
پاکستان میں مہنگائی کے باعث کئی خاندانوں کے لیے اب آخری رسومات کا اخراجات بھی اٹھانا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ راولپنڈی میں دفنانے کا خرچ اتنا بڑھ گیا ہے کہ غریب خاندانوں کو اپنے پیاروں کی آخری رسومات کے لیے قرض لینا پڑ رہا ہے۔ یہ صورتحال عام پاکستانیوں پر پڑ رہے معاشی دباؤ کو واضح طور پر دکھاتا ہے۔ اگرچہ سرکاری اعداد و شمار معاشی استحکام اور تھوڑی بہت معاشی اضافے کی بات کرتے ہوں، لیکن خاندانوں پر معاشی بوجھ اس قدر بڑھ رہا ہے جسے نظر انداز کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔
’دی ایکسپریس ٹریبیون‘ کی حالیہ رپورٹ کے مطابق مہنگائی نے راولپنڈی میں کم آمدنی والے خاندانوں کے لیے آخری رسومات اور دفنانے کے نظام کو ایک بڑا معاشی چیلنج بنا دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق پڑوسیوں اور مقامی رضاکاروں کے ذریعہ مفت میں قبر کھودنے کی پرانی روایت اب تقریباً ختم ہو چکی ہے۔ خاندانوں کو اب ان خدمات کے لیے بھی پیسے دینے پڑتے ہیں جو پہلے عطیات کے طور پر دستیاب تھیں۔ ساتھ ہی شہر بھر کے قبرستان میں جگہ تیزی سے ختم ہو رہی ہے۔ کئی قبرستانوں میں ایسے بورڈ لگے ہیں جن پر لکھا ہے کہ دفنانے کے لیے کوئی جگہ دستیاب نہیں ہے۔
آخری رسومات کے اخراجات تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔ کفن کی قیمت اب 3000 سے 4000 روپے کے درمیان ہے، جبکہ آبِ گلاب، کپور، اگربتی اور پھولوں کی پنکھڑیاں جیسی ضروری چیزوں پر 2000 سے 2500 روپے کا خرچ آتا ہے۔ دفنانے کے لیے جگہ لینے، قبر کھودنے اور اسے اینٹوں سے تیار کرنے میں 40000 سے 45000 روپے تک کا خرچ آ سکتا ہے۔ متوفی کو غسل دینے کے لیے مزدوری کے طور پر 1000 سے 1500 روپے لگتے ہیں۔ جو خاندان پکی قبر بنوانا چاہتے ہیں ان کے لیے خرچ اور بھی بڑھ جاتا ہے۔ اینٹ اور سیمنٹ سے بنی عام قبر کی قیمت تقریباً 15000 روپے ہوتی ہے، جبکہ کم کوالیٹی والے ماربل فنش سے یہ خرچ 25000 روپے تک پہنچ سکتا ہے۔ ماربل کے زیادہ بہتر ڈھانچہ بنوانے پر خرچ 30000 روپے سے بھی زیادہ ہو سکتا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کئی کم آمدنی والے اور متوسط طبقہ والے خاندان صرف آخری رسومات کی رسمیں مکمل کرنے لیے قرض کے بوجھ تلے دب رہے ہیں۔ کچھ معاملات میں جگہ کی کمی کا معاملہ اس قدر سنگین ہو گیا ہے کہ پرانی قبروں کو ہٹانے یا دوبارہ استعمال کرنے کی خبریں بھی آ رہی ہیں۔ آخری رسومات میں ہونے والے زیادہ اخراجات اس جانب اشارہ کرتے ہیں کہ مہنگائی نے خاندانوں کی اچانک آنے والے اخراجات کو اٹھانے کی صلاحیت کو آہستہ آہستہ کیسے ختم کر دیا ہے۔
قابل ذکر ہے کہ پاکستان کی معیشت آج اس بحران کی حالت میں نہیں ہے جیسے 3 سال قبل تھی۔ گروتھ واپس آ گئی ہے اور ’کور میکرو-اکنامک انڈیکیٹرس‘ میں بہتری آئی ہے۔ پھر بھی عام شہریوں کی زندگی میں تبدیلی کا بوجھ صاف طور پر نظر آتا ہے۔ یہ حقائق کہ آخری رسومات کا اخراجات کئی خاندانوں کے لیے قرض کی وجہ بن گیا ہے، یہ بتاتا ہے کہ اکنامک ریفارم خاہ کتنا بھی حقیقی کیوں نہ ہو اب تک آبادی کے بڑے حصے کے لیے معاشی راحت میں نہیں بدل پایا ہے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔