
ووٹرس کی فائل تصویر، آئی اے این ایس
کیا ’جین-زی‘ (جنریشن زیڈ) آسام میں بھی وہی کر سکتی ہے جو ہم نے بنگلہ دیش اور نیپال میں دیکھا؟ جیسے جیسے 9 اپریل کو ہونے والے ایک ہی مرحلہ کے اسمبلی انتخاب کے لیے ریاست میں ماحول گرم ہوتا جا رہا ہے، سب کی توجہ اس طبقہ کی طرف مرکوز ہو رہی ہے، جو اب صرف ووٹ دینے والا گروہ نہیں بلکہ فیصلہ کن سیاسی طاقت بن چکا ہے۔ 18 سے 29 سال کی عمر کے ریاست میں 72.83 لاکھ ووٹرس ہیں جو مجموعی 2.5 کروڑ ووٹرس کا تقریباً 30 فیصد ہیں اور یہی طبقہ اس اہم مقابلہ میں ’کنگ میکر‘ ثابت ہونے جا رہا ہے۔
Published: undefined
الیکشن کمیشن آف انڈیا کے مطابق 2026 کی ووٹر لسٹ میں نوجوانوں کی تعداد میں خاصہ اضافہ دیکھا گیا ہے، جس میں 6.28 لاکھ پہلی بار ووٹ دینے والے ووٹرس شامل ہیں۔ جین-زی ووٹروں کا یہ گروہ خاص طور پر متحد ہے، کیونکہ پچھلی نسلوں کے مقابلہ میں یہ لوگ ڈیجیٹل طور پر زیادہ جڑے ہوئے ہیں اور روایتی سیاسی پارٹیوں کے تئیں ان کی وابستگی کم ہے۔ مثلاً گواہاٹی سنٹرل جیسی سیٹوں پر نوجوان امیدواروں کی موجودگی (یعنی آسام جاتیہ پارٹی کی 27 سالہ کنکی چودھری کا بی جے پی کے قدآور لیڈر وجے کمار گپتا کو چیلنج دینا) ایسے بدلاؤ کی طرف اشارہ کرتی ہے جہاں نوجوان اب صرف ووٹ نہیں ڈالنا چاہتے، بلکہ قیادت بھی چاہتے ہیں۔
Published: undefined
سی اے اے مخالف تحریک سے ابھرنے والی آسام جاتیہ پارٹی کی لیڈر کنکی آسامیا شناخت اور ہندوستان کے تمام قانونی طور پر تسلیم شدہ شہریوں کے مفادات کے تحفظ کے لیے ’آسام معاہدہ‘ کو نافذ کرنے کی زوردار وکالت کرتی ہیں۔ یہ بات انہیں بی جے پی، خصوصاً وزیر اعلیٰ ہیمنت بسوا سرما کی اس سخت مہم کے خلاف کھڑا کرتی ہے جو ’میا‘ (بنگلہ بولنے والے مسلمانوں) کے خلاف کارروائی پر مبنی ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ ’’آسام کے موجودہ حالات کو دیکھتے ہوئے ہمیں سب کو مشترکہ علاقائیت پر مبنی جامع نقطۂ نظر اپنانے کی ضرورت ہے۔‘‘
Published: undefined
25 سالہ لوبو نارزری کوکراجھار سے آزاد امیدوار ہیں اور کم عمر ترین امیدواروں میں شامل ہیں۔ نوجوانوں سے ملنے والی زبردست حمایت کا ذکر کرتے ہوئے نارزری بتاتے ہیں کہ کس طرح مختلف پارٹیوں کے ’پاور بروکر‘ سب سے زیادہ بولی لگانے والے کو ہی ٹکٹ دلواتے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ اب وقت آ گیا ہے کہ بدعنوانی اور فرقہ وارانہ نفرت پر مبنی موجودہ سوچ سے آگے بڑھا جائے۔ نارزری نے انگریزی ہفتہ وار ’نیشنل ہیرالڈ‘ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’’میرا ماننا ہے کہ صرف شاپنگ مال اور عمارتیں بنانے کا مطلب ترقی نہیں ہے۔ میرے لیے ترقی تب ہوتی ہے جب لوگ اپنے خاندان کے ساتھ سکون سے رہیں اور اپنی مرضی کا کام کریں۔‘‘ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ’’تشدد اور شناخت کی سیاست تب جنم لیتی ہے جب بدعنوان گروہ اور ڈرگ مافیا پورے نظام پر قبضہ کر لیتے ہیں۔‘‘
Published: undefined
سپالی مارک (31) باؤکھنگری سے کانگریس امیدوار ہیں۔ ان کے سامنے ایک بڑا چیلنج ہے باؤکھنگری کے پیچیدہ سماجی توازن کو سنبھالنا، جہاں بوڈو، گارو اور سنتھال برادریاں مختلف سمتوں میں بٹی ہوئی ہیں۔ مارک نے ’نیشنل ہیرالڈ‘ کو بتایا کہ‘تعلیم، صحت اور روزگار ان کی ترجیحات ہوں گی۔
Published: undefined
دوسری طرف بی جے پی نے اپنے نوجوان کیڈر کی قیادت کو مرکزی دھارے میں لانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس کی ایک مثال دپلو رنجن سرما ہیں، جو نیو گوہاٹی حلقہ سے انتخاب لڑ رہے ہیں۔ سرما بھارتیہ جنتا یووا مورچہ کے ریاستی صدر رہ چکے ہیں۔ 2024 کے ضمنی انتخابات کے بعد وہ اس وقت سرخیوں میں آئے تھے جب انہوں نے کانگریس کے مضبوط قلعہ سمگوری سے جیت حاصل کی تھی۔ حال ہی میں ایک دورہ کے دوران سرما نے بتایا کہ مرکز اور ریاستی حکومتوں اور بلدیاتی اداروں کی مشترکہ کوششوں نے ووٹرس کے درمیان ایک ’مثبت ماحول‘ بنایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’حکومت کے کیے گئے کاموں نے میرا کام آسان کر دیا ہے۔ مجھے صرف لوگوں تک پہنچنا ہے اور ان کی حمایت حاصل کرنی ہے۔‘‘
Published: undefined
کیا آسام کی سیاست ایک ایسے نسلی تبدیلی کے عمل سے گزر رہی ہے جس کے لیے نئے موضوعات اور نئے طریقۂ کار کی ضرورت ہوگی؟ نارزری اور چودھری جیسے امیدواروں کا میدان میں آنا اس بات کا ابتدائی اشارہ ہے کہ آسام کا سیاسی منظرنامہ اب ’جین-زی‘ (نئی نسل) سے زیادہ متاثر ہو رہا ہے۔ یہاں روایتی شناخت کی سیاست کے ساتھ ساتھ ڈیجیٹل مہم اور مقامی ترقی کے مسائل بھی اب مرکز نگاہ بنتے جا رہے ہیں۔ حکومت کے 1.65 لاکھ نوکریاں دینے کے دعوے کے باوجود شہری اور دیہی نوجوان مسلسل پرائیویٹ شعبہ میں مواقع کی کمی اور بہتر پیشہ ورانہ تربیت کی ضرورت کو لے کر آواز اٹھا رہے ہیں۔ کاٹن یونیورسٹی جیسے اداروں کے طلبہ نے عوامی نعروں کے بجائے فیس میں کمی، بہتر تعلیمی سہولیات اور جدید ورک کلچر کا مطالبہ کیا ہے۔
Published: undefined
سوشل میڈیا پر سیاسی باتوں کو سننے اور سمجھنے والوں میں بیشتر نوجوان ووٹرس ہیں، اس لیے آسام کا 2026 کا انتخابی مہم جتنی سڑکوں پر لڑی جا رہی ہے، اتنی ہی اسمارٹ فون پر بھی۔ پارٹیوں نے ڈیجیٹل مہم کی منصوبہ بندی کے لیے اپنے وسائل لگائے ہیں اور نوجوانوں سے جڑے مسائل جیسے ہائی اسپیڈ انٹرنیٹ کی دستیابی، اسٹارٹ اپ کے لیے گرانٹ اور شفاف حکمرانی کو بھی اپنے ایجنڈے میں شامل کیا ہے۔
Published: undefined
ایک طرف جہاں ہیمنت بسوا سرما جیسے پرانے لیڈر اس امید میں کہ لوگ جذبات میں بہہ کر ووٹ دیں گے، اپنی اشتعال انگیز اور فرقہ وارانہ بیان بازی جاری رکھے ہوئے ہیں، وہیں نئی نسل کے لیڈر خاص طور پر اپوزیشن کے ’آسام سونملیت مورچہ‘ (اے ایس ایم) کے لیڈر، روزگار اور مہارت کی کمی، تعلیم اور صحت کے بنیادی ڈھانچے جیسے اہم مسائل پر بات کر رہے ہیں۔ اگرچہ این آر سی، سی اے اے اور دراندازی جیسے پرانے مسائل اب بھی اہم ہیں، لیکن آج کی نوجوان نسل ان مسائل کو صرف نسلی تقسیم کے زاویے سے نہیں بلکہ معاشی استحکام اور سماجی ہم آہنگی کے تناظر میں دیکھتی ہے۔
Published: undefined
جین-زی کے مسائل کا مرکزی دھارے میں آنا، خاص طور پر اے ایس ایم اتحاد کے ذریعہ، اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ اسمبلی انتخابات اب بی جے پی کے لیے آسان نہیں رہیں گے۔ مصنف اور صحافی سنجے ہزاریکا کہتے ہیں کہ ’’اتحاد بننے کا مطلب ہے کہ بی جے پی کو کچھ نشستوں پر سخت مقابلے کا سامنا کرنا پڑے گا۔‘‘ اس کا اندازہ کرتے ہوئے بی جے پی نے اپنی فرقہ وارانہ مہم میں کچھ نرمی لائی ہے۔ ایک باہمی سمجھوتے کے تحت پارٹی نے اپنے اتحادی آسام گن پریشد کو اس بات پر آمادہ کیا ہے کہ وہ اپنی 26 سیٹوں میں سے 13 پر مسلم امیدوار میدان میں اتارے۔
Published: undefined
ہیمنت بسوا سرما جین-زی کے ایک اور جذباتی مسئلہ کو بھی کم کر کے دکھا رہے ہیں۔ یہ مسئلہ آسام کے ثقافتی نشان زوبین گرگ کو انصاف دلانے کا ہے۔ 19 ستمبر 2025 کو سنگاپور میں گرگ کی موت کے بعد سرما نے تحقیقات مکمل ہونے سے پہلے ہی اعلان کر دیا تھا کہ گلوکار کا قتل ہوا ہے اور انہوں نے ان کے خاندان اور مداحوں کو انصاف دلانے کا وعدہ کیا تھا۔ کئی لوگوں کو گرفتار بھی کیا گیا۔ 25 مارچ کو سنگاپور کے اسٹیٹ کورونر ایڈم نخودا نے مبینہ طور پر کہا کہ گرگ کی موت محض ایک افسوسناک حادثہ تھا، کسی نے بھی انہیں زبردستی یا دباؤ میں ڈال کر پانی میں نہیں دھکیلا تھا۔ اس بیان کے ساتھ زبین گرگ کو انصاف دلانے کا وعدہ خاموشی سے پسِ پشت ڈال دیا گیا ہے۔
Published: undefined
10 مارچ کو حکومت نے اپنی ’ارونودے 3.0‘ اسکیم کے تحت 40 لاکھ خواتین کے کھاتوں میں فی خاتون 9,000 روپے منتقل کیے۔ 3,600 کروڑ روپے کے اس ’ڈائریکٹ بینیفٹ ٹرانسفر‘ (ڈی بی ٹی) میں 4 ماہ کی امدادی رقم اور ’بیہو بونس‘ شامل تھا، جس کا مقصد خواتین کی قیادت والے خاندانوں کو بااختیار بنانا تھا۔ اتنے بڑے پیمانے پر مفت سہولیات کی فراہمی یقیناً بی جے پی اور اس کے اتحادیوں کے حق میں جا سکتی ہے۔ لیکن یہ بھی ماننا ہوگا کہ پیسہ، طاقت، جذبات کا استعمال اور حد بندی جیسے انتظامی اقدامات اب تھکا دینے والے اور کم مؤثر دکھائی دے رہے ہیں، کیونکہ آسام کی جین-زی اب مشکل سوالات پوچھنے لگی ہے۔
(مضمون نگار سوربھ سین کولکاتا میں مقیم آزاد مصنف اور تجزیہ کار ہیں)
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined