’سمادھان‘ یعنی نام بڑے، درشن چھوٹے...اے جے فلپ
جہاں عقیدے، تاریخ اور شناخت کے بنیادی سوالات شامل ہوں، وہاں ثالثی کے ذریعے مفاہمت آسان نہیں ہوتی۔ ایسے معاملات میں انصاف کا تقاضا قانونی اور حتمی عدالتی فیصلے سے ہی پورا ہو سکتا ہے

سپریم کورٹ اپنی اس منفرد اور تخلیقی پہل کے لیے یقیناً داد کا مستحق ہے، جسے ’سمادھان‘ (سپریم کورٹ ایکشن فار میڈیٹڈ ایڈجوڈیکیشن اینڈ ڈسپیوٹس اکراس نیشن) کا نام دیا گیا ہے۔ یہ عدلیہ کی اس خواہش کی عکاسی کرتی ہے کہ طویل عدالتی مقدمات کے بجائے ثالثی اور باہمی رضامندی کے ذریعے تنازعات کے حل کو فروغ دیا جائے۔ البتہ ایک بات قابلِ غور ہے کہ عدالت بھی وزیر اعظم نریندر مودی کی دلکش مخففات (اکرونیمز) رکھنے کی پالیسی سے متاثر نظر آتی ہے۔
سپریم کورٹ نے 21 سے 23 اگست تک تین روزہ ’سمادھان تقریب‘ کے انعقاد کا اعلان کیا ہے، جس کا مقصد مختلف نوعیت کے تنازعات، حتیٰ کہ بعض نہایت حساس مذہبی معاملات کو بھی ثالثی کے ذریعے حل کرنا ہے۔ اس جذبے کی ستائش کی جانی چاہیے، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا نیک نیتی اور ثالثی ان تنازعات کو ختم کر سکتی ہے جو کئی دہائیوں سے حل طلب چلے آ رہے ہیں؟
تاریخ اس بارے میں کچھ اور ہی کہانی سناتی ہے۔ ایودھیا تنازع نے مفاہمت اور باہمی سمجھوتے کی بے شمار کوششیں دیکھی ہیں۔ ان کوششوں میں کانچی کے شنکراچاریہ اور آئی پی ایس افسر سے محقق بننے والے کشور کنال سمیت کئی نمایاں شخصیات شامل تھیں۔ متعدد باوقار افراد نے ایسا فارمولہ تلاش کرنے کی کوشش کی جسے دونوں برادریاں قبول کر سکیں، لیکن کوئی بھی کوشش کامیاب نہ ہو سکی۔ اس کی وجہ نہایت سادہ تھی۔
کسی بھی کامیاب ثالثی کے لیے ایسے مجاز نمائندوں کی ضرورت ہوتی ہے جو ایسا معاہدہ کر سکیں جسے ان کی پوری برادری تسلیم کرنے کی پابند ہو۔ نہ ہندوؤں کے پاس کوئی ایسا واحد ادارہ موجود ہے اور نہ مسلمانوں کے پاس، جسے سب کی جانب سے مذاکرات کرنے کا اختیار حاصل ہو۔ جو بھی فرد یا تنظیم کسی ایک فریق کی نمائندگی کا دعویٰ کرتی، اسے فوراً ہی اپنے مخالفین کی جانب سے حد سے زیادہ جھکاؤ اختیار کرنے کا الزام سہنا پڑتا۔ مذاکرات کرنے والوں کے پاس اس بات کی کوئی ضمانت نہیں تھی کہ ان کی اپنی برادری کسی سمجھوتے کا احترام کرے گی۔ زمینی حقیقت یہی تھی کہ ایسے حالات میں پیچھے ہٹ جانا ہی دانش مندی سمجھا گیا۔ بالآخر ایودھیا تنازع پر فیصلہ سپریم کورٹ کو ہی سنانا پڑا۔
نومبر 2019 میں جب فیصلہ سنایا گیا تو پورے ملک میں غیر معمولی امن و سکون دیکھنے میں آیا۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ تھی کہ دونوں برادریاں کئی دہائیوں تک جاری رہنے والی عدالتی کارروائی کے بعد خود کو عدالت کے فیصلے کو قبول کرنے کے لیے ذہنی طور پر تیار کر چکی تھیں۔ فیصلے کا متفقہ ہونا، وسیع پیمانے پر سکیورٹی انتظامات، امن و امان برقرار رکھنے کی مسلسل اپیلیں اور عام طور پر اس حقیقت کو تسلیم کر لینا کہ ملک کی سب سے بڑی عدالت اپنا فیصلہ سنا چکی ہے، ان تمام عوامل نے کسی بڑے انتشار کو جنم لینے سے روکنے میں اہم کردار ادا کیا۔
اس آئینی بنچ میں اُس وقت کے چیف جسٹس رنجن گوگوئی اور جسٹس ایس اے بوبڈے، ڈی وائی چندرچوڑ، اشوک بھوشن اور ایس عبدالنظیر شامل تھے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ فیصلے میں ہندو فریق کے بعض شواہد میں موجود کمزوریوں کا اعتراف بھی کیا گیا تھا، اور یہ بھی واضح طور پر درج کیا گیا کہ 1992 میں بابری مسجد کا انہدام قانون کی حکمرانی کی سنگین خلاف ورزی تھا۔ عدالت نے یہ بھی تسلیم کیا کہ مسلمانوں کو غیر قانونی طور پر ان کی مسجد سے محروم کیا گیا تھا۔
اس کے باوجود تاریخی شواہد کے مجموعی جائزے اور بھگوان رام کے جنم استھان کے بارے میں ہندوؤں کے عقیدے کو مدنظر رکھتے ہوئے، عدالت نے پوری متنازعہ زمین رام مندر کی تعمیر کے لیے مختص کر دی اور یہ ہدایت دی کہ مسجد کی تعمیر کے لیے کسی دوسری جگہ پانچ ایکڑ زمین فراہم کی جائے۔ دوسرے لفظوں میں، عدالت نے وہی کیا جس کی عدالتوں سے توقع کی جاتی ہے، یعنی اس نے تنازع کا فیصلہ سنایا، خواہ اس کے حق میں یا مخالفت میں جو بھی دلائل موجود رہے ہوں۔
اس موقع پر 1991 کے ’عبادت گاہ (خصوصی دفعات) قانون‘ کا ذکر مناسب معلوم ہوتا ہے، جو پی وی نرسمہا راؤ کی قیادت والی کانگریس حکومت کے دور میں پارلیمنٹ سے منظور کیا گیا تھا۔ اس قانون کے تحت 15 اگست 1947 کو موجود تمام عبادت گاہوں کی مذہبی حیثیت کو برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا تھا، جس میں صرف ایودھیا کو استثنا حاصل تھا۔ اس قانون نے کسی بھی عبادت گاہ کو کسی دوسری مذہبی شناخت میں تبدیل کرنے پر پابندی عائد کر دی اور ایسے تمام مقدمات کا راستہ بند کر دیا جن کا مقصد کسی عبادت گاہ کی تاریخی مذہبی حیثیت کو تبدیل کرانا ہو۔
یہ قانون پارلیمنٹ کے اس واضح اور مضبوط عزم کا اظہار تھا کہ آزاد ہندوستان کو قرونِ وسطیٰ کی تاریخ کو ہمیشہ کے لیے کریدتے نہیں رہنا چاہیے۔ اٹل بہاری واجپائی اور نریندر مودی کی حکومتوں سمیت بعد کی حکومتوں نے بھی اس قانون کو برقرار رکھا، غالباً اس احساس کے تحت کہ صدیوں پرانے تنازعات کو دوبارہ زندہ کرنے سے فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔
ایودھیا تحریک کی قیادت کرنے والی تنظیمیں طویل عرصے سے یہ دعویٰ کرتی رہی ہیں کہ قرونِ وسطیٰ کے حملوں کے دوران سینکڑوں بلکہ ہزاروں مندروں کو منہدم کر کے ان کی جگہ مساجد تعمیر کی گئی تھیں۔ اگر ایسے ہر دعوے کو عدالتی مقدمے کا موضوع بنا لیا جائے تو ہندوستان اپنی آئندہ نسلوں کو مستقبل کی تعمیر کے بجائے ماضی کی کھدائی میں الجھائے رکھے گا۔
عدالتیں ایسے تاریخی تنازعات سے بھر جائیں گی جہاں ججوں سے زیادہ ماہرینِ آثارِ قدیمہ، مؤرخین اور مذہبی علوم کے ماہرین کی ضرورت پیش آئے گی۔ ہر متنازع ڈھانچہ فرقہ وارانہ صف بندی اور عوامی جذبات کو بھڑکانے کا مرکز بن سکتا ہے۔ ملک کی توانائیاں تعلیم، صحت، روزگار، بنیادی ڈھانچے اور سائنسی ترقی کے فروغ کے بجائے تاریخی تنازعات میں صرف ہونے لگیں گی۔ آزاد ہندوستان ایسا ملک نہیں بن سکتا جو اپنی ہر مبینہ تاریخی غلطی کی اصلاح ہی کو اپنا مستقل مشن بنا لے۔ بدقسمتی سے، 1991 میں طے پانے والا وہ اتفاقِ رائے اب بتدریج کمزور پڑتا جا رہا ہے۔
اس عمل کا آغاز متھرا سے ہوا۔ دسمبر 2023 میں الٰہ آباد ہائی کورٹ نے شاہی عیدگاہ کمپلیکس کا عدالتی نگرانی میں سروے کرانے کا حکم دیا تھا، جس پر سپریم کورٹ نے جنوری 2024 میں روک لگا دی۔ بظاہر یہ تمام کارروائی 1991 کے قانون کی روح کے منافی تھی۔ سپریم کورٹ ابتدا ہی میں یہ واضح کر سکتی تھی کہ ماتحت عدالتوں کو ان معاملات کو دوبارہ کھولنے کا اختیار حاصل نہیں ہے، جنہیں پارلیمنٹ نے واضح طور پر منجمد کر دیا ہے۔
اسی نوعیت کا معاملہ گیان واپی مقدمے میں بھی سامنے آیا، جہاں وضوخانے کے سروے کے بعد یہ دعویٰ کیا گیا کہ وہاں پائی جانے والی ایک شے ’شیولنگ‘ ہے۔ مسلم فریق کا مؤقف تھا کہ وہ وضو کے لیے استعمال ہونے والے فوارے کا ایک حصہ ہے۔ اس شے کی حقیقی نوعیت جو بھی ہو، اس تنازع نے قانونی اور سیاسی منظرنامے کو یکسر تبدیل کر دیا اور 1991 کے قانون کو کمزور کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔
سنبھل میں بھی یہی کہانی دہرائی گئی۔ شاہی جامع مسجد کی حیثیت پر سوال اٹھاتے ہوئے ایک دیوانی مقدمہ دائر کیا گیا اور مقامی عدالت نے فوری طور پر سروے کا حکم جاری کر دیا۔ اس کے نتیجے میں فوراً فرقہ وارانہ کشیدگی میں اضافہ ہوا۔ افواہیں تیزی سے پھیلیں، احتجاجی مظاہرے شروع ہوئے اور پرتشدد جھڑپیں ہوئیں جن میں کئی افراد ہلاک ہو گئے۔ اس واقعے نے یہ واضح کر دیا کہ حساس مذہبی تنازعات میں، اس بنیادی قانونی سوال پر غور کیے بغیر کہ آیا ایسا مقدمہ عبادت گاہیں قانون کے تحت ممنوع ہے یا نہیں، کارروائی کو آگے بڑھانا کس قدر خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔
تاج محل کے حوالے سے بھی اسی نوعیت کے دعوے سامنے آتے رہے ہیں۔ مغل شہنشاہ شاہ جہاں نے اپنی اہلیہ ممتاز محل کی یاد میں اس تاریخی عمارت کی تعمیر کرائی تھی اور اسے مغل طرزِ تعمیر کے شاہکاروں میں شمار کیا جاتا ہے۔ اس کے باوجود وقتاً فوقتاً یہ دعویٰ کیا جاتا رہا ہے کہ یہاں اصل میں ایک ہندو مندر موجود تھا۔ آگرہ کی ایک مقامی عدالت ان دعوؤں کو مسترد کر چکی ہے، لیکن اس کے باوجود عدالتی کارروائیاں مختلف شکلوں میں جاری ہیں۔
حال ہی میں الٰہ آباد ہائی کورٹ نے اس معاملے سے متعلق کارروائی میں فوٹوگرافی اور ویڈیوگرافی کرانے کی ہدایت دی ہے۔ ایسے میں یہ سوال پیدا ہونا فطری ہے کہ کیا ہر نئے سروے کے نتیجے میں پوشیدہ مذہبی علامات کے بارے میں نئے دعوے سامنے آتے رہیں گے؟ اس طرح کی مشقیں 1991 کے قانون کے اس بنیادی مقصد کو کمزور کرنے کا خطرہ رکھتی ہیں، جس کا مقصد تاریخی قیاس آرائیوں کو موجودہ دور کی عدالتی لڑائیوں میں تبدیل ہونے سے روکنا تھا۔
اہم بات یہ ہے کہ سپریم کورٹ نے خود عبادت گاہ (خصوصی دفعات) قانون کی آئینی حیثیت کو چیلنج کرنے والی درخواستوں کی سماعت کی اجازت دے رکھی ہے۔ جب کسی قانون کی آئینی حیثیت ہی عدالتی جانچ کے دائرے میں آ جائے تو ان تنازعات کے بارے میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہونا ناگزیر ہے، جنہیں پارلیمنٹ ہمیشہ کے لیے ختم کرنا چاہتی تھی۔
اس پس منظر میں یہ توقع کرنا کہ متھرا، کاشی اور سنبھل کے تنازعات ’سمادھان‘ کے ذریعے حل ہو جائیں گے، شاید ضرورت سے زیادہ خوش فہمی ہوگی۔ دونوں فریق پہلے ہی ثالثی کے عمل کے حوالے سے اپنے تحفظات ظاہر کر چکے ہیں۔ جب معاملہ عقیدے، تاریخ اور شناخت جیسے بنیادی سوالات سے جڑا ہو تو باہمی رضامندی پر مبنی سمجھوتے تک پہنچنا انتہائی دشوار ہو جاتا ہے۔
لہٰذا سپریم کورٹ کے پاس شاید وہی راستہ اختیار کرنے کے سوا کوئی چارہ نہ بچے، جو اس نے بالآخر ایودھیا معاملے میں اختیار کیا تھا، یعنی شواہد کا جائزہ لینا، قانون کی تشریح کرنا اور ایک ایسا فیصلہ صادر کرنا جو تمام فریقوں پر لازم ہو۔
’سمادھان‘ اگرچہ نیک نیتی کے جذبے کے ساتھ وجود میں آیا ہے، لیکن جہاں ثالثی ممکن نہ ہو وہاں انصاف کا تقاضا مفاہمت نہیں بلکہ واضح قانونی فیصلے کا ہوتا ہے۔ سپریم کورٹ مشکل فیصلوں سے گریز کر کے اپنے آئینی فرائض ادا نہیں کر سکتی۔
(اے جے فلپ سینئر صحافی اور قومی امور کے معروف تجزیہ کار ہیں)
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
