امریکہ کے بغیر جینا سیکھ رہے ہیں خلیجی ممالک...اشوک سوین

ایران جنگ اور علاقائی کشیدگی نے خلیجی ممالک کو امریکی سکیورٹی پر مکمل انحصار پر نظرثانی پر مجبور کر دیا ہے۔ سعودی عرب اب ایک متوازن اور کثیرالجہتی علاقائی سکیورٹی نظام تشکیل دینے کی کوشش کر رہا ہے

<div class="paragraphs"><p>علامتی تصویر / اے آئی</p></div>
i

مغربی ایشیا میں ایک غیر مستحکم جنگ بندی کے بعد ایک بار پھر بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان خلیجی بادشاہتیں ایک غیر آرام دہ حقیقت کا سامنا کر رہی ہیں۔ پرانا سکیورٹی نظام اگرچہ مکمل طور پر منہدم نہیں ہوا، لیکن اس کی ساکھ ضرور متاثر ہوئی ہے۔ کئی دہائیوں تک خلیجی ممالک امریکی سکیورٹی چھتری کے زیر سایہ رہے، جہاں وہ تیل، فوجی اڈوں کی سہولت اور تزویراتی وفاداری کے بدلے تحفظ، اسلحہ اور سفارتی حمایت حاصل کرتے رہے۔ یہ سودا برابری کی بنیاد پر نہیں تھا، لیکن قابلِ اعتماد ضرور سمجھا جاتا تھا۔ ایران کے ساتھ جنگ نے ان پرانی مفروضات کی کمزوری کو نمایاں کر دیا ہے۔

اس حقیقت کو سعودی عرب سے بہتر شاید ہی کوئی اور ملک سمجھتا ہو، جو خلیجی نظام کا تزویراتی مرکز ہے۔ جب ریاض اپنی پالیسیوں میں تبدیلی کرتا ہے تو پورا خطہ اس کے اثرات محسوس کرتا ہے۔ قطر ثالثی کے کردار میں سرگرم رہ سکتا ہے، متحدہ عرب امارات اپنی آزاد خارجہ پالیسی پر گامزن رہ سکتا ہے، عمان اپنی غیر جانب داری برقرار رکھ سکتا ہے، جبکہ بحرین اور کویت علاقائی کشیدگی کے خطرات سے نمٹنے کے لیے دونوں فریقوں کے ساتھ تعلقات قائم رکھ کر اپنے مفادات کا تحفظ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس کے باوجود خلیجی سلامتی کے مستقبل کا انحصار بالآخر اس نتیجے پر ہوگا جس پر سعودی عرب پہنچتا ہے کہ واشنگٹن پر مکمل انحصار اب ایک تزویراتی خطرہ بن چکا ہے۔

ایران کے ساتھ جنگ نے امریکہ کو غیر متعلق نہیں بنایا، بلکہ اسے ناکافی ثابت کر دیا ہے۔ خلیج میں امریکہ کی فوجی طاقت اب بھی بے مثال ہے، لیکن ان ممالک کا اس کی سیاسی بصیرت اور فیصلوں پر اعتماد کمزور پڑا ہے، جنہوں نے واشنگٹن کو ایران اور اسرائیل کے ایسے تصادم میں مداخلت کرتے دیکھا جس سے بچا جا سکتا تھا اور جس کے نتائج اب پورا خلیجی خطہ بھگت رہا ہے۔ امریکی فوجی اڈے، جنہیں کبھی تحفظ کی علامت سمجھا جاتا تھا، اچانک عدم تحفظ کے مراکز بن گئے ہیں۔ قطر، بحرین، کویت اور متحدہ عرب امارات اب یہ سیکھ رہے ہیں کہ اپنی سرزمین پر امریکی افواج کو جگہ دینے کا مطلب مغربی ایشیا میں امریکہ کے مخالفین کے غصے کا سامنا کرنا بھی ہے۔ اگرچہ سعودی عرب براہِ راست حملوں سے محفوظ رہا ہے، لیکن وہ بھی اسی نتیجے پر پہنچا ہے۔

خلیجی ممالک کی سلامتی سے متعلق پیچیدگیاں اس وقت مزید بڑھ گئیں جب اسرائیل نے اچانک ایران سے اپنی توجہ ہٹا کر ترکی پر مرکوز کر دی۔ ترکی کے صدر رجب طیب اردوان نے بارہا اسرائیل پر توسیع پسندانہ عزائم رکھنے کا الزام عائد کیا ہے، جبکہ اسرائیلی قیادت شام میں ترکی کی بڑھتی ہوئی فوجی موجودگی اور اس کے وسیع تر علاقائی عزائم کو ایک طویل المدتی تزویراتی خطرہ تصور کرتی ہے۔ جو تنازع ابتدا میں ایک سفارتی اختلاف تھا، وہ اب ایک ایسے جغرافیائی سیاسی تصادم میں تبدیل ہوتا جا رہا ہے جو خطے کو ایک بار پھر عدم استحکام کے نئے دور کے دہانے پر لا کھڑا کر سکتا ہے۔


خلیجی رہنماؤں کے لیے اسرائیل اور ترکی کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی تشویش کا باعث ہے، کیونکہ دونوں ہی امریکہ کے قریبی شراکت دار ہیں اور واشنگٹن اپنے دو ایسے اتحادیوں کے درمیان توازن قائم کرنے کی کوشش کر رہا ہے جو ایک دوسرے پر اعتماد نہیں کرتے۔ ٹرمپ انتظامیہ نے انقرہ کے ساتھ تعلقات میں بہتری کی کوشش کی ہے اور اشارہ دیا ہے کہ ترکی کو ایف-35 لڑاکا طیاروں کے پروگرام تک دوبارہ رسائی دی جا سکتی ہے۔ اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے خبردار کیا ہے کہ ترکی کو جدید امریکی لڑاکا طیارے فراہم کیے جانے سے خطے میں طاقت کا توازن بنیادی طور پر تبدیل ہو سکتا ہے۔ امریکہ اب بھی اسرائیل کا سب سے اہم اور ناگزیر فوجی سرپرست ہے، لیکن خلیجی بادشاہتوں کا دہائیوں پرانا سکیورٹی ضامن خود خطے کی بڑی طاقتوں کے درمیان الجھا ہوا دکھائی دیتا ہے۔

ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے لیے یہ صورت حال محض ایک نظری جغرافیائی سیاسی مسئلہ نہیں ہے، بلکہ ان کے "ویژن 2030" کے قومی تبدیلی کے منصوبے کے لیے براہِ راست چیلنج ہے۔ یہ منصوبہ بڑے پیمانے پر غیر ملکی سرمایہ کاری، تیل پر انحصار میں کمی، سیاحت اور توانائی کے شعبوں میں تنوع، سیاسی استحکام اور اس تصور پر قائم ہے کہ سعودی عرب سرمایہ کاری اور تجارت کے لیے ایک محفوظ اور پُرکشش ملک ہے۔ علاقائی جنگیں ان تمام عزائم کے لیے خطرہ بن سکتی ہیں۔ سعودی عرب کے مستقبل کو نقصان پہنچانے کے لیے ضروری نہیں کہ ریاض پر میزائل ہی گرائے جائیں؛ سیاسی غیر یقینی صورت حال خود تجارتی اور معاشی غیر یقینی کو جنم دیتی ہے، جو سرمایہ کاروں کو دور رکھنے کے لیے کافی ہے۔

اسرائیل اور ترکی کے درمیان بڑھتی ہوئی دشمنی ان خطرات میں مزید اضافہ کر رہی ہے۔ شام اس کشمکش کا مرکزی میدان بن چکا ہے، جہاں دونوں ممالک کے مفادات ایک دوسرے سے ٹکرا رہے ہیں۔ شمالی شام میں ترکی کی فوجی موجودگی اور اسے محدود کرنے کے لیے اسرائیل کی کوششیں دونوں کو براہِ راست تصادم کے قریب لے آئی ہیں۔ علاقائی امور کے ماہرین کے مطابق اسرائیلی اور ترک افواج کے درمیان براہِ راست تصادم ایک وقت میں ناقابلِ تصور سمجھا جاتا تھا، لیکن اب اس امکان کو یکسر مسترد نہیں کیا جا سکتا۔ اس تنازع میں کسی بھی قسم کی شدت خلیجی ممالک پر اثر انداز ہوگی، جس سے تجارت، سرمایہ کاری اور توانائی کی منڈیوں میں خلل پڑ سکتا ہے اور واشنگٹن بھی اس بحران میں الجھ سکتا ہے۔

اسی وجہ سے سعودی عرب خاموشی کے ساتھ ایک متبادل سکیورٹی ڈھانچہ تشکیل دینے کی کوشش کر رہا ہے۔ وہ امریکہ سے اپنے تعلقات ختم نہیں کر رہا۔ ریاض بخوبی جانتا ہے کہ امریکہ کی فوجی صلاحیت، اس کے میزائل دفاعی نظام، خفیہ معلومات کے نیٹ ورک اور سفارتی اثر و رسوخ کا فی الحال کوئی متبادل موجود نہیں۔ چین خلیج میں فوجی ذمہ داریاں سنبھالنے میں دلچسپی نہیں رکھتا، جبکہ روس کے پاس نہ مطلوبہ صلاحیت ہے اور نہ ہی وہ ساکھ جو اس کردار کے لیے ضروری ہے۔ پاکستان اور ترکی دفاعی شراکت داری فراہم کر سکتے ہیں، لیکن وہ امریکی سکیورٹی نظام کی جگہ نہیں لے سکتے۔ اسرائیل اگرچہ غیر معمولی فوجی صلاحیتوں کا حامل ہے، تاہم اسے ایک غیر متوقع اور غیر مستحکم علاقائی کردار کے طور پر بھی دیکھا جاتا ہے۔


ریاض ایک جانب جدید امریکی اسلحہ خریدنے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے اور دوسری جانب ترکی، پاکستان، جنوبی کوریا، چین اور یورپی ممالک کے ساتھ دفاعی تعاون کو فروغ دے رہا ہے۔ سعودی عرب مقامی سطح پر اسلحہ سازی، ڈرون ٹیکنالوجی، میزائل دفاعی نظام اور سائبر صلاحیتوں میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کر رہا ہے۔ اس کے ساتھ ہی وہ ایسے متبادل تجارتی راستوں، پائپ لائنوں اور لاجسٹک راہداریوں کی تلاش میں بھی ہے جو آبنائے ہرمز جیسے حساس بحری راستوں پر انحصار کو کم کر سکیں۔

سعودی عرب نے ایک ایسی حقیقت کو تسلیم کر لیا ہے جسے بہت سے لوگ نظر انداز کرتے ہیں، اور وہ یہ کہ خلیج میں کسی بھی سکیورٹی انتظام میں ایران کو شامل کیے بغیر پائیدار استحکام ممکن نہیں۔ ایران کو محدود کیا جا سکتا ہے، اس پر پابندیاں عائد کی جا سکتی ہیں، اس کے ساتھ مذاکرات کیے جا سکتے ہیں یا اس کے اثر و رسوخ کو قابو میں رکھنے کی کوشش کی جا سکتی ہے، لیکن اسے مکمل طور پر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ ایران ایک جغرافیائی حقیقت ہے اور اس کے پاس ایسی عسکری صلاحیتیں موجود ہیں جو خطے پر اثر انداز ہو سکتی ہیں۔ اس کے پاس میزائل، ڈرون، اتحادی نیٹ ورکس اور سمندری تجارت میں خلل ڈالنے کی صلاحیت موجود ہے۔ حالیہ جنگ نے یہ بھی واضح کر دیا ہے کہ کمزور پڑا ہوا ایران بھی اپنے پڑوسی ممالک پر بھاری قیمت عائد کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ چنانچہ تہران کے ساتھ سعودی عرب کے تعلقات میں بہتری اسی زمینی حقیقت کے ادراک کا اظہار ہے۔

یہی حقیقت پسندانہ طرزِ فکر ترکی اور اسرائیل کے حوالے سے ریاض کی پالیسی کی بنیاد بھی ہے۔ سعودی عرب ان دونوں ممالک کے ساتھ دشمنی کا خواہاں نہیں۔ وہ ترکی کے ساتھ تعاون پر مبنی تعلقات قائم رکھنا چاہتا ہے، جس کی تیزی سے ترقی کرتی ہوئی دفاعی صنعت اس کے لیے خاص کشش رکھتی ہے۔ اسی طرح ضرورت پڑنے پر وہ اسرائیل کے ساتھ بھی براہِ راست تعلقات برقرار رکھنے کا راستہ کھلا رکھتا ہے۔ متحدہ عرب امارات ایران کے بارے میں اپنے عدم اعتماد اور اسرائیل کے ساتھ تعاون کو کبھی پوشیدہ نہیں رکھتا۔ قطر ثالثی کو اپنی سکیورٹی پالیسی کا بنیادی جزو سمجھتا ہے، جبکہ عمان تہران اور خلیجی ممالک کے درمیان ایک اہم سفارتی پل کا کردار ادا کرتا رہا ہے۔

کویت اور بحرین نے بھی احتیاط کے ساتھ اپنی پوزیشن کو متوازن رکھنے کی کوشش کی ہے اور ایران کے ساتھ سفارتی روابط کو برقرار رکھا ہے، تاہم یہ توازن نہایت نازک ہے، جس کا اندازہ ان ممالک میں موجود امریکی فوجی اڈوں پر ایرانی حملوں کے حالیہ دعووں سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے۔


سعودی عرب اس سے بھی زیادہ وسیع اور اہم مقصد کے حصول کی کوشش کر رہا ہے، یعنی ایک ایسا نیا علاقائی نظام تشکیل دینا جس میں امریکہ اب بھی ناگزیر کردار ادا کرے، لیکن وہ سکیورٹی کا واحد ضامن نہ ہو؛ ایران کے ساتھ اختلافات کے باوجود تعلقات برقرار رکھے جائیں؛ ترکی ایک اہم تزویراتی شراکت دار ہو؛ چین اقتصادی ستون کی حیثیت رکھتا ہو اور اسرائیل ایک بااثر علاقائی طاقت کے طور پر موجود رہے۔

اس مرحلے پر یہ کہنا مشکل ہے کہ یہ نازک توازن کامیاب ہو سکے گا یا نہیں۔ خلیجی ممالک کے پاس جدید ترین فوجی ہتھیاروں کی کمی نہیں، لیکن ان کے پاس اجتماعی سکیورٹی کا مؤثر نظام موجود نہیں ہے۔ ایران کے ساتھ جنگ نے ثابت کر دیا ہے کہ انتہائی جدید دفاعی نظام بھی مکمل تحفظ کی ضمانت فراہم نہیں کر سکتے۔ اس جنگ نے توانائی کے بنیادی ڈھانچے، سمندری پانی کو قابلِ استعمال بنانے والے منصوبوں اور عالمی سپلائی چین کی کمزوریوں کو بے نقاب کیا ہے۔ مزید برآں، اس تنازع کے پھیلنے سے خلیجی معیشتوں میں مستقبل کی ممکنہ سرمایہ کاری سے متعلق خطرات بھی نمایاں ہو گئے ہیں۔

(مضمون نگار اشوک سوین سویڈن کی اپسالا یونیورسٹی میں امن اور تنازعات کے مطالعات کے پروفیسر ہیں)

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔