سیاسی

یہ کسان ہیں، دہشت گرد نہیں... نواب علی اختر

کھٹر کے رویئے سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ جس قانون کو مودی حکومت کسانوں کے حق میں بتا رہی ہے، اسی قانون کی دھجیاں اڑاتے ہوئے انہیں کا وزیر اعلیٰ کسانوں کو دھمکی آمیز لہجے میں خبردار کر رہا ہے۔

غازی پور بارڈر پر مظاہرہ کرتے کسان / تصویر آئی اے این ایس
غازی پور بارڈر پر مظاہرہ کرتے کسان / تصویر آئی اے این ایس 

ملک کو اناج فراہم کرنے اور پیٹ کی آگ بجھانے والے کسان ایک بار پھر ا پنے مفادات اور حقوق کی حفاظت کے لیے سڑک پر اترے ہیں۔ نوجوانوں کے ساتھ خواتین اور بچے بھی شامل ہیں یہاں تک کہ ضعیف کسان بھی عصا کے سہارے پیدل مارچ کر تے نظر آرہے ہیں۔ اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر سردی میں سڑک پر بیٹھے کسانوں کا صرف یہی مطالبہ ہے کہ ان کی آواز سنی جائے اور محنت کا اعتراف کرتے ہوئے ان کے حقوق کی حفاظت کی جائے۔ مگر وائے ہو اس حکومت پر جو صبح شام خواتین کو با اختیار بنانے اور بزرگوں کا سہارا بننے یہاں تک کہ نوجوانوں کو ہر طرح سے خود کفیل بنانے کا دعویٰ کرتے نہیں تھکتی ہے، آج اپنا حق مانگنے والے کسانوں پر فائرنگ، آنسو گیس کے گولے اور پانی کی بوچھاریں مار مار کر محنت کشوں کے ساتھ دہشت گردوں جیسا سلوک کر رہی ہے۔

Published: undefined

حد تو تب ہوگئی جب حق کی لڑائی لڑنے والے کسانوں میں خالصتانی عناصر کو شامل بتا کر پر امن مظاہرین کو دہشت گرد بتانے کی کوشش کی گئی۔ پچھلے دنوں مرکزی حکومت کی جانب سے منظور کیے گئے زرعی قوانین کے خلاف کسان کئی ماہ سے احتجاج کر رہے ہیں مگر حکومت کے کان پر جوں تک نہیں رینگی۔ حکمراں طبقہ شاید یہی سوچ رہا تھا کہ ملک بھر کے انصاف پسندوں کو حوصلہ دینے والے شاہین باغ تحریک کو جس طرح ختم کردیا گیا تھا اسی طرح کسانوں کو بھی اپنے گھروں کو لوٹ جانے پر مجبور کردیا جائے گا مگر حکمرانوں کو یہ اندازہ نہیں تھا کہ جب حق کی بات آتی ہے تو ہندوستان کا شہری پیچھے نہیں ہٹتا ہے اور اس کی تازہ مثال کسان تحریک ہے۔

Published: undefined

آخر کارحکومت کو اب کسان تحریک کی سنگینی کا احساس ہوا ہے تبھی وزیر زراعت کے ساتھ ساتھ وزیر داخلہ بھی حرکت میں آئے ہیں۔ ویسے تو مرکز کی مودی حکومت میں ملک کا ہر طبقہ اور ہر شعبہ غیر مطمئن نظر آرہا ہے تاہم لوگ حکومت کے خلاف احتجاج سے ممکنہ حد تک گریزاں ہیں کیونکہ اب تک یہی دیکھا گیا ہے کہ جس نے بھی اپنے حق کی آواز اٹھائی ہے اسے یا تو دہشت گرد ثابت کر کے سلاخوں کے پیچھے دھکیل دیا گیا ہے یا تو غدار ثابت کر کے اس کی زندگی اجیرن کردی گئی ہے۔ مگر اب وقت کے ساتھ ساتھ لوگوں کے خیالات بدل رہے ہیں۔ مختلف شعبہ جات میں اپنے اپنے طور پر احتجاج بھی شروع کردیا گیا ہے لیکن ایک منظم اور جامع انداز میں احتجاج سے ابھی تک مودی حکومت بچی ہوئی ہے۔

Published: undefined

کسان برادری ایسی ہے جس نے وقفہ وقفہ سے احتجاج درج کرواتے ہوئے اپنی ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔ اس سلسلہ میں حکومت کی طاقت کی پرواہ کیے بغیر کئی بار کسان سڑکوں پر اترے ہیں جن پر لاٹھیاں برسائی گئیں، آنسو گیس کے گولے داغے گئے اور فائرنگ تک کی گئی اس کے باوجود کسان اپنے مقصد کے لیے آگے بڑھتے رہے۔ کسانوں کا کہنا ہے کہ مودی حکومت کسانوں کی بہتری اور اصلاحات کے نام پر جو قوانین بنا رہی ہے وہ در اصل انہیں کاروباری طبقے کا غلام بنانے کی کوشش ہے۔ ان نئے قوانین کے نتیجہ میں کسانوں کے مفادات بری طرح سے متاثر ہوں گے اور جس طرح سے تقریباً ہرشعبہ پر کاروباریوں نے قبضہ جمالیا ہے اسی طرح سے زرعی شعبہ بھی کاروباریوں کے رحم و کرم پر چلا جائے گا۔

Published: undefined

یہ ایک اٹل حقیقت ہے کہ مودی حکومت ملک کے تقریباً ہر شعبہ کو مٹھی بھر کاروباریوں کے حوالے کرنے سے گریز نہیں کر رہی ہے۔ ان حالات میں کسانوں کو جو اندیشے ہیں وہ بے بنیاد نہیں ہو سکتے۔ جس وقت اس شعبہ میں کاروباریوں کا داخلہ ہوجائے گا، ان کی اجارہ داری بڑھ جائے گی اور ان کے رحم و کرم پر کسان آجائیں گے اس وقت حکومت بھی کسانوں کو فی الحال دی جانے والی مراعات اور امداد اچانک ختم کر سکتی ہے۔ ہمارے سامنے پٹرولیم مصنوعات کی مثال موجود ہے۔ حکومت کا پٹرول، ڈیزل کی قیمتوں پر اب کوئی کنٹرول نہیں رہ گیا ہے۔ کاروباری طبقہ اپنی مرضی کے مطابق قیمتیں بڑھا رہا ہے۔ کسانوں کا جو احتجاج ہے وہ ان کے اپنے مفادات کے لیے ہے، ان کے اپنے تحفظ کے لیے ہے، حکومت ان کسانوں کے اندیشوں کو دور کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکی ہے۔

Published: undefined

بد قسمتی کی بات یہ ہے کہ اپنے جائز مطالبات کے ساتھ سڑکوں پر اترے کسانوں کو دہشت گرد ثابت کر کے ان کی تحریک کو کمزور کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ان حالات میں بعید نہیں کہ اپنے ہی چند ’تربیت یافتہ‘ لوگوں کو مظاہرین کے درمیان سے گرفتار دکھا کر یہ کہا جائے کہ کسان تحریک کے نام پر لوگوں کو بھڑکا کر حکومت اور کچھ بڑے لیڈروں کے خلاف دہشت گردی کا منصوبہ بنا رہے تھے۔ ایسے امکانات کم ہی ہیں کیونکہ اب تک یہی دیکھا گیا ہے کہ ملک کا کسان حالات اور موسم سے بخوبی واقف ہوتا ہے اور مکمل نظم وضبط کے ساتھ اپنے منصوبے کو پایہ تکمیل تک پہنچاتا رہا ہے۔ مظاہرین کو غیر سماجی عناصر کہنے والے لوگوں کو موقع پر جاکر دیکھنا چاہیے کہ کس طرح کسان سڑک پر بیریکیڈ لگا کر روکنے والے پولیس اہلکاروں کو پانی پلا رہے ہیں اور کھانا کھلاتے نظر آرہے ہیں۔

Published: undefined

اس تحریک کو کسی مذہب کا نام دیا جانا غلط ہوگا کیونکہ سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ویڈیوز میں دیکھا جا رہا ہے کہ جس علاقے سے کسان مارچ کرتے نکل رہے ہیں وہاں ٹوپی پہنے مسلمان نوجوان، بزرگ کھانے پینے کی اشیاء تقسیم کر رہے ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ حکمراں طبقہ اس تحریک کو کمزور کرنے کی کوششوں میں مصروف ہو کر اپنے ہی قانون کی دھجیاں بھی اڑا رہا ہے۔ ہریانہ جیسی کسانوں پر مشتمل ریاست کے وزیر اعلیٰ منوہرلال کھٹر کہتے ہیں کہ وہ (کسان) ان کی ریاست کے نہیں ہیں، کسان تحریک کو پنجاب کے کسانوں نے کھڑا کیا ہے۔ اس تحریک کو کسانوں کے بجائے سیاسی پارٹیوں اور تنظیموں نے منعقد کیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ بھیڑ میں کچھ غیر سماجی عناصر ان سے ملے ہیں، ہم نے رپورٹ کی ہے۔ کھٹر صاحب کا اشارہ واضح طور پر خالصتانی عناصر کی طرف ہے۔ کچھ میڈیا رپوٹوں میں کہا جا رہا ہے کہ اس تحریک میں خالصتانی عناصر بھی شامل ہیں، جو لگاتار مودی مخالف نعرے بازی کر رہے ہیں۔

Published: undefined

ایک روزقبل ہی بی جے پی حکومت کے وزیر اعلیٰ منوہر لال کھٹر نے اپنے ٹوئٹ میں کہا ہے کہ راجستھان کا باجرا ہریانہ میں نہیں بیچنے دیا جائے گا۔ جب کہ انہی کی پارٹی کی قیادت والی مرکزی حکومت کی طرف سے تیار کیے گئے زرعی قانون میں صاف طور پر کہا گیا ہے کہ ملک کا کسان کسی بھی ریاست میں جاکر اپنی پیداوار فروخت کرسکتا ہے۔ کھٹر کے رویئے سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ جس قانون کو مودی حکومت کسانوں کے حق میں بتا رہی ہے، اسی قانون کی دھجیاں اڑاتے ہوئے انہیں کا وزیر اعلیٰ کسانوں کو دھمکی آمیز لہجے میں خبردار کررہا ہے۔ ایسے میں یہی کہا جاسکتا ہے کہ جب حکمراں طبقہ ہی قانون کی دھجیاں اڑائے گا تو ایک عام آدمی اگر ایسا کرے تو کیا غلط ہوگا۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined