پاکستان

پٹرول 340 روپے کے پار اور ڈیزل 368 روپے لیٹر، پاکستانی عوام خون کے آنسو رونے پر مجبور!

مشرق وسطیٰ میں بڑھتے تناؤ اور بین الاقوامی بازار میں خام تیل کی قیمتوں میں بھاری اتار چڑھاؤ کے پیش نظر پاکستان میں حکومت نے ہر 15 دن کے وقفے سے کی جانے والی قیمتوں کے جائزے کا سلسلہ ختم کر دیا ہے۔

<div class="paragraphs"><p>علامتی تصویر، آئی اے این ایس</p></div>

علامتی تصویر، آئی اے این ایس

 

بڑھتی مہنگائی کے درمیان پاکستان کی عوام کو مزید ایک شدید جھٹکا لگا ہے۔ پاکستان میں 22 اگست سے پٹرول 3.81 روپے فی لیٹر اور ہائی اسپیڈ ڈیزل 3.59 روپے فی لیٹر مہنگا ہو گیا ہے۔ ظاہر ہے ایندھن پر بڑھی اس مہنگائی کا اثر ضروری اشیا پر بھی پڑے گا۔ یعنی پاکستانی عوام بڑھتی مہنگائی میں خون کے آنسو رونے پر مجبور ہیں۔ دی گئی جانکاری کے مطابق آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (او جی آر اے) کی جانب سے جاری کی گئی یہ نئی قیمتیں 24 اگست 2026 تک نافذ رہیں گی۔

بہرحال، پٹرول کی قیمت میں 3.81 روپے فی لیٹر اضافے کے بعد اب اس کی نئی قیمت 341.59 پاکستانی روپے ہو گئی ہے۔ اسی طرح ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 3.59 روپے فی لیٹر کے اضافے کے بعد اب 368.29 پاکستانی روپے فی لیٹر ہو گیا ہے۔ بین الاقوامی سطح پر خام تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور ملکی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے شہباز حکومت نے قیمتوں میں یہ اضافہ کیا ہے۔ پاکستان میں اس سے پہلے 21 اگست کو ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ کیا گیا تھا۔ اس وقت پٹرول 27 پیسے اور ڈیزل 1.64 روپے مہنگا ہوا تھا۔

پیٹرولیم ڈویژن کی اطلاع کے مطابق پاکستان میں حکومت عوام سے پٹرول پر 114 روپے فی لیٹر اور ڈیزل پر 100 روپے فی لیٹر ٹیکس اور لیوی وصول کر رہی ہے۔ ملک میں ایندھن کی مسلسل بڑھتی قیمتوں کے باعث لاجسٹکس پر خرچ بڑھ رہا ہے، پبلک ٹرانسپورٹ کا کرایہ بڑھ گیا ہے، ٹرانسپورٹیشن مہنگی ہونے سے روزمرہ کی اشیا بھی مہنگی ہوتی جا رہی ہیں۔ اس سے عام عوام کا جینا محال ہو گیا ہے۔ مشرق وسطیٰ میں بڑھتے تناؤ اور بین الاقوامی بازار میں خام تیل کی قیمتوں میں بھاری اتار چڑھاؤ کے پیش نظر پاکستان میں حکومت نے ہر 15 دن کے وقفے سے کی جانے والی قیمتوں کے جائزے کا سلسلہ ختم کر دیا ہے۔ پٹرولیم وزیر علی پرویز ملک نے اعلان کیا ہے کہ پاکستان میں ایندھن کی قیمتیں اب روزانہ کی بنیاد پر طے کی جا رہی ہیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔