
راحت اندوری / اے آئی
راحت اندوری اردو شاعری کی اُس توانا، بے باک اور عوامی آواز کا نام ہے جس نے مشاعرے کو محض ادبی محفل نہیں رہنے دیا بلکہ اسے سماجی سوالات، سیاسی طنز اور اجتماعی احساسات کے اظہار کا طاقتور وسیلہ بنا دیا۔ وہ شاعر بھی تھے اور اپنے عہد کے سچے گواہ بھی۔ ان کے لفظوں میں بغاوت، لہجے میں سچائی اور فکر میں عام آدمی کی دھڑکن صاف سنائی دیتی ہے۔
راحت اندوری کی شاعری کی بنیاد روزمرہ زندگی کے تجربات، مشاہدات اور ذاتی کرب پر قائم ہے۔ وہ کلاسیکی روایت سے جڑے رہتے ہوئے جدید حسیت کے نمائندہ شاعر بنے۔ ان کے یہاں نہ تصنع ہے نہ لفظی نمائش، بلکہ سیدھی، صاف اور کاٹ دار بات ہے جو دل سے نکلتی اور دل تک پہنچتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ خواص سے زیادہ عوام میں مقبول ہوئے۔ مشاعروں میں ان کا اندازِ پیشکش ایسا ہوتا کہ سامع محض سننے والا نہیں رہتا بلکہ مکالمے کا حصہ بن جاتا ہے۔
Published: undefined
ان کی شاعری کا سب سے نمایاں پہلو خوف سے انکار ہے۔ وہ اقتدار، جبر، مذہبی تنگ نظری اور سماجی منافقت کے خلاف پوری جرات کے ساتھ کھڑے دکھائی دیتے ہیں۔ ان کا یہ مشہور شعر اسی بے خوف مزاج کی نمائندگی کرتا ہے:
سبھی کا خون ہے شامل یہاں کی مٹی میں
کسی کے باپ کا ہندوستان تھوڑی ہے
یہ شعر محض ایک مصرعہ نہیں بلکہ ایک واضح اعلان ہے کہ وطن کسی ایک طبقے، نظریے یا طاقت کی جاگیر نہیں۔ راحت اندوری کے یہاں طنز تلخ ضرور ہے مگر بازاری نہیں، وہ چبھتا ہے مگر شائستگی کے دائرے میں رہتا ہے۔
Published: undefined
راحت اندوری کی شاعری میں ذاتی کرب اور داخلی استقامت بھی نمایاں ہے۔ وہ اپنی زندگی کے نشیب و فراز کو بلا جھجھک شعر میں ڈھال دیتے ہیں:
اگر خلاف ہیں، ہونے دو، جان تھوڑی ہے
یہ سب دھواں ہے، کوئی آسمان تھوڑی ہے
یہ شعر ان کی فکری خود اعتمادی اور حوصلہ مندی کی علامت ہے۔ وہ اختلاف کو دشمنی نہیں سمجھتے بلکہ اسے زندگی کا فطری حصہ مانتے ہیں۔ یہی رویہ انہیں روایتی شاعروں سے ممتاز کرتا ہے۔
Published: undefined
آج راحت اندوری کا یومِ پیدائش ہے، جو محض ایک شاعر کی تاریخِ ولادت نہیں بلکہ اردو شاعری کی جرات مند روایت کی یاد دہانی بھی ہے۔ اس دن ان کے چاہنے والے صرف انہیں یاد نہیں کرتے بلکہ ان سوالوں، جملوں اور اشعار کو بھی تازہ کرتے ہیں جو انہوں نے اپنے عہد کے سامنے رکھے۔ راحت اندوری نے اپنی شاعری کے ذریعے جو بے خوف لہجہ متعارف کرایا، وہ آج بھی زندہ ہے، سنا جاتا ہے، دہرایا جاتا ہے اور ہر نئے سماجی و سیاسی تناظر میں نئے معنی پیدا کرتا ہے۔ یومِ پیدائش کا یہ موقع اس بات کا ثبوت ہے کہ شاعر جسمانی طور پر رخصت ہو سکتا ہے، مگر اس کی آواز وقت کی قید میں نہیں آتی۔
Published: undefined
محبت بھی راحت اندوری کی شاعری کا ایک اہم موضوع ہے، مگر یہ محض رومانوی جذبہ نہیں بلکہ حقیقت پسندانہ احساس ہے۔ وہ محبت کو سماج، شناخت اور زمین سے جوڑ کر دیکھتے ہیں:
میں جب مر جاؤں تو میری الگ پہچان لکھ دینا
لہو سے میری پیشانی پہ ہندوستان لکھ دینا
یہاں محبت وطن سے ہے، شناخت سے ہے اور اس مٹی سے ہے جس پر شاعر نے آنکھ کھولی اور سچ بولنا سیکھا۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے اشعار نعروں میں ڈھل جاتے ہیں اور جلسوں، احتجاجوں اور مباحثوں کا حصہ بن جاتے ہیں۔
Published: undefined
راحت اندوری کی زبان رواں، محاوراتی اور جدید شہری لہجے کی حامل ہے۔ وہ مشکل الفاظ کے بوجھ کے بغیر گہرا اثر چھوڑتے ہیں۔ یہی سادگی انہیں نوجوان نسل کے قریب لے آئی۔ سوشل میڈیا سے لے کر اسٹیج تک، ان کے اشعار حوالہ بھی بنتے ہیں اور دلیل بھی۔
راحت اندوری کا ادبی سفر اس حقیقت کی گواہی ہے کہ شاعری محض حسنِ بیان کا نام نہیں بلکہ جراتِ اظہار کا تقاضا بھی ہے۔ انہوں نے ہمیں یہ سکھایا کہ شاعر کا کام صرف خواب دکھانا نہیں بلکہ سماج کو آئینہ دکھانا بھی ہے۔ وہ ہمارے عہد کی بے چینی، سوال اور مزاحمت کی علامت بن کر ہمیشہ یاد رکھے جائیں گے۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined