جو رہنما ٹی ایم سی چھوڑنا چاہتے ہیں وہ 21 جولائی سے پہلے فیصلہ کر لیں: ممتا بنرجی

ممتا بنرجی نے ترنمول کانگریس چھوڑنے کے خواہش مند رہنماؤں سے کہا ہے کہ وہ 21 جولائی کے یوم شہید سے قبل اپنا فیصلہ کر لیں۔ انہوں نے کہا کہ ہر شخص کو اپنی سیاسی راہ منتخب کرنے کا آئینی حق حاصل ہے

<div class="paragraphs"><p>ممتا بنرجی / آئی اے این ایس</p></div>
i

کولکاتا: مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ اور ترنمول کانگریس کی سربراہ ممتا بنرجی نے پارٹی چھوڑنے کے خواہش مند رہنماؤں کو واضح پیغام دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر کوئی رہنما یا کارکن دوسری جماعت میں جانا چاہتا ہے تو وہ 21 جولائی کو منعقد ہونے والے یوم شہدا سے پہلے اپنا فیصلہ کر لے۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی شخص کو اپنی سیاسی وابستگی کا فیصلہ کرنے کا مکمل آئینی حق حاصل ہے اور پارٹی ایسے فیصلوں کا احترام کرتی ہے۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری اپنے ویڈیو بیان میں ممتا بنرجی نے ترنمول کانگریس کی سابق راجیہ سبھا رکن اور بنگالی فلمی اداکارہ کوئل ملک کے استعفیٰ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے استعفیٰ دینے سے قبل ای میل کے ذریعے پارٹی قیادت کو اس سے آگاہ کر دیا تھا۔ ممتا بنرجی نے کہا کہ وہ کوئل ملک کے اس طرز عمل کا احترام کرتی ہیں کیونکہ انہوں نے پہلے سے پارٹی کو اپنے فیصلے سے مطلع کر دیا تھا۔

ممتا بنرجی نے مزید کہا کہ انہیں معلوم ہوا ہے کہ کوئل ملک نے بعد میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے ایک رہنما سے بھی ملاقات کی ہے۔ ان کے مطابق اگر کوئی شخص کسی دباؤ میں ہے یا اپنی سیاسی راہ تبدیل کرنا چاہتا ہے تو اسے 21 جولائی سے پہلے فیصلہ کر لینا چاہیے اور جہاں جانا چاہتا ہے وہاں چلا جانا چاہیے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ہندوستان کا آئین ہر شہری کو اپنی پسند کے مطابق فیصلہ کرنے کا حق دیتا ہے۔


انہوں نے 21 جولائی کو ہونے والے ترنمول کانگریس کے یوم شہید پروگرام سے قبل انتظامیہ سے غیر جانبدارانہ رویہ اختیار کرنے کی بھی اپیل کی۔ یہ دن ترنمول کانگریس کے لیے خصوصی اہمیت رکھتا ہے۔ ہر سال یہ اجتماع 1993 میں اس وقت کی بائیں محاذ حکومت کے دوران پولیس فائرنگ میں ہلاک ہونے والے 13 نوجوان کانگریس کارکنوں کی یاد میں منعقد کیا جاتا ہے۔

گزشتہ چند دنوں کے دوران ترنمول کانگریس کو کئی سیاسی جھٹکے لگے ہیں۔ متعدد رہنما پارٹی چھوڑ چکے ہیں یا پارٹی کے اندر اختلافات کھل کر سامنے آئے ہیں۔ اس سیاسی ہلچل نے 21 جولائی کے اہم پروگرام سے قبل ریاست کی سیاست میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔