پاکستان

پاکستان کے سابق وزیر اعظم عمران خان کی بہن علیمہ خان کے خلاف غیر ضمانتی وارنٹ جاری

خصوصی سرکاری وکیل ظہیر شاہ نے کہا کہ ’’کوئی بھی ملزم عدالت پر اپنی شرطیں نہیں تھوپ سکتا اور نہ ہی عدالتی عمل میں رکاوٹ ڈال سکتا ہے۔ علیمہ خان کا رویہ شروع سے ہی غیر ذمہ دارانہ رہا ہے۔‘‘

<div class="paragraphs"><p>عمران خان کی بہن علیمہ خان / آئی اے این ایس</p></div>

عمران خان کی بہن علیمہ خان / آئی اے این ایس

 

پاکستان کے راولپنڈی میں واقع ایک انسداد دہشت گردی عدالت (اے ٹی سی) نے پیر (2 فروری)  کو ملک کے سابق وزیر اعظم عمران خان کی بہن علیمہ خان کے خلاف غیر ضمانتی وارنٹ جاری کر دیا ہے۔ یہ معاملہ 2024 کے نومبر ماہ میں راولپنڈی کے گیریژن ٹاؤن میں ہوئے ایک احتجاج سے منسلک ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق عدالت نے یہ غیر ضمانتی وارنٹ اس لیے جاری کیا کیونکہ علیمہ خان کئی بار سمن بھیجے جانے کے باوجود سماعت کے دوران پیش نہیں ہوئیں۔ سماعت کے دوران ان کے وکیل فیصل ملک نے دلیل دی کہ جب تک علیمہ خان کے بینک اکاؤنٹس اور آئی ڈی کارڈ فریز رہیں گے، تب تک وہ عدالت میں پیش نہیں ہوں گی۔

Published: undefined

سماعت کے دوران خصوصی سرکاری وکیل ظہیر شاہ نے کہا کہ کوئی بھی ملزم عدالت پر اپنی شرطیں نہیں تھوپ سکتا اور نہ ہی عدالتی عمل میں رکاوٹ ڈال سکتا ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ عدالت نے معاملے کی روزانہ سماعت کا حکم دیا ہے اور علیمہ خان کا رویہ شروع سے ہی غیر ذمہ دارانہ رہا ہے۔ راولپنڈی کی اے ٹی سی کورٹ نے دونوں فریق کے دلائل سننے کے بعد علیمہ خان کو ذاتی طور پر پیش ہونے سے چھوٹ کے مطالبے کو خارج کر دیا۔ اس کے ساتھ ہی ان کے ضمانت دار کو بھی نوٹس جاری کیا گیا اور معاملے کی آئندہ سماعت کو منگل (3 فروری) تک کے لیے ملتوی کر دیا گیا۔ عدالت نے راولپنڈی کے پولس سپرنٹنڈنٹ (ایس پی) کو یہ ہدایت دی کہ علیمہ خان کو گرفتار کر کل (3 فروری) کو عدالت میں پیش کیا جائے۔ عدالت نے یہ بھی حکم دیا کہ جب تک علیمہ خان عدالت میں پیش نہیں ہوتیں، ان کے بینک اکاؤنٹس اور آئی ڈی فریز ہی رہیں گے۔

Published: undefined

واضح رہے کہ مذکورہ معاملہ 26 نومبر 2024 کے احتجاجی مظاہرے سے منسلک ہے، جس میں علیمہ خان اور دیگر 10 افراد کے خلاف الزام عائد کیے گئے ہیں۔ اس روز پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے حامیوں نے عوامی جلسوں پر عائد پابندی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اسلام آباد میں داخل ہو گئے اور ڈی چوک کے پاس سیکورٹی فورسز کے پاس جھڑپیں ہوئیں۔ صورتحال کو قابو میں کرنے کے لیے پاکستانی پولیس کو آنسو گیس کا استعمال کرنا پڑا۔ پی ٹی آئی کا یہ تین روزہ احتجاج پارٹی کے بانی عمران خان کی رہائی کے مطالبے کے لیے تھا، لیکن سیکورٹی فورسز کے ساتھ پرتشد جھڑپوں کے بعد یہ احتجاج اچانک ختم ہو گیا۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined