جوہر یونیورسٹی پر کارروائی: اکھلیش یادو کا سخت ردعمل، کہا- ’بی جے پی کو تعلیم میں بھی فرقہ پرستی نظر آتی ہے‘

اکھلیش یادو نے جوہر یونیورسٹی کی عمارتوں کو منہدم کرنے کے فیصلے پر بی جے پی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ حکومت تعلیم کو بھی فرقہ وارانہ نظر سے دیکھ رہی ہے اور یہ کارروائی قابلِ مذمت ہے

<div class="paragraphs"><p>تصویر سوشل میڈیا</p></div>
i

سماجوادی پارٹی کے صدر اکھلیش یادو نے جوہر یونیورسٹی کے خلاف اتر پردیش حکومت کی کارروائی کو جانبدارانہ اور قابلِ مذمت قرار دیتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ بی جے پی تعلیم کے شعبے کو بھی فرقہ وارانہ عینک سے دیکھ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم، اساتذہ، طلبہ اور تعلیم کے بعد روزگار کے مواقع حکومت کے ایجنڈے میں شامل نہیں ہیں۔

اکھلیش یادو نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ بی جے پی کو تعلیم میں بھی فرقہ پرستی نظر آتی ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت ان افراد اور اداروں کے خلاف کارروائی کب کرے گی جنہیں وہ اپنے سیاسی حامیوں سے وابستہ قرار دیتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کچھ ادارے قانونی تقاضوں کو پورا نہیں کرتے تو ان کے دفاتر اور عمارتوں کو کس بنیاد پر قانونی تسلیم کیا جاتا ہے۔ انہوں نے جوہر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی کو سیاسی اور امتیازی قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کی۔

اکھلیش یادو کا یہ بیان رام پور ترقیاتی اتھارٹی کی جانب سے محمد علی جوہر یونیورسٹی کی 40 میں سے 38 عمارتوں کو منہدم کرنے کے حکم کے بعد سامنے آیا ہے۔ اتھارٹی کے مطابق ان عمارتوں کی تعمیر منظور شدہ نقشے کے بغیر کی گئی تھی، جس کی وجہ سے انہیں غیر قانونی قرار دیا گیا ہے۔


دوسری جانب یونیورسٹی انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ جب ان عمارتوں کی تعمیر کی گئی تھی، اس وقت متعلقہ علاقہ رام پور ترقیاتی اتھارٹی کے دائرۂ اختیار میں شامل نہیں تھا، اس لیے اس اتھارٹی سے منظوری لینے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ تاہم، ترقیاتی اتھارٹی نے اس دلیل کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ تعمیراتی کام کے لیے مجاز ادارے سے منظوری حاصل کرنا قانونی طور پر ضروری تھا۔

سال 2006 میں قائم ہونے والی محمد علی جوہر یونیورسٹی گزشتہ چند برسوں سے زمین کے مبینہ قبضے اور لیز کی شرائط کی خلاف ورزی سے متعلق قانونی تنازعات میں گھری ہوئی ہے۔ اتر پردیش حکومت یونیورسٹی سے وابستہ بڑی مقدار میں زمین واپس لے چکی ہے۔ اسی سال اعظم خان اور ان کے اہلِ خانہ نے یونیورسٹی کے انتظامی ٹرسٹ سے باضابطہ طور پر علیحدگی اختیار کر لی تھی۔

ادھر اتر پردیش کے محکمہ تعمیراتِ عامہ نے یونیورسٹی احاطے سے گزرنے والی تقریباً تین کلومیٹر طویل چار لین سڑک کو عوامی سڑک قرار دیتے ہوئے اسے عام استعمال کے لیے کھول دیا ہے اور اس حوالے سے سائن بورڈ بھی نصب کر دیے گئے ہیں۔ اس پیش رفت کے بعد جوہر یونیورسٹی کے خلاف انتظامی کارروائی مزید تیز ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔