
آپریشن ہیروف 2.0، علامتی تصویر
اے آئی
پاکستان کے بلوچستان خطہ میں علیحدگی پسند تنظیم ’بلوچستان لبریشن آرمی‘ (بی ایل اے) نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی ایک بڑی فوجی مہم ’آپریشن ہیروف 2.0‘ 40 گھنٹے سے زیادہ مدت تک چلی۔ اس دوران کئی اضلاع میں حملے کیے گئے اور پاکستانی سیکورٹی فورسز کو شدید نقصان پہنچایا گیا۔ بی ایل اے چیف جیند بلوچ کے مطابق اس آپریشن میں پاکستانی فوج، پولیس اور فرنٹیر کور کے 200 سے زائد جوان ہلاک ہوئے ہیں، جبکہ 17 لوگوں کو پکڑا گیا ہے۔ انھوں نے یہ بھی بتایا کہ بی ایل اے کی طرف سے کران، مستُنگ، تمپ اور پسنی جیسے علاقوں میں مہم مکمل کی گئی۔ علاوہ ازیں کوئٹہ اور نوشکی کے کچھ حصوں میں پاکستانی فوج کو پیچھے دھکیلا گیا ہے۔ حالانکہ ان دعووں کی فی الحال تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔
Published: undefined
بلوچستان کے وزیر اعلیٰ سرفراز بگتی نے اس آپریشن سے متعلق میڈیا کو بتایا کہ بلوچوں کے حملوں میں 17 سیکورٹی اہلکار اور 31 عام شہری مارے گئے ہیں۔ پاکستانی فوج نے اس بارے میں مطلع کیا کہ جمعہ کو 41 اور ہفتہ کو 92 شورش پسند مارے گئے ہیں۔
Published: undefined
مہم کی سب سے حیران کرنے والی بات یہ رہی کہ اس میں خاتون فدائین (خود کش حملہ آور) بھی شامل تھیں۔ آصفہ مینگل نے نوشکی میں انٹر سروسز انٹلیجنس (آئی ایس آئی) ہیڈکوارٹر کو ہدف بنا کر کام بم سے حملہ کیا۔ موصولہ اطلاع کے مطابق وہ مجید بریگیڈ کی رکن تھیں اور 2023 میں تنظیم میں شامل ہوئی تھیں۔ دوسری طرف گوادر فرنٹ پر ہوا بلوچ نامی خاتون فدائین نے اپنے ہدف کو کامیابی کے ساتھ حاصل کیا۔ پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ کم از کم 2 حملوں میں خواتین شامل تھیں۔
Published: undefined
بہرحال، بلوچستان لبریشن آرمی نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ ’آپریشن ہیروف 2.0‘ کے دوران اس کے بھی 18 لڑکے مارے گئے، جن میں 11 مجید بریگیڈ کے فدائین اور 4 فتح اسکواڈ کے ساتھ ساتھ 3 ایس ٹی او ایس یونٹ کے اراکین شامل تھے۔ اس درمیان بی ایل اے نے دعویٰ کیا کہ اس نے نوشکی کے ڈپٹی کمشنر اور اسسٹنٹ کمشنر کو حراست میں لینے کے بعد ’انسانی بنیاد‘ پر چھوڑ دیا۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined