب تک معیشت کو قلت کا سامنا کرنا پڑے گا اور پیداوار متاثر ہوگی۔ ہندوستان صرف اثرات کو کم کرنے کی منصوبہ بندی کر سکتا ہے، خاص طور پر ان شعبوں میں جو زیادہ حساس ہیں۔ ضروری استعمال کو برقرار رکھنا ہوگا ورنہ مہنگائی تیزی سے بڑھے گی۔ غیر ضروری سفر اور سیاحت، فائیو اسٹار طرزِ زندگی اور فضول خرچی کی حوصلہ شکنی کی جانی چاہیے۔ استعمال میں کمی سے زرمبادلہ اور توانائی، دونوں کی بچت ہوگی، جنہیں ضروری اشیا کی طرف منتقل کیا جا سکتا ہے۔ روزگار، آمدنی اور طلب پر یقیناً منفی اثر پڑے گا، اور کمزور شعبوں کے مزدوروں کو سہارا دینے کی ضرورت ہوگی۔ پیداوار میں کمی، غیر یقینی صورتحال اور مختلف شعبوں میں اضافی صلاحیت کی وجہ سے سرمایہ کاری میں کمی کا اندیشہ ہے۔ لیکن ضروری اشیا، سماجی شعبے اور محروم طبقات کی فلاح کے لیے سرکاری سرمایہ کاری برقرار رکھنا ہوگی۔

Published: undefined

وزیر اعظم صاحب! بڑے پیمانے پر غربت کبھی ختم نہیں ہوئی، لیکن غلط پالیسیوں سے یہ ضرور بدتر ہو سکتی ہے۔ ہندوستان کے غریب اور غیر محفوظ طبقات سے بدترین حالات کا سامنا کرنے اور مزید قربانیاں دینے کے لیے تیار رہنے کو کہنے کے بجائے، ان 3 فیصد خوش حال ہندوستانیوں سے ایک خصوصی اپیل کرنے پر غور کریں، جنہوں نے اپنی بڑی دولت بیرون ملک جمع کر رکھی ہے اور جو فائیو اسٹار طرز زندگی گزارتے ہیں۔

(مضمون نگار ارون کمار معروف ماہر معاشیات اور مصنف ہیں)

Published: undefined

Follow us: WhatsAppFacebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined