شاعری

فیض احمد فیض: آمریت کے دور میں جمہوریت کی صدا بلند کرنے والا شاعر

فیض احمد فیض اردو شاعری کے وہ انقلابی شاعر تھے جنہوں نے آمریت، ناانصافی اور غلامی کے خلاف قلم اٹھایا۔ ان کی شاعری میں محبت اور انقلاب کا حسین امتزاج آج بھی مزاحمت کی علامت ہے

<div class="paragraphs"><p>فیض احمد فیض / آئی اے این ایس</p></div>

فیض احمد فیض / آئی اے این ایس

 

اردو شاعری کے ممتاز اور انقلابی شاعر فیض احمد فیض کی سالگرہ 13 فروری کو منائی جاتی ہے۔ فیض کو ایسے شاعر کے طور پر یاد کیا جاتا ہے جنہوں نے اپنے اشعار میں انگاروں کی حدت سمو دی اور سماجی ناانصافی، غلامی اور فرسودہ نظریات کے خلاف آواز بلند کی۔ وہ ترقی پسند تحریک کے نمایاں ستون تھے اور ان کی شاعری آج بھی مزاحمت کی علامت سمجھی جاتی ہے۔

Published: undefined

فیض احمد فیض کی زندگی ایک ہمہ جہت شخصیت کی آئینہ دار تھی۔ وہ فوج میں بھی رہے، درس و تدریس سے بھی وابستہ رہے، صحافت کی دنیا میں بھی نمایاں کردار ادا کیا اور سفارتی خدمات بھی انجام دیں۔ ان کی پیدائش 13 فروری 1911 کو غیر منقسم ہندوستان (اب پاکستان) کے ضلع سیالکوٹ کے گاؤں کالا قادر میں ایک تعلیم یافتہ اور خوشحال گھرانے میں ہوئی۔ ان کے والد چوہدری سلطان محمد خان شاہِ افغانستان کے مشیر تھے، جس کے باعث گھر میں علمی اور تہذیبی ماحول میسر تھا۔

Published: undefined

فیض کی ابتدائی تعلیم گھر پر ہوئی، جہاں انہیں دینی اور کلاسیکی علوم سے روشناس کرایا گیا۔ انہوں نے علامہ اقبال کے استاد شمس العلماء سید میر حسن سے تعلیم حاصل کی اور اقبال کو قریب سے دیکھنے کا موقع بھی پایا۔ بعد ازاں انہوں نے گورنمنٹ کالج لاہور سے عربی اور انگریزی میں ایم اے کیا۔ اگرچہ ان کی اعلیٰ تعلیم انگریزی میڈیم سے ہوئی، تاہم گھر کے ماحول نے ان کی شخصیت پر عربی، فارسی اور اردو کے گہرے اثرات مرتب کیے۔

ابتدا میں فیض کی خواہش تدریس کے شعبے سے وابستہ ہونے کی تھی۔ 1935 میں انہوں نے امرتسر کے ایک کالج میں تدریس کا آغاز کیا، جہاں پرنسپل ڈاکٹر محمد دین تاثیر تھے۔ تاثیر ترقی پسند نظریات کے حامل تھے اور لندن سے تعلیم یافتہ تھے۔ فیض کی اہلیہ ایلس اور تاثیر کی اہلیہ آپس میں بہنیں تھیں، جس سے خاندانی تعلقات مزید مضبوط ہوئے۔

Published: undefined

امرتسر میں فیض کو ترقی پسند ادیبوں کی تحریک کا فعال ماحول ملا۔ وہیں ان کی ملاقات صاحبزادہ محمود الظفر اور ڈاکٹر رشید جہاں سے ہوئی، جنہوں نے انہیں سوشلزم اور ترقی پسند فکر سے روشناس کرایا۔ ڈاکٹر رشید جہاں ایک انقلابی خاتون، معالج اور خواتین کے حقوق کی علمبردار تھیں۔

اسی فکری فضا نے فیض کی شاعری کو نئی سمت عطا کی۔ انہوں نے برطانوی ہند کی فوج میں بھی خدمات انجام دیں اور دوسری جنگ عظیم کے دوران ذمہ داریاں سنبھالیں۔ قیامِ پاکستان کے بعد وہ ایک اہم اخبار کے مدیر بنے اور صحافتی میدان میں بھی اپنی شناخت قائم کی۔ ان کی شاعری میں محبت اور انقلاب کا ایسا امتزاج ملتا ہے جو انہیں اپنے معاصرین سے ممتاز بناتا ہے۔

Published: undefined

فیض کو راولپنڈی سازش کیس میں قید و بند کی صعوبتیں بھی برداشت کرنا پڑیں لیکن وہ اپنے نظریات سے پیچھے نہیں ہٹے۔ ان کی مشہور تصانیف ’دستِ صبا‘ اور ’زندان نامہ‘ ان کے اسیری کے دنوں کی عکاس ہیں اور حوصلے، امید اور جدوجہد کی داستان سناتی ہیں۔ فیض احمد فیض کی شاعری محض اردو تک محدود نہیں رہی۔ ان کے کلام کا ترجمہ انگریزی، روسی، فرانسیسی، جرمن اور ہسپانوی سمیت متعدد زبانوں میں ہو چکا ہے۔ ان کی انقلابی اور جذباتی شاعری نے دنیا بھر کے قارئین کو متاثر کیا اور انہیں عالمی سطح پر شناخت دلائی۔

فیض آج بھی اس عہد کی یاد دلاتے ہیں جب شاعری محض حسن و عشق کی ترجمان نہیں تھی بلکہ جبر کے اندھیروں میں روشنی کی کرن بن کر ابھرتی تھی۔ ان کا کلام اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ قلم کی طاقت ہر دور کی آمریت کے مقابل ڈٹ سکتی ہے۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined