پاکستان

پاکستان: بچوں کے سامنے فرانسیسی خاتون کی عصمت دری معاملہ کے قصوروار کو سزائے موت، ایلن مسک نے کی تعریف

9 ستمبر 2020 کی شب ایک فرانسیسی خاتون اپنے 3 بچوں کے ساتھ سیالکوٹ-لاہور موٹروے پر سفر کر رہی تھی۔ دیر رات ان کی کار کا ایندھن ختم ہو گیا، جس سے فیملی سڑک کنارے پھنس گئی اور پھر شرمناک حادثہ پیش آیا۔

عدالت، تصویر آئی اے این ایس
عدالت، تصویر آئی اے این ایس 

پاکستان میں پیش آئے ایک سنسنی خیز معاملہ میں لاہور ہائی کورٹ نے 2 زانیوں کی سزائے موت کو برقرار رکھا ہے۔ ان اشخاص کو ایک فرانسیسی سیاح سے اس کے بچوں کے ساتھ اجتماعی عصمت دری کرنے کا قصوروار ٹھہرایا گیا تھا۔ یہ واقعہ ستمبر 2020 میں سیالکوٹ-لاہور موٹروے پر پیش آیا تھا، جب خاتون کی کار کا ایندھن ختم ہو گیا تھا۔ پاکستانی عدالت کے اس فیصلے کی ٹیسلا کے چیف ایگزیکٹیو افسر ایلن مسک نے کھل کر تعریف کی ہے۔ انھوں نے ’ایکس‘ پر جاری ایک پوسٹ میں لکھا کہ ’’شاباش پاکستان۔ مغرب میں بھی ہمیں ایسا ہی کرنا چاہیے۔‘‘

Published: undefined

9 ستمبر 2020 کی شب ایک فرانسیسی خاتون اپنے 3 بچوں کے ساتھ سیالکوٹ-لاہور موٹروے پر سفر کر رہی تھی۔ دیر رات ان کی کار کا ایندھن ختم ہو گیا، جس سے فیملی سڑک کنارے پھنس گئی۔ اس واقعہ کی جانچ کرنے والوں کے مطابق خاتون نے مدد کا انتظار کرتے ہوئے کار کے اندر ہی رہنے اور دروازے بند رکھنے کی کوشش کی۔ اسی دوران حملہ آوروں نے کار کی کھڑکی توڑ دی، خاتون کو باہر گھسیٹا اور اس کے بچوں کے سامنے بندوق کی نوک پر عصمت دری کو انجام دیا۔ اس کے بعد انھوں نے فیملی سے نقدی، زیورات، بینک کارڈ لوٹ لیے اور فرار ہو گئے۔

Published: undefined

اس واقعہ کے بعد جرائم پیشوں کی تلاش تیزی سے شروع کی گئی۔ پولیس نے موبائل فون ڈاٹا کا استعمال کر کے مشتبہ افراد کی تلاش کو محدود کیا۔ اس کے بعد جرم والی جگہ سے ملے ڈی این اے ثبوت کی بنیاد پر ملزمین کو گرفتار کیا۔ جانچ کرنے والوں نے بتایا کہ متاثرہ نے قانونی کارروائی کے دوران دونوں مردوں کی شناخت کی تھی۔ پکڑے گئے ملزمین میں سے ایک شفقت علی نے مجسٹریٹ کے سامنے اپنا جرم قبول بھی کر لیا تھا۔ ان ثبوتوں کی بنیاد پر ایک انسداد دہشت گردی عدالت نے مارچ 2021 میں دونوں کو اجتماعی عصمت دری، اغوا، ڈکیتی اور دہشت گردی سے متعلق جرائم کا قصوروار ٹھہراتے ہوئے موت کی سزا سنائی تھی۔ اس کے ساتھ ہی انھیں تاحیات قید اور اضافی جیل کی سزائیں بھی دی گئی تھیں۔

Published: undefined

اس بہیمانہ جرم نے پورے پاکستان میں احتجاجی مظاہروں اور ناراضگی کو جنم دیا تھا۔ اس وقت کے لاہور پولیس چیف عمر شیخ کے تبصروں نے اس غصے کو مزید بڑھا دیا تھا، جنھوں نے سوال اٹھایا تھا کہ خاتون رات میں سفر کیوں کر رہی تھی اور اسے کوئی دوسرا راستہ چننا چاہیے تھا۔ بہرحال، لاہور ہائی کورٹ میں داخل اپنی اپیل میں قصورواروں کے وکلاء نے فریق استغاثہ کے معاملہ میں کمزوریوں اور خامیوں کا دعویٰ کیا تھا۔ وکیلوں نے ثبوتوں کو ناقابل بھروسہ بتاتے ہوئے سزا کو رد کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ حالانکہ فریق استغاثہ نے عدالت کو بتایا کہ دونوں مردوں کے خلاف معاملہ مضبوط ثبوتوں پر مبنی ہے۔ اس کے ساتھ ہی ذیلی عدالت نے سبھی دستیاب مواد کی احتیاط کے ساتھ جانچ کے بعد ہی فیصلہ سنایا تھا۔

Published: undefined

پاکستانی میڈیا آؤٹ لیٹ ’ڈان‘ کی رپورٹس کے مطابق جج فریق استغاثہ کی دلیلوں سے متفق ہوئے اور بدھ کو دونوں قصورواروں کی اپیلوں کو کارج کر دیا۔ اس فیصلے کے ساتھ ذیلی عدالت کے ذریعہ سنائی گئی موت کی سزا اب اثر انداز رہے گی۔

Published: undefined

Follow us: WhatsAppFacebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined