سیاسی

بہار میں ووٹ کا حق اور زندگی کی جنگ... عبدالقادر

سیلاب جیسے مشکل حالات میں پھنسی بہار کی نصف سے زیادہ آبادی کے سامنے بڑا سوال ہے کہ زندگی پہلے بچائے یا ووٹ کا حق۔ الیکشن کمیشن کو تو یہ سب نظر ہی نہیں آتا۔

<div class="paragraphs"><p>بہار میں ایس آئی آر، تصویر سوشل میڈیا</p></div>

بہار میں ایس آئی آر، تصویر سوشل میڈیا

 

سرسری طور پر دیکھا جائے تو انتخابی ریاست بہار میں ووٹرس کی فکر کم ہوتی دکھائی دے سکتی ہے، کیونکہ یکم اگست کو شائع مسودہ ووٹر لسٹ میں 7.24 لاکھ ووٹرس کے نام تو ہیں ہی۔ حالانکہ فہرست پر اب بھی سوالیہ نشان ہے، اور یہ بھی کہ کچھ لوگوں کے لیے یہ راحت شاید زیادہ دیر تک نہ رہے، لیکن وہ سب بعد کی بات ہے۔

Published: undefined

کچھ بہادر یوٹیوبرس اور چھوٹے میڈیا اداروں کی تحقیق سے مسودہ ووٹر لسٹ میں نئی نئی بے ضابطگیاں ہر دن سامنے آ رہی ہیں، لیکن الیکشن کمیشن آف انڈیا ہے کہ انھیں ایسی خامیاں بتا کر خارج کر دے رہا ہے جو اس کی نظر میں غور کرنے لائق ہی نہیں ہیں۔

Published: undefined

اس درمیان 65 لاکھ ووٹرس کے نام اچانک ناجائز قرار دے کر ووٹر لسٹ سے ہٹا دیے گئے ہیں۔ جیسا کہ اندیشہ تھا اور پہلے کہا بھی جاتا رہا ہے، ان میں سے بیشتر حاشیہ پر رہنے اور غیر یقینی زندگی جینے کو مجبور غریب، دلت، خواتین اور مسلمان ہیں۔ حالات اتنے خوفناک ہیں کہ اس وقت جب ریاست کا نصف حصہ زیر آب ہے اور لوگ اونچائی والے مقامات، پشتوں، شاہراہوں، پُلوں پر پناہ لے رہے ہیں، اپنے حق رائے دہی کے لیے لڑنا ان کی ترجیح نہیں رہ گیا ہے۔ وہ زندگی پہلے بچائیں کہ ووٹ، بڑا سوال ہے۔ اور یہ سب اس الیکشن کمیشن کی فکر میں قطعی نظر نہیں آتی، جس کا کام ہی یہ یقینی کرنا ہے کہ کوئی بھی بالغ شخص ووٹر بننے سے چھوٹ نہ جائے۔ وہ تو یہ بھی نہیں مانے گا کہ ووٹرس کی گہری نظرثانی کے لیے یہ وقت کسی بھی نظریہ سے مناسب نہیں تھا، ٹھیک ویسے ہی جیسے کہ کٹیہار ضلع کے ایک ہی مخدوش مکان میں 197 ووٹرس ہونے جیسی بے ضابطگیوں کی خبروں اور حیران کرنے والے سوالوں پر وہ آنکھ کان بند کیے بیٹھا رہا۔

Published: undefined

بعد میں اوپر سے ملی ہدایات پر چیف الیکشن کمشنر نے ایک طویل تردید جاری کی، جس میں ’رپورٹرس کلیکٹیو‘ اور ’نیوز لانڈری‘ کے ذریعہ شائع بوتھ سطحی نتائج کو سرے سے خارج کر دیا گیا۔ بہار کیڈر کے سابق آئی اے ایس افسر ویاس جی کہتے ہیں ’’اتنے کم وقت میں اتنے بڑے پیمانے پر کارروائی انتظامی طور سے ممکن نہیں ہے۔ میں کئی انتخابات میں ریٹرننگ افسر اور کئی دیگر ریاستوں کے الیکشن کمیشن کا مبصر بھی رہا ہوں۔ اس پورے عمل سے واقف ہوں۔ اس لیے ایس آئی آر (24 جون کو جاری) کا نوٹفکیشن ہی مجھے عجیب اور بے تُکا لگا، مانو کوئی ’فرمان‘ سنا دیا گیا ہو۔‘‘

Published: undefined

انھوں نے تفصیل سے بتایا کہ نوٹیفکیشن کے لیے تقریباً 16 کروڑ فارم شائع کرنے کی ضرورت تھی، جنھیں بوتھ سطح کے افسران (بی ایل او) کے ذریعہ سے تقریباً 7.9 کروڑ ووٹرس کو دیا جانا تھا، اور رسید کے طور پر ایک کاپی ووٹرس کو رکھنی تھی۔ بی ایل او کو بنیادی تربیت دینے کے ساتھ کاغذی کارروائی سے بھی متعارف کرایا جانا تھا۔ پھر یہ کام اگلے ہی دن شروع کیسے ہو گیا؟ الیکشن کرانے اور کمیشن کے ساتھ کام کرنے کا تھوڑا بھی تجربہ رکھنے والے ریاست کے کئی سبکدوش آئی اے ایس افسر مانتے ہیں کہ کمیشن نے دباؤ میں کام کیا۔

Published: undefined

آخری ووٹر لسٹ یکم ستمبر کو جاری ہونی ہے۔ سیاسی و سماجی کارکنان کو اندیشہ ہے کہ ڈرافٹ ووٹر لسٹ میں شامل کئی ووٹرس کے نام آخری لسٹ میں غائب کر دیے جائیں گے۔ الیکشن کمیشن اس کے لیے ادھورے یا غلط طریقے سے بھرے گئے فارم سے لے کر جعلی پتہ اور غیر قانونی دستاویزات کی کمی جیسے کئی آسان اسباب بتا کر پلہ جھاڑ سکتا ہے۔

Published: undefined

’نیوز لانڈری‘ کی زمینی سچائی کچھ اس طرح تھی: ’’ووٹر لسٹ کا تجزیہ بتا رہا ہے کہ 5 انتخابی حلقوں میں 1.50 لاکھ ووٹرس محض 1200 سے 1300 گھروں کے آس پاس مرکوز ہیں۔ ہم نے غیر معمولی طور پر زیادہ ووٹر والے ایسے 14 معاملوں میں جانچ کی جن میں کچھ درجن سے لے کر کئی سو نام تک ایک ہی پتے پر درج تھے۔‘‘ اس نے 4 انتخابی حلقوں میں رجسٹرڈ ووٹرس کی غیر معمولی طور سے زیادہ تعداد والے 14 معاملوں کی جانچ بھی کی، جہاں عام طور پر سینکڑوں سے بھی زیادہ نام درج تھے۔ پتے بھی اپنے آپ میں واضح نہیں تھے۔ کچھ کی شناخت کے طور پر علاقہ درج ملا، تو کہیں وارڈ نمبر، جس سے وہاں تک پہنچنا تقریباً ناممکن تھا۔

Published: undefined

کٹیہار ضلع کی لسٹ میں ایک ہی گھر میں 100 سے زیادہ ووٹرس عجیب و غریب طریقے سے درج ملے۔ ان میں ہندو اور مسلمان، خصوصی اختیار یافتہ اور حاشیہ پر پڑے لوگ، سب شامل تھے۔ اس مکان کے مالک نے ’نیوز لانڈری‘ سے کہا کہ وہ لسٹ میں درج لوگوں کو نہیں جانتے اور یہ بھی ممکن نہیں لگتا کہ سب ایک ہی وارڈ کے باشندے ہوں۔ کٹیہار میں ’ایک ہی پتے پر 197 ووٹرس‘ کے بارے میں پوچھ تاچھ کرنے پہنچی ایک دیگر میڈیا ٹیم کے ساتھ دھکا مکی کی گئی، ان کے ساتھ ہاتھا پائی ہوئی اور دھمکایا بھی گیا۔ نریندر مودی اور نتیش کمار کو بدنام کرنے والی مہم کا حصہ ہونے کا الزام لگا کر انھیں واپس لوٹنے پر مجبور کر دیا گیا۔

Published: undefined

اخبار ہوں یا ٹی وی چینل، مین اسٹریم کے میڈیا اداروں میں ایسی خبریں عام طور پر ندارد ہیں۔ ’رپورٹرس کلیکٹیو‘ نے اپنی ایک تازہ زمینی رپورٹ میں پایا کہ ’الیکشن کمیشن نے بہار کے پپرا اسمبلی حلقہ کے گلیم پور گاؤں کے ایک ہی گھر میں ایک ساتھ رہنے والے مختلف کنبوں، ذاتوں اور طبقات کے 509 ووٹرس کو رجسٹر کر رکھا ہے۔ یہاں محض تعداد نہیں حیران کرتی، وہ گھر ہی موجود نہیں ہے جس میں یہ سب مبینہ طور پر رہتے ہیں۔ اسی گاؤں کا ایک اور معاملہ ہے جہاں زمینی سطح پر لاپتہ ایک مکان میں الیکشن کمیشن نے 459 لوگوں کو بطور ووٹر درج کر رکھا تھا۔‘

Published: undefined

رپورٹ کے مطابق بہار کے تین اسمبلی حلقوں پپرا، بگہا اور موتیہاری میں، ہماری جانچ میں 3590 ایسے معاملے سامنے آئے جہاں الیکشن کمیشن نے ایک ہی پتہ پر 20 یا اس سے زیادہ لوگوں کو رجسٹر کیا ہے۔ یہاں بھی کئی معاملوں میں گھر موجود نہیں تھے۔ الیکشن کمیشن نے تینوں انتخابی حلقوں میں 80 ہزار سے زیادہ ووٹرس کو کچھ اسی طرح سے درج کر رکھا تھا۔

Published: undefined

ہٹائے گئے ناموں کی طرح ہی نئے جڑے نام بھی حیران کرنے والے ہیں۔ جوڑے گئے کئی ووٹرس فرضی ہو سکتے ہیں اور خاص طور سے اونچی ذاتوں کی آبادی والے علاقوں میں رجسٹر ہیں۔ جبکہ فہرست سے باہر ہو گئے دلت، او بی سی اور مسلم طبقہ کے لوگ بری طرح مایوس ہیں، ان میں بھروسہ بھی بڑھ رہا ہے۔

Published: undefined

مین اسٹریم کے میڈیا اور الیکشن کمیشن نے بھاگلپور کی ووٹر لسٹ میں دو ’پاکستانی خواتین‘ کے نام سامنے آنے پر خوب ہنگامہ مچایا۔ پتہ چلا کہ وہ 1956 میں بہار آئی تھیں، شادی کی اور اب ان کے ناتی پوتے بھی ہیں۔ دہائیوں سے رجسٹر ووٹر لسٹ کے طور پر درج ہیں اور ووٹ دیتی رہی ہیں۔ شروعاتی ہنگامے کے بعد اب اس معاملے میں خاموشی ہے۔ لوگ سوال پوچھ رہے ہیں کہ اگر وہ واقعی پاکستانی شہری تھیں تو ان کا نام پہلی بار میں کیسے درج ہوا؟ اس سوال کا جواب بھی نہیں ملنا تھا، اور نہ ہی ملا۔

Published: undefined

خصوصی گہری نظرثانی میں دیگر طریقوں سے بھی ووٹنگ کا رویہ متاثر کرنے کی کوشش نظر آتی ہے۔ درخشاں اختر اور نوخیز اختر بھائی بہن ہیں اور گیا کے ایک مسلم اکثریتی علاقہ کے ایک ہی گھر میں رہتے ہیں۔ درخشاں بطور ووٹر گیا نگر اسمبلی حلقہ کے پولنگ مرکز نمبر 213 میں رجسٹر ہیں، جبکہ بھائی نوخیز نمبر 216 میں درج ہیں۔ دونوں کو رامپور کا باشندہ دکھایا گیا ہے، جو ان کے گھر سے 2 کلومیٹر دور ہے۔ پولنگ مراکز میں ایسا الٹ پھیر سمجھ سے پرے ہے۔ نوخیز صاف کہتے ہیں کہ وہ رامپور جو ایک ہندو اکثریتی علاقہ ہے، میں جا کر ووٹ ڈالنے کی ہمت تو نہیں کر پائیں گے۔

Published: undefined

اس درمیان میڈیا میں انتہائی کم یا صفر کوریج کے باوجود ووٹر ادھیکار یاترا ’ووٹ چوری‘ سے انکار کرنے والوں کے لیے بڑا جھٹکا ثابت ہوئی ہے۔ دیگر ریاستوں سے آنے والے انڈیا بلاک کے کئی لیڈران نے اس میں شامل ہو کر نہ صرف یکجہتی کا مظاہرہ کیا ہے، بلکہ اس پوری تحریک کو ہی نئی توانائی دے دی ہے۔

Published: undefined

ایسے وقت میں جب میڈیا انڈیا بلاک اور آزاد رکن پارلیمنٹ پپو یادو اور اے آئی ایم آئی ایم کے درمیان شگاف ڈالنے کی کوشش میں نظر آتا ہے، پپو یادو نہ صرف یاترا میں شامل ہوئے بلکہ کھلے الفاظ میں آر جے ڈی لیڈر تیجسوی یادو کو ریاست کے لیے امید کی علامت بتایا۔ اے آئی ایم آئی ایم حامیوں نے انڈیا بلاک کی ریلیوں میں نہ صرف بھاری بھیڑ جمع کی، ان کی پارٹی کو اتحاد میں شامل کیے جانے کا مطالبہ بھی کیا۔ 27 اگست کو یاترا میں شامل ہوئے ڈی ایم کے چیف ایم کے اسٹالن نے اسے ’لوگوں کی تکلیف کو غیر مفتوح طاقت میں بدلنے‘ کا ایک کارگر ذریعہ بتایا۔

Published: undefined

حالانکہ مقامی میڈیا اپوزیشن کے انتخابی امکانات پر سوال اٹھا رہا ہے۔ وی آئی پی کے بااثر لیڈر مکیش سہنی جہاں ’ووٹ چوروں‘ کو سبق سکھانے کی قسمیں کھا رہے ہیں، وہیں روز مرہ کی خبریں بتا رہی ہیں کہ سہنی اور ان کے ساتھی انڈیا بلاک کے لیے ’ایسا گھوڑا‘ ہیں جن پر زیادہ بھروسہ مناسب نہیں۔ ’ذات کے فارمولے‘ اور توازن کی بات کرتے ہوئے کئی رپورٹس کا ایک نتیجہ یہ بھی ہے کہ اوپیندر کشواہا (این ڈی اے کے ساتھی) کا ساتھ ملے بغیر اپوزیشن کے لیے راستہ اتنا آسان نہیں رہے گا۔

Published: undefined

یہاں یاد رکھنا ضروری ہے کہ گزشتہ اسمبلی انتخاب میں جیت کا فرق بہت کم تھا، اور کئی انتخابی حلقوں میں ہٹائے گئے ووٹرس کی تعداد 2020 کی جیت کے فرق سے کہیں زیادہ ہے۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined