’ٹیسٹ کرکٹ کو ویبھو کی ضرورت‘، راہل دراوڑ نے سوریہ ونشی کے تینوں فارمیٹس میں کھیلنے کی حمایت کی
ویبھو سوریہ ونشی نے اب تک صرف 8 فرسٹ کلاس میچ کھیلے ہیں، ان کی اوسط 17.25 ہے۔ دلیپ ٹرافی میں سوریہ ونشی اس بار ایسٹ زون کی طرف سے کھیل رہے ہیں۔ انہیں ٹیم کا نائب کپتان بھی مقرر کیا گیا ہے۔

ہندوستان کے سابق کپتان راہل دراوڑ کا ماننا ہے کہ ٹیسٹ کرکٹ کو ویبھو سوریہ ونشی جیسے کھلاڑیوں کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ سوریہ ونشی کو ریڈ بال کرکٹ کے لیے کافی وقت اور ایکسپوزر کی ضرورت ہے۔ واضح رہے کہ ویبھو سوریہ ونشی اس بار دلیپ ٹرافی میں ایسٹ زون کی طرف سے کھیل رہے ہیں۔ دلیپ ٹرافی کی شروعات اتوار (23 اگست) سے ہو رہی ہے۔ ویبھو سوریہ ونشی اس دوران ٹیم کے نائب کپتان کے کردار میں بھی نظر آنے والے ہیں۔
ویبھو سوریہ ونشی کرکٹ کی نئی سنسنی بن کر ابھرے ہیں اور انہوں نے آئی پی ایل 2026 میں زبردست کارکردگی کا مظاہرہ کیا تھا۔ رواں سال انگلینڈ کے خلاف ٹی-20 انٹرنیشنل میں انہیں ڈیبیو کا موقع ملا تھا۔ وہ آئندہ ماہ ہونے والے ایشین گیمز کے لیے بھی ہندوستانی ٹیم کا حصہ ہیں۔ راہل دراوڑ جب راجستھان رائلز کے ہیڈ کوچ تھے تو راجستھان فرنچائز نے ویبھو سوریہ ونشی کو آئی پی ایل نیلامی میں خریدا تھا۔ اب دراوڑ نے ویبھو سوریہ ونشی کو ٹیسٹ کرکٹ کے لیے تیار بتا دیا ہے۔
راہل دراوڑ نے یورپیین ٹی-20 پریمیئر لیگ (ای ٹی پی ایل) کے افتتاح کے لیے ڈبلن میں منعقدہ ایک تقریب میں کہا کہ ’’یہ بہت اچھی بات ہے کہ ویبھو کو ہندوستان میں آئی پی ایل کے ذریعہ کچھ محدود اوورس کے فارمیٹس میں کرکٹ کھیلنے کا تجربہ مل رہا ہے، لیکن انہیں ہندوستانی گھریلو سسٹم میں واپس جا کر ریڈ بال کرکٹ کھیلنے اور اپنے ٹیسٹ کیریئر کو آگے بڑھانے کا بھی وقت مل رہا ہے۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ’’اس نوجوان بلے باز کو محدود اوورس اور ٹیسٹ کرکٹ کے درمیان توازن برقرار رکھنے کی ضرورت ہے۔ ہم سب ٹیسٹ کرکٹ کو زندہ رکھنا چاہتے ہیں اور آگے بڑھتے ہوئے دیکھنا چاہتے ہیں۔ ہمیں ویبھو جیسے کھلاڑیوں کی ضرورت ہے تاکہ وہ تمام فارمیٹس میں کھیل سکیں۔‘‘
ہندوستانی ٹیم کے سابق ہیڈ کوچ راہل دراوڑ مزید کہتے ہیں ’’اچھی بات یہ ہے کہ ویبھو سوریہ ونشی کو کچھ وقت لگے گا، اسے کچھ تجربے کی ضرورت ہوگی اور اسے بہت سارا ٹیسٹ کرکٹ کھیلنے کا موقع ملے گا۔ اس نے شاید محدود اوورس کے فارمیٹس میں جتنی کرکٹ کھیلی ہے، اتنی ٹیسٹ کرکٹ نہیں کھیلی۔ وہ صرف 15 سال کا ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ آپ کو اسے کچھ وقت دینا ہوگا اور اس کے ساتھ صبر سے کام لینا ہوگا۔ ظاہر ہے کہ وہ وشروع سے ہی بہت کامیاب رہا ہے، لیکن اسے بھی اپنے اچھے اور برے دور سے گزرنا ہوگا اور مجھے لگتا ہے کہ لوگوں کو اس کے ساتھ صبر سے کام لینا ہوگا۔‘‘
دراوڑ کا ماننا ہے کہ ٹی-20 کے مواقع کے پیچھے بھاگنے کے بجائے ڈومیسٹک ٹیسٹ کرکٹ کھیلنے سے بطور بلے باز ویبھو کی ترقی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ ’’ہم سب کو یاد رکھنا چاہیے کہ ویبھو کی عمر صرف 15 سال ہے اور انہیں ابھی ایک طویل سفر طے کرنا ہے۔ مجھے امید ہے کہ سوریہ ونشی ایک دن اعلیٰ سطح کی ریڈ بال کرکٹ میں قدم رکھ سکیں گے اور ہندوستان کے لیے تمام فارمیٹس میں کھیلنے والے کھلاڑی بن سکیں گے۔ یہ عالمی کرکٹ کے لیے حوصلہ افزا ہوگا۔‘‘ واضح رہے کہ سوریہ ونشی نے اب تک صرف 8 فرسٹ کلاس میچ کھیلے ہیں۔ ان کی اوسط 17.25 ہے۔ دلیپ ٹرافی میں سوریہ ونشی کو کم از کم 2 مسلسل فرسٹ کلاس میچ کھیلنے کا موقع مل سکتا ہے۔
