بالی ووڈ کی معروف اداکارہ پونم ڈھلوں اسپتال میں داخل، اداکارہ نے خود دی صحت سے متعلق اپڈیٹ

پونم ڈھلوں کے اسپتال میں داخل ہونے کی خبر ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب سینی اینڈ ٹی وی آرٹسٹس ایسوسی ایشن (سی آئی این ٹی اے اے) میں قیادت کو لے کر تنازعہ جاری ہے۔

فائل تصویر آئی اےاین ایس 
i

بالی ووڈ کی معروف اداکارہ اور سینی اینڈ ٹی وی آرٹسٹس ایسوسی ایشن (سی آئی این ٹی اے اے) کی صدر پونم ڈھلوں ان دنوں ادارے میں جاری تنازعات کی وجہ سے سرخیوں میں ہیں۔ اسی دوران پونم ڈھلوں سے متعلق ایک بڑی خبر سامنے آئی ہے۔ انہیں ڈینگو ہو گیا ہے، جس کی وجہ سے انہیں ممبئی کے لیلاوتی اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔

معروف فلمی صحافی وکی لالوانی نے اپنی سوشل میڈیا پوسٹ میں پونم ڈھلوں کی صحت سے متعلق تازہ معلومات دیتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے صبح پونم ڈھلوں سے میسج کے ذریعہ ان کی طبیعت کے بارے میں دریافت کیا تھا۔ اداکارہ نے وکی کو اپنی صحت کے بارے میں بتایا کہ اب وہ پہلے سے بہتر ہیں اور صحت یاب ہو رہی ہیں۔ فی الحال وہ اسپتال میں ہیں اور ڈاکٹر ان کا علاج کر رہے ہیں۔ پونم ڈھلوں کے اسپتال میں داخل ہونے کی خبر سامنے آنے کے بعد سے ہی ان کے مداح اور چاہنے والے سوشل میڈیا پر ان کی جلد صحت یابی کی دعا کر رہے ہیں۔


واضح رہے کہ پونم ڈھلوں کے اسپتال میں داخل ہونے کی خبر ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب سینی اینڈ ٹی وی آرٹسٹس ایسوسی ایشن (سی آئی این ٹی اے اے) میں قیادت کو لے کر تنازعہ جاری ہے۔ سی آئی این ٹی اے اے میں ہوئے انتخابات کے دوران 11 اراکین کو ان کے عہدے سونپے گئے تھے، لیکن اب 8 افراد نے اپنے عہدوں سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ عہدے چھوڑنے والوں کی فہرست میں اداکار مکیش رشی، ہیمنت پانڈے، ساحل چڈھا، ہیتل پرمار، پُنیت اسّر، وندو دارا سنگھ، دیپک پراشر اور وکاش ورما شامل ہیں۔

ان 8 اراکین نے ایک خط لکھا ہے، جس میں بتایا گیا ہے کہ ایسوسی ایشن کا کام کاج ’سی آئی این ٹی اے اے‘ کی صدر پونم ڈھلوں، سینئر نائب صدر پدمنی کولہاپورے اور ایگزیکٹو کمیٹی کے کچھ دیگر اراکین کے گرد محدود ہو کر رہ گیا تھا۔ ساتھ ہی انہوں نے صدر پونم ڈھلوں پر الزام عائد کیا ہے کہ انہوں نے بغیر کسی مشورے کے کئی بڑے فیصلے کیے۔ انہوں نے اپنی ذاتی ای میل آئی ڈی سے آفیشیل میسج بھیجے۔ ان فیصلوں کے دوران انہوں نے ادارے کے اراکین سے بات چیت نہیں کی۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔